مولوی صاحب پڑھے لکھے اور عقلمند آدمی تھے۔ نہایت ہوشیاری سے اس مشکل سے نکل گئے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے حلال ضرور کی تھی مگر مجھے نہیں معلوم کس کی تھی۔ سجاول موچی مجھے بلا کر لے گیا تھا،اسی نے کھال بھی اتاری تھی اسے ہی پتہ ہو گا۔‘‘
حکم ہوا، ’’سجاول موچی کو حاضر کیا جائے۔‘‘
سجاول موچی کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کمی کمینوں کے پاؤں تلے زمین ہی کتنی ہوتی ہے۔
پورب والوں نے دھمکی دی، ’’ٹھیک ٹھیک بات کرنا ورنہ پلٹ کر گاؤں کا رخ نہ کرنا۔‘‘
پچھم والوں نے پیغام بھیج دینا کافی سمجھا۔ ’’زیادہ بقراط سقراط بننے کی کوشش نہ کرنا ورنہ نتیجہ کے تم خود ذمہ دار ہو گے۔‘‘
سجاول کی سمجھ میں نہ آیا کیا کرے کیا نہ کرے۔ اس نے تاوان کے طور پر اپنی گرہ سے پوری رقم ادا کر دینا چاہی، مگر استغاثہ نے کہا، ’’ہمیں پیسوں کی ضرورت نہیں۔ یہ شریکے کا معاملہ ہے ہم انہیں اندر کروا کر دم لیں گے۔‘‘ اسے بار بار ایک ہی راستہ سجھائی دیتا۔ گھر کے سامان اور لوگوں کو ساتھ لے کر راتوں رات کہیں ہجرت کر جائے مگر اس طرح اس کے مفرور قرار دیئے جانے کا ڈر تھا۔
میں نے اس کی ہمت بندھائی، ’’کتاب میں لکھا ہے۔ سانچ کو آنچ نہیں۔‘‘
اس نے کہا، ’’تمہارا علم میرے کام نہیں آ سکتا کاکا۔ وہ کتابی باتوں پر عمل نہیں کرنے دیں گے نہ انہوں نے کتابیں پڑھی ہیں۔‘‘
وہ بولی، ’’ابا۔۔۔ اگر تم نے جھوٹی گواہی دی تو تم خدا کو اور میں اپنی سہیلیوں کو کیا منہ دکھاؤں گی۔‘‘
کہنے لگا، ’’تو نہیں جانتی بیٹی خدا تو پھر معاف کر دیتا ہے مگر یہ ظالم لوگ کبھی معاف نہیں کریں گے۔ مجھ سے صاف سیدھا سچ نہ بلواؤ،درمیان کا کوئی تیسرا راستہ بتاؤ۔‘‘
ہم تینوں سر جوڑ کر بیٹھے مگر ہمیں درمیان کا کوئی تیسرا راستہ سجھائی نہ دیا۔ اسی بحث و تکرار اور شش و پنج میں بہت سے دن گزر گئے اور تاریخ کا دن آ گیا۔
وہ متذبذب سا کسی تیسرے راستے کے بارے میں سوچتا ہوا چلا گیا۔ مگر جب وہ بیان دینے لگا تو اس کے منہ سے وہی کچھ نکلا جو اس نے دیکھا سنا تھا۔
وہ خود بھی حیران تھا کہ کب اور کیسے اس نے سچ کے زہر کا پیالہ منہ سے لگا لیا۔ باہر آ کر اس نے ان سے معافی مانگنا چاہی مگر انہوں نے بھیڑیوں جیسے منہ پھاڑ کر کہا، ’’تمہارے اپنے گھر میں بھی بھیڑ ہے۔ اب دیکھتے ہیں تم اسے کیسے بچاتے ہو۔‘‘
وہ سر سے پاؤں تک کانپ گیا۔اس نے سوچا تھا بہت ہوا تو سیپ بند کر دیں گے یا زیادہ سے زیادہ گاؤں سے نکال دیں گے مگر اس نے یہ کچھ نہیں سوچا تھا۔ یوں یہ کوئی ایسی انہونی یا بعید از قیاس بات بھی نہیں تھی۔ وہ اپنے برابر کے شریکوں کی بھیڑ دن دیہاڑے ذبح کر کے ہڑپ کر سکتے تھے۔ وہ تو ایک غریب کمی تھا جس کا کوئی جوان بیٹا نہ بھائی۔ اس کی سمجھ میں ایک ہی بات آئی کہ بھاگم بھاگ کسی طرح ان سے پہلے گاؤں پہنچ جائے۔
طالب دعا ۔۔۔
(محمّد عنصر عبّاس)
(03336700515)
اگلے روز گاؤں میں صبح تو ہوئی مگر ہر طرف گہری خاموشی تھی۔ لگتا تھا چڑیاں آج گھونسلوں سے باہر نہیں آئیں۔ فاختائیں گھگھو گھوہ الاپنا، بطخیں جوہڑوں میں تیرنا اور کوے منڈیروں پر بیٹھ کر بچھڑے ہوؤں کے سندیسے دینا بھول گئے۔ گلیوں میں اداسی کی دھول اڑنے لگی، درخت سرگوشیاں کرتے، آہیں بھرتے اور گلیوں کے آر پار کی کچی پکی دیواریں ایک دوسرے کے گلے سے لگ کر بین کرنا چاہتیں۔
ہنس کر بات کرنا اس کی عادت تھی اور اس نے جس کسی سے بھی بات کی تھی وہ سر میں خاک ڈالے گریبان پھاڑے گلیوں میں ٹھوکریں کھاتا پھرتا تھا۔ تنوروں نے اس روز ادھ جلی روٹیوں کو جنم دیا۔ پنگھٹ کے کنوئیں کی چرخی سے رونے کی سی آواز نکلی اور بوکا اتنا وزنی ہو گیا کہ نکالنا مشکل ہو گیا۔ لگتا تھا پنج پھولاں رانی کے بدن کی روشنی سے محروم ہو کر پوری بستی ویران اور تاریک ہو گئی ہے۔
اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ ننھیال سے اس کا ماموں آیا اور راتوں رات اسے ساتھ لے گیا کیونکہ ممانی سخت بیمار تھی مگر کسی کو اس بات پر یقین نہ آیا۔ سب جانتے تھے کہ وہ اپنے ماموں زاد سے بیاہ کرنے سے انکار کر چکی تھی اور اس کے ننھیال والے ایک عرصہ سے خفا تھے مگر کسی کو اس بات کی بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ گئی کس کے ساتھ تھی۔ وہ جس جس کے ساتھ بھاگ سکتی تھی، وہ سب تو ٹھنڈی آہیں بھرتے،گلیوں کی خاک چھانتے پھرتے تھے۔ اس کی ہمجولیوں میں سے صرف شیدو مہترانی کو جو گھروں میں صفائی کا کام کرنے جاتی تھی معلوم تھا کہ اس کی جون بدل گئی تھی اور کھیتوں کھلیانوں میں ہرنی کی طرح قلانچیں بھرنے، پیڑوں پر پینگیں جھولنے اور تتلی کی طرح ہوا کے دوش پر اڑتی پھرنے والی چنچل لڑکی راتوں رات ایک مریل سی بھیڑ میں تبدیل ہو گئی تھی اور خونخوار بھیڑیوں کے خوف سے ایک بڑی حویلی کے چھوٹے سے تاریک کونے میں دبکی ہوئی تھی۔
میں جگہ جگہ گھومتا اور اس کے لئے افواہیں اور خبریں جمع کرتا۔ اس کی خاطر قتل کرنے اور پھانسی چڑھ جانے والوں کی ڈینگیں سنتا۔ گاؤں کے لوگوں کی باتیں اور گھبروؤں کی شکلیں دیکھ کر مجھے ہنسی آتی اور یہ سوچ کر میرا سینہ فخر سے تن جاتا کہ جس روشنی کے اوجھل ہونے کی وجہ سے سارا گاؤں تاریکی میں ڈوب گیا تھا وہ دن رات ہمارے گھر کے پسار اور کوٹھڑی میں جگمگاتی اور نور برساتی تھی۔ خوشی کے مارے میرے اندر میرا ہم عمر کان پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز میں ڈھولے گاتا۔
’’چھتی بمبی اے ٹاہلی۔ ہیٹھ اے بھیڈاں دا واڑا
بھیڈاں نیں ڈب کھڑبیاں ۔۔‘‘
مگر پھر یہ سوچ کر کہ خونخوار بھیڑیئے اس کی بو سونگھتے ہوئے اس تک پہنچ گئے تو کیا ہو گا۔ میں پریشان ہو جاتا اور اندر ہی اندر غصے کی سل پر انتقام کی چھریاں رگڑنے لگتا۔ ایک ساتھ بہت سے گھوڑوں پر سوار ہو کر باگھ بگھیوں کے گرد گھیرا ڈال لیتا۔
وہ مجھ سے گلیوں، چوپالوں اور تھڑوں پر ہونے والی باتیں سنتی۔ بادشاہوں اور خوبصورت رانیوں کی کہانیاں سنتی سناتی اور بھیڑیوں کے تیز دانتوں اور نوکیلے پنجوں کے خوف کو ایک طرف رکھ کر ہنسی مذاق کی باتیں کرتی۔اس کے ہنسنے کا منظرعجیب ہوتا۔ میری آنکھیں چندھیا سی جاتیں۔ میرے اندر سے دگنی عمر کا مرد نکل کر اس کے قدموں میں بیٹھ جاتا اور کہتا،
’’اذن دو۔ میں ساری دنیا کے بھیڑیوں کے پیٹ پھاڑ آؤں۔‘‘
وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیتی اور مدھم سریلی آواز میں عبدالستار کی یوسف زلیخا گنگنانے لگتی۔
’’ہے میں ایسے مار مکائیاں دیسوں دور کرائیاں۔‘‘
پھر ایک ایک کر کے میری سکول کی کتابیں اور گھر میں موجود پنجابی سی حرفیاں اور بارہ ماہے ختم ہو گئے مگر چاروں طرف پھیلی ہوئی خوف کی سیاہ رات ختم نہ ہوئی۔
وہ سارا دن اندر چھپی رہتی رات کے وقت تھوڑی دیر کے لئے باہر آتی۔اس نے چھابے اور چنگیریں بنا بنا کر گھر کی ساری پڑچھتیاں بھر دیں۔ بستر کی چادروں تکیوں کے غلافوں پر پھول کاڑھ کاڑھ کر اس نے پورے گھر کو گلزار بنا دیا۔ اس کے گھر والے چوروں کی طرح چھپ کر رات کی تاریکی میں اسے ملنے آتے اور تسلی دے جاتے۔ وہ مجھ سے کہتی،’’اگر تم نہ ہوتے تو میں گھٹ کر مر جاتی۔ تم سے باتیں کر کے میرا دل بہلا رہتا ہے۔‘‘
وہ اپنے ابا کے سچ بولنے پر خوشی کا اظہار کرتی اور فخر سے کہتی، ’’ابا نے میرا مان رکھ لیا ہے۔ اندھیرا تو چھٹ جائے گا مگر کالک کبھی نہ اترتی۔‘‘