حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ
عنہ قـســــــط نمــــــــبر 1________ آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درخشندہ ستاروں میں سب سے
روشن نام یار غار رسالت، پاسدار خلافت، تاجدار امامت، افضل بشر بعد الانبیاء حضرت
ابوبکر صدیق کا ہے جن کو امت مسلمہ کا سب سے افضل امتی کہا گیا ہے۔ بالغ مردوں میں
آپ سب سے پہلے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ کو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب سے محبوب زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔[1] حضرت ابو بکر عام الفیل کے اڑھائی برس بعد ۵۷۲ء میں پیدا ہوئے۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے اڑھائی سال چھوٹے تھے۔ ان
کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو تیم بن مرہ سے تھا۔ ابو بکر کا شجرۂ نسب اس طرح ہے: عبد
ﷲ بن عثمان بن عامر بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ۔ مرہ ہی پر ان کا شجرہ نبی
صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرے سے جاملتا ہے۔ کلاب بن مرہ آپ کے جبکہ تیم بن مرہ ابو
بکر کے جد تھے۔ عبدﷲ اپنی کنیت ابو بکر اور ان کے والد عثمان اپنے نام کے بجائے
اپنی کنیت ابو قحافہ سے مشہور ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کی والدہ کا نام سلمیٰ بنت
صخر اورکنیت ام خیر تھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ابوبکرکے کئی بھائی بچپن ہی میں فوت
ہو گئے تو ان کی والدہ نے ان کی پیدایش سے پہلے نذر مانی کہ اب اگر لڑکا ہوا تو اس
کا نام عبدالکعبہ رکھیں گی۔ ان کے بچپن کا یہ نام قبول اسلام کے بعد بدل کر عبدﷲ
ہو گیا۔ خون بہا، تاوان اور دیتوں (اشناق) کی رقوم کا تعین کرنا بنو تیم بن مرہ کے
سپرد تھا۔ تاوانوں کی رقوم وہی وصول اور جمع کرتے، متعلقہ مقدمات بھی انھی کے سامنے پیش ہوتے اورانھی کا فیصلہ نافذ
ہوتا۔ ابو بکر جوان ہوئے تو یہ خدمت ان کو سونپی گئی۔ اگرچہ عمر بھر حضرت ابو بکر
اپنی کنیت سے موسوم کیے جاتے رہے، لیکن اس کنیت کا یقینی سبب معلوم نہیں ہو سکا۔
انھیں جوان اونٹوں (بکر) کی پرورش اور ان کے علاج معالجے سے دل چسپی تھی یا شایدان
کا سب سے پہلے اسلام لانا (بکر الی الاسلام) اس کنیت کا سبب بنا۔ ان کا ایک نام عتیق
بھی ہے، جس کے معنی ہیں: خوب صورت اور سرخ و سفید، شروع سے نیک۔ ایک سبب یہ ہے کہ
آں حضور صلیﷲ علیہ وسلم نے ابو بکر کو دیکھ کر فرمایا: ’’تم ﷲ کی طرف سے دوزخ سے آزاد (عتیق ﷲ) ہو۔‘‘ (ترمذی، رقم ۳۶۷۹) ہمیشہ سچ بولنے اورواقعۂ معراج کی فی الفور تصدیق
کرنے کی وجہ سے صدیق کا لقب ملا۔ ان کی رافت و شفقت کی وجہ سے ان کو اواہ بھی کہا
جاتا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عثمان بن
عامر بن عمرو بن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔ مرہ بن کعب تک آپ کے سلسلہ نسب میں
کل چھ واسطے ہیں۔ مرہ بن کعب پر جاکر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلیٰ
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب سے جاملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہے۔ (المعجم الکبير، نسبة ابی بکر الصديق واسمه، 1:1) آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہونے کی درج ذیل وجوہات بیان کی جاتی
ہیں: عربی زبان میں ’’البکر‘‘ جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ جس کے پاس اونٹوں کی
کثرت ہوتی یا جو اونٹوں کی دیکھ بھال اور دیگر معاملات میں بہت ماہر ہوتا عرب لوگ
اسے ’’ابوبکر‘‘ کہتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ بھی بہت بڑا اور مالدار تھا نیز
اونٹوں کے تمام معاملات میں بھی آپ مہارت رکھتے تھے اس لئے آپ بھی ’’ابوبکر‘‘ کے
نام سے مشہور ہوگئے۔ عربی زبان میں ابو کا معنی ہے ’’والا‘‘ اور ’’بکر‘‘ کے معنی ’’اولیت‘‘
کے ہیں۔ پس ابوبکر کے معنی ’’اولیت والا‘‘ ہے۔ چونکہ آپ رضی اللہ عنہ اسلام لانے،
مال خرچ کرنے، جان لٹانے، الغرض امتِ محمدیہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہر
معاملے میں اولیت رکھتے ہیں اس لئے آپ رضی اللہ عنہ کو ابوبکر (یعنی اولیت والا)
کہا گیا۔(مراة المناجيح، مفتی احمد يار خان نعيمی، 8: 347) سیرت حلبیہ میں ہے کہ کُنِيَ بِاَبِی بَکْرٍ لِاِبْتِکَارِهِ
الْخِصَالِ الْحَمِيْدَةِ ’’آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر اس لئے ہے کہ آپ شروع
ہی سے خصائل حمیدہ رکھتے تھے‘‘۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دو لقب زیادہ مشہور ہیں: عتیق صدیق عتیق پہلا لقب ہے، اسلام میں سب سے پہلے آپ کو اسی لقب سے ہی ملقب کیا
گیا۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ کا نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
انہیں فرمایا: اَنْتَ عَتِيْقٌ مِنَ النَّار ’’تم جہنم سے آزاد ہو‘‘۔ تب سے آپ رضی
اللہ عنہ کا نام عتیق ہوگیا۔(صحيح ابن حبان، کتاب اخباره عن مناقب الصحابة، ج9، ص6)(Muhammad Anser)(03336700515) حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک دن اپنے
گھر میں تھی، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان
صحن میں تشریف فرما تھے۔ اچانک میرے والد گرامی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ تشریف لے آئے تو حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر
اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا: مَنْ اَرَادَ اَنْ يَنْظُرَ الی عَتيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ
اِلیٰ اَبی بَکْر. ’’جو دوزخ سے آزاد شخص کو دیکھنا چاہے، وہ ابوبکر کو دیکھ لے‘‘۔ (المعجم الاوسط، من اسمه الهيثم، الرقم: 9384) آپ رضی اللہ عنہ کے لقب ’’صدیق‘‘ کے حوالے سے حضرت سیدہ حبشیہ رضی
اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنا: يَا اَبَابَکْرٍ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ سَمَّاکَ الصِّدِّيْق ’’اے ابوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تمہارا نام ’’صدیق‘‘ رکھا‘‘۔ (الاصابة فی تمييز الصحابة، حرف النون، 8: 332) ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب
حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی
گئی تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری صبح لوگوں کے سامنے اس مکمل واقعہ کو
بیان فرمایا، مشرکین دوڑتے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے
اور کہنے لگے: هَلْ لَکَ اِلٰی صَاحِبِکَ يَزْعُمُ اَسْرٰی بِهِ اللَّيْلَةَ اِلَی
بَيْتِ الْمَقْدَس؟ ’’کیا آپ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں جو آپ کے دوست نے کہی ہے کہ انہوں
نے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کی؟‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی
یہ بیان فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لَئِنْ کَانَ قَالَ ذٰلِکَ لَقَدْ صَدَق. ’’اگر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقینا سچ
فرمایا ہے اور میں ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتا ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا: ’’کیا آپ اس حیران کن بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ
آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نَعَمْ! اِنِّیْ لَاُصَدِّقُهُ فِيْمَا هُوَ اَبْعَدُ مِنْ ذٰلِکَ
اُصَدِّقُهُ بِخَبْرِ السَّمَاءِ فِیْ غَدْوَةٍ اَوْ رَوْحَة. ’’جی ہاں! میں تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی
صبح و شام تصدیق کرتا ہوں اور یقینا وہ تو اس بات سے بھی زیادہ حیران کن اور تعجب
والی بات ہے‘‘۔ (المستدرک علی الصحيحين، الرقم: 4515) پس اس واقعہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ صدیق مشہور ہوگئے۔ 🔲🌟قبول اسلام🌟🔲 حضرت سیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسلام آسمانی وحی کی مانند تھا، وہ اس طرح کہ آپ ملک
شام تجارت کے لئے گئے ہوئے تھے، وہاں آپ نے ایک خواب دیکھا، جو ’’بحیرا‘‘ نامی
راہب کو سنایا۔ اس نے آپ سے پوچھا: ’’تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘ فرمایا: ’’مکہ سے‘‘۔ اس نے پھر پوچھا: ’’کون سے
قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟‘‘ فرمایا: ’’قریش سے‘‘۔ پوچھا: ’’کیا کرتے ہو؟‘‘ فرمایا:
تاجر ہوں۔ وہ راہب کہنے لگا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے خواب کو سچافرمادیا تو وہ
تمہاری قوم میں ہی ایک نبی مبعوث فرمائے گا، اس کی حیات میں تم اس کے وزیر ہوگے
اور وصال کے بعد اس کے جانشین۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو پوشیدہ رکھا، کسی
کو نہ بتایا اور جب سرکار صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ
صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی واقعہ بطور دلیل آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔
یہ سنتے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گلے
لگالیا اور پیشانی چومتے ہوئے کہا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی
معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں‘‘۔ (الرياض النضرة، ابوجعفر طبری، 1: 83) 🌌🌺والدین کریمین🌺🌌 آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم کا نام عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب
بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر قرشی تیمی ہے۔ کنیت ابوقحافہ
ہے۔ آپ فتح مکہ کے روز اسلام لائے اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے اور ان کے وارث
ہوئے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلافت فاروقی میں وفات پائی۔ (تهذيب الاسماء واللغات، امام نووی، 1: 296) آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام سلمی بنت صخر بن عامر بن کعب
بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔ کنیت ’’ام الخیر‘‘ ہے۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کے والد کے چچا کی بیٹی ہیں۔ ابتدائے اسلام میں ہی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
ہاتھ پر بیعت کرکے مشرف بہ اسلام ہوگئیں تھیں۔ مدینہ منورہ میں جمادی الثانی 13ہجری
میں وفات پائی۔/ (الاصابة فی تمييز الصحابة، 8: 386) 🔲🌟ازواج اور اولاد🌟🔲 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ازواج (بیویوں) کی تعداد چار ہے۔
آپ نے دو نکاح مکہ مکرمہ میں کئے اور دو مدینہ منورہ میں۔ان ازواج سے آپ کے تین بیٹے
اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح قریش کے مشہور شخص
عبدالعزی کی بیٹی ام قتیلہ سے ہوا۔ اس سے آپ رضی اللہ عنہ کے ایک بڑے بیٹے حضرت سیدنا
عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی حضرت سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا دوسرا نکاح ام رومان (زینب) بنت عامر بن عویمر سے
ہوا۔ ان سے ایک بیٹے حضرت سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی ام المومنین
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تیسرا نکاح حبیبہ بنت خارجہ بن زید
سے کیا۔ ان سے آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے چھوٹی بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ
عنہ پیدا ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے چوتھا نکاح سیدہ اسماء بنت عمیس سے کیا۔ یہ حضرت
سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں، جنگ موتہ کے دوران شام میں
حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان
سے نکاح کرلیا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد بن ابی
بکر پیدا ہوئے۔ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ سے نکاح کرلیا۔ اس طرح آپ کے بیٹے
محمد بن ابی بکر کی پرورش حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمائی۔ (الرياض النضرة، امام ابو جعفر طبری، 1: 266) حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل
ہے جو اس گھرانے کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت ابو بکر
صدیق رضی اللہ عنہ خود بھی صحابی، ان کے والد حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ بھی
صحابی، آپ کے تینوں بیٹے (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ
اور حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ) بھی صحابی، آپ رضی اللہ عنہ کے پوتے بھی
صحابی، آپکی بیٹیاں (حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت سیدہ اسمائ رضی اللہ
عنہا اور حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت ابی بکر) بھی صحابیات اور آپ کے
نواسے بھی صحابی ہوئے۔ حضرت سیدنا موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم صرف چار ایسے
افراد کو جانتے ہیں جو خود بھی مشرف بہ اسلام ہوئے اور شرف صحابیت پایا اور ان کے
بیٹوں نے بھی اسلام قبول کرکے شرف صحابیت حاصل کیا۔ ان چاروں کے نام یہ ہیں: ابوقحافہ عثمان بن عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہعبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہمحمد بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ(المعجم الکبير، نسبة ابی بکر الصديق واسمه، الرقم: 11) جاری ہے............. قـســــــط نمــــــــبر 2 حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی حیات طیبہ سے لے کر اپنی وفات تک کبھی بھی اہل بیت کی خدمت میں کوئی کمی نہ آنے
دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اہل بیت سے یہ خصوصی محبت آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں بھی
منتقل ہوتی رہی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اہل بیت سے ایک مضبوط رشتہ داری قائم فرمائی۔
جس کی تفصیل یہ ہے: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی لاڈلی شہزادی حضرت سیدہ
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 8 بعثت نبوی، شوال المکرم میں اپنے محبوب آق صلیٰ
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت سیدہ میمونہ
بنت حارث رضی اللہ عنہا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ
حضرت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا یہ دونوں والدہ کی طرف سے بہنیں تھیں۔ ان
کی والدہ محترمہ کا نام ’’ہند بنت عوف‘‘ ہے اور انہیں ’’خولہ بنت عوف‘‘ بھی کہا
جاتا ہے۔ یوں اس مبارک رشتے سے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سیدنا ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ ہم زلف ہوئے۔(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، 8: 104) حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے (یعنی حضرت اسماء بنت
ابی بکر کے بیٹے) حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے بھتیجے بھی ہیں، کیونکہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی اور
حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی دادی (یعنی حضرت سیدنا زبیر بن عوام کی
والدہ) حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے حضرت سیدنا عبداللہ بن
زبیر، حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے داماد بھی ہیں۔ حضرت سیدنا امام حسن رضی
اللہ عنہ کی بیٹی حضرت سیدہ ام الحسن رضی اللہ عنہا آپ رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے حضرت سیدنا محمد بن
ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جن کی والدہ حضرت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ہیں۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد ان سے امیرالمومنین
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نکاح فرمایا۔ چنانچہ اس لحاظ سے حضرت سیدنا
محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سوتیلے بیٹے
ہوئے اور حضرت سیدنا امام حسن و حسین رضی اللہ عنہ آپ کے علاتی بھائی (یعنی باپ شریک
بھائی) ہوئے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت سیدنا امام
حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترم حضرت سیدہ شہر بانو رضی اللہ عنہا اور حضرت سیدنا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ
دونوں آپس میں سگی بہنیں تھیں۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت
میں حضرت سیدنا حریث بن جابر جعفی رضی اللہ عنہ نے شاہ ایران یزد جرد بن شہر یار کی
دو بیٹیاں آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان میں سے بڑی
بیٹی حضرت سیدہ شہر بانو رضی اللہ عنہا کانکاح اپنے بیٹے حضرت سیدنا امام حسین رضی
اللہ عنہ سے فرمادیا اور چھوٹی بیٹی کانکاح حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ
عنہ سے فرمادیا۔(لباب الانساب والالقاب والاعقاب، ظهيرالدين ابوالحسن علی بن
زيدالبيهقی (565ه)، 1:22) حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی
حضرت سیدہ ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے۔ جبکہ آپ رضی
اللہ عنہم کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین
العابدین بن حسین بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم ہے۔ یوں آپ رضی اللہ عنہ والدہ کی
طرف سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور والد کی طرف سے حضرت سیدنا علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جاملتے ہیں۔ (شرح العقائد:328) حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی حضرت سیدہ حفصہ بنت
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہا، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔
یوں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اس حوالے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کے داماد محترم ہوئے۔ (الطبقات الکبری لابن سعد، 8: 342) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ وہ اپنے
گرد پھیلی ہوئی گمراہیوں، غلط رسوم و رواج، اخلاقی و معاشرتی برائیوں سے پاک صاف
ہونے کے ساتھ ساتھ اوصاف حمیدہ سے بھی متصف تھے۔ آپ کے اعلیٰ محاسن و کمالات اور
خوبیوں کی بنا پر مکہ مکرمہ اور اس کے قرب و جوار میں آپ رضی اللہ عنہ کو محبت و
عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ حضرت سیدنا سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھی خصلتیں تین سوساٹھ ہیں اور اللہ جب کسی سے بھلائی کا ارادہ
فرماتا ہے تو اس کی ذات میں ایک خصلت پیدا فرمادیتا ہے اور اسی کے سبب اسے جنت میں
بھی داخل فرمادیتا ہے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول
اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا میرے اندر بھی ان میں سے کوئی خصلت موجود ہے؟
ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! تمہارے اندر تو یہ ساری خصلتیں موجود ہیں۔ 🔲🌹عاجزی و انکساری🌹🔲 حضرت سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ خلیفہ بننے کے تین سال پہلے اور خلیفہ بننے کے ایک سال بعد بھی ہمارے
پڑوس میں رہے۔ محلے کی بچیاں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی بکریاں لے کر آتیں، آپ
ان کی دلجوئی کے لئے دودھ دوھ دیا کرتے تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا
تو محلے کی ایک بچی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اب تو آپ خلیفہ بن گئے
ہیں، آپ ہمیں دودھ دوھ کر نہیں دیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کیوں نہیں!
اب بھی میں تمہیں دودھ دوھ کر دیا کروں گا اور مجھے اللہ کے کرم سے یقین ہے کہ
تمہارے ساتھ میرے رویے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ چنانچہ خلیفہ بننے
کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ ان بچیوں کو دودھ دوھ کردیا کرتے تھے۔ (تهذيب الاسماء واللغات، امام نووی، 2: 480) حضرت سیدنا یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی طرف چند لشکر بھیجے۔ ان میں حضرت سیدنا یزید
بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا لشکر بھی تھا۔ انہیں ملک شام کے چوتھائی حصے کا امیر
مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی روانگی کے وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں
چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھے۔ حضرت سیدنا
یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’اے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ! یا تو آپ رضی اللہ
عنہ سوار ہوجائیں یا میں اپنے گھوڑے سے اتر جاتا ہوں‘‘۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد
فرمایا: مَااَنْتَ بِنَازِلٍ وَلَا اَنَا بِرَاکِبٍ اِنِّی اَحْتَسِبُ خُطَيَ
هَذِهِ فِی سَبِيلِ اللّٰهِ. ’’نہ تو تم اپنے گھوڑے سے اترو گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا بلکہ میں
تو اپنے ان قدموں کو راہ خدا میں شمار کرتا ہوں۔‘‘ (موطا امام مالک، کتاب الجهاد، الرقم: 1004) حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رات کے وقت مدینہ منورہ کے
کسی محلے میں رہنے والی ایک نابینا بوڑھی عورت کے گھریلو کام کاج کردیا کرتے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ اس کے لئے پانی بھر لاتے اور اس کے تمام کام سرانجام دیتے۔ حسب
معمول ایک مرتبہ بڑھیا کے گھر آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سارے کام ان سے
پہلے ہی کوئی کرگیا تھا۔ بہر حال دوسرے دن تھوڑا جلدی آئے تو بھی وہی صورت حال تھی
کہ سب کام پہلے ہی ہوچکے تھے۔ جب دو تین دن ایسا ہوا تو آپ کو بہت تشویش ہوئی کہ ایسا کون ہے جو
مجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتا ہے؟ ایک روز آپ دن میں ہی آکر کہیں چھپ گئے، جب
رات ہوئی تو دیکھا کہ خلیفہ وقت امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
تشریف لائے اور اس نابینا بڑھیا کے سارے کام کردیئے۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے حیران
ہوئے کہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپ اس بوڑھی خاتون کے تمام امور خوش دلی سے
انجام دے رہے ہیں۔ ارشاد فرمایا: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ سے نیکیوں
میں سبقت لے جاتے ہیں۔ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، الرقم: 35602) 🌌🌸اہل بیت پر شفقت🌸🌌 حضرت سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت سیدنا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز عصر پڑھ کر باہر نکلے اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ
رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے
پاس سے گزرے جو اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت ہی
شفقت سے انہیں اٹھاکر اپنی گردن پر بٹھالیا اور فرمایا: مجھے میرے والد کی قسم! تو
میرے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہ ہے، اپنے والد حضرت علی المرتضیٰ رضی
اللہ عنہ سے مشابہ نہیں۔ یہ سن کر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مسکرانے
لگ گئے۔ (صحيح البخاری، کتاب المناقب، الرقم: 3542) حضرت سیدنا عبدالرحمن اصبہائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا
حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب چھوٹے سے تھے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ اس وقت آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر رونق
افروز تھے۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے چونکہ ہمیشہ منبر پر اپنے نانا جان صلیٰ
اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو بیٹھے دیکھا تھا اس لئے ایک نئے شخص کو دیکھ کر اپنی
ننھی سوچ کے مطابق کہنے لگے: آپ میرے بابا جان کی جگہ سے نیچے اترو۔ حضرت سیدنا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ گوارا نہ فرمایا کہ شہزادہ اہل بیت کی دل شکنی ہو،
لہذا آپ رضی اللہ عنہ فوراً نیچے تشریف لے آئے اور فرمایا: اے حسن رضی اللہ عنہ!
تو نے سچ کہا یہ تیرے بابا جان ہی کی جگہ ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا
حسن رضی اللہ عنہ کو فرط محبت سے اٹھاکر اپنی گود میں بٹھالیا۔ اس موقع پر انہیں
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیتے ہوئے وہ انمول ایام یاد آگئے، ضبط کا
بندھن ٹوٹ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ زاروقطار رو پڑے۔ (کنزالعمال، کتاب الخلافة مع الامارة، الرقم: 14081)(Muhammad Anser)(03336700515) ⬛♦️غیرتِ ایمانی♦️⬛ عام حالات میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہایت ہی نرم
مزاج تھے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ سختی، خفگی اور غصے سے تو آشنا ہی نہیں ہیں۔ دھیمے
انداز میں آہستہ آہستہ بات کرتے مگر اسلام کے معاملے میں انتہائی غیرت مند اور بہت
سخت تھے۔ مدینہ منورہ کے یہودیوں اور منافقوں کی طنزیہ باتوں پر تو آپ رضی اللہ
عنہ شدید غصے میں آتے ہی تھے مگر اگر کبھی اپنے قریبی رشتہ داروں کی طرف سے بھی
انہیں آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بے ادبی کا ہلکا سا بھی شائبہ
ہوتا تو اس پر سخت ردعمل کا اظہار فرماتے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ نے (قبول
اسلام سے پہلے) ایک بار آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہہ
دیئے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ
دور جاگرے۔ بعد میں آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
سارا ماجرا سنایا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے ابوبکر! کیا واقعی
تم نے ایسا کیا؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا۔ عرض کیا: یارسول
اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! اگر اس وقت میرے پاس تلوار ہوتی تو میں ان کا
سرقلم کردیتا۔ اس وقت سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر22 آپ کے حق میں نازل ہوئی: ’’آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی
اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول ( صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور
پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن
کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ
خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے
نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہوگیا ہے
اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں، یہی ﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بے شک ﷲ
(والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے۔‘‘ (تفسير روح المعانی، تفسير سورة المجادله) غزوہ بدر میں آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی
اللہ عنہ اسلام قبول کرنے سے پہلے مشرکین کے ساتھ اسلام کے خلاف جنگیں لڑتے تھے۔
جب وہ اسلام لے آئے تو ایک روز حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے:
ابا جان! میدان بدر میں ایک موقع پر آپ میری تلوار کی زد میں آئے لیکن میں نے آپ
کو باپ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ یہ سن کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غیرت ایمانی
سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لٰکِنَّکَ لَو اَهْدَفْتَ لِیْ لَمْ اَنْصَرِفْ عَنْکَ. ’’لیکن اگر تو میرا ہدف بنتا تو میں تجھ سے اعراض نہ کرتا‘‘۔ یعنی اے بیٹے! اس دن تم نے تو مجھے اس لئے چھوڑ دیا کہ میں تمہارا
باپ ہوں لیکن اگر تم میری تلوار کی زد میں آجاتے تو میں کبھی نہ دیکھتا کہ تم میرے
بیٹے ہو بلکہ اس وقت تمہیں دشمن رسول سمجھ کر تمہاری گردن اڑادیتا۔ (نوادرالاصول، امام ترمذی، الرقم:710، 1:496) حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہر معاملہ آقا صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی محبت کی خاطر ہوتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ اس معاملے میں اپنے والدین
اور اولاد وغیرہ کا بھی لحاظ نہ فرماتے تھے۔ ایک دفعہ آپ رضی اللہ عنہ حضور نبی
اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی
بیٹی حضر ت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بلند آواز سنائی دی۔ آپ رضی اللہ
عنہ یہ کہتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ
اٹھاکر آگے بڑھے: ’’یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ تم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے سامنے اپنی آواز بلند کررہی ہو‘‘۔ یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ
عنہ کو تھپڑ مارنے سے روکا۔ آپ رضی اللہ عنہ اسی طرح غصے کی حالت میں واپس تشریف
لے گئے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے
فرمایا: کَيْفَ رَاَيْتِنِی اَنْقَذْتُکِ مِنَ الرَّجُلِ. ’’دیکھا! میں نے تمہیں ان سے کس طرح بچایا‘‘۔ (Muhammad Anser)(03336700515) چند دنوں کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کاشانہ نبوی میں حاضر
ہوئے تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
کو باہم راضی اور خوش دیکھا تو بارگاہ رسالت میں یوں عرض گزار ہوئے: اَدْخِلَانِی فِی سِلْمِکُمَا کَمَا اَدْخَلْتُمَانِی فِی
حَرْبِکُمَا. ’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! جس طرح آپ نے مجھے اپنی
ناراضگی میں شریک کیا تھا، اسی طرح مجھے اپنی صلح (خوشی) میں بھی شریک فرمالیجئے۔‘‘ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا ’’ہم نے آپ کو شریک کرلیا، شریک کرلیا‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب ماجاء فی المزاح، الرقم: 4999) 🌺بطورِ امیرالمومنین ذریعہ معاش🌺 حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیعت خلافت کے دوسرے روز کچھ
چادریں لے کر بازار جارہے تھے، حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا
کہ آپ رضی اللہ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟ فرمایا: بغرض تجارت بازار جارہا ہوں۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اب آپ رضی اللہ عنہ یہ کام چھوڑ دیجئے،
اب آپ لوگوں کے خلیفہ (امیر) ہوگئے ہیں۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر
میں یہ کام چھوڑ دوں تو پھر میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں گے؟ حضرت سیدنا عمر
فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ رضی اللہ عنہ واپس چلئے، اب آپ رضی اللہ عنہ کے
یہ اخراجات حضرت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ طے کریں گے۔ پھر یہ دونوں حضرات حضرت
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان سے حضرت سیدنا عمر
فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے
اہل و عیال کے واسطے ایک اوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کرکے روزانہ کی
خوراک اور موسم گرما و سرما کا لباس مقرر کیجئے لیکن اس طرح کہ جب پھٹ جائے تو
واپس لے کر اس کے عوض نیا دے دیا جائے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ کے لئے آدھی بکری کا گوشت، لباس اور روٹی مقرر کردی۔ (تاريخ الخلفاء، امام سيوطی، ص59) امام عالی مقام سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت ام المومنین حضرت سیدہ
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: دیکھو! یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں
اور یہ بڑا پیالہ جس میں کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں یہ سب
بیت المال سے لیا گیا ہے۔ ہم ان سے اسی وقت تک نفع اٹھاسکتے ہیں جب تک میں
مسلمانوں کے امور خلافت انجام دیتا رہوں گا۔ جس وقت میں وفات پاجائوں تو یہ تمام
سامان حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دے دینا۔ چنانچہ جب آپ رضی اللہ عنہ
کا انتقال ہوگیا تو ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ تمام چیزیں
حسب وصیت واپس کردیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چیزیں واپس پاکر فرمایا: ’’اے ابوبکر! اللہ آپ پر رحم فرمائے کہ آپ نے تو اپنے بعد میں آنے
والوں کو تھکادیا ہے‘‘۔ (تاريخ الخلفاء، امام سيوطی، ص60) حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ اور بارگاہِ رسالت مآب
صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل تھی۔ قرآن مجید کی تقریباً
32 آیات آپ کے متعلق ہیں جن سے آپ کی شان کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں
نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ
تعالیٰ روز قیامت انہیں عطا فرمائے گا۔ جاری ہے... قـســــــط نمــــــــبر 3 سیدنا ابو بکر کا سلسلہ نسب چھٹی پست میں مرہ پر امام کائنات صلی
اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث صفحہ 119) 🌹سیدنا ابو بکر کے والد: ابو قحافہ عثمان بن عمرو شرفائے مکہ میں سے تھے اور نہایت معمر تھے
ابتداء جیسا کہ بوڑھوں کا قاعدہ ہے وہ اسلام کی تحریک کو بازیچہء اطفال سمجھتے تھے
چنانچہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب امام کائنات صلی اللہ علیہ
وسلم نے ہجرت فرمائی تو میں امام کائنات کی تلاش میں ابو بکر کے گھر آیا اور وہاں
ابوقحافہ موجود تھے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک طرف سے گزرتے ہوئے دیکھ
کر نہایت برہمی سے کہا کہ ان بچوں نےمیرے لڑکے کو بھی خراب کر دیا ہے۔ (الاصابہ جلد 4 صفحہ 221) ابو قحافہ فتح مکہ تک اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے فتح مکہ کے بعد
جب رسول اللہ مسجد میں تشریف فرماتھے اور وہ اپنے فرزند سعید سیدنا ابو بکر کے
ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور امام کائنات نے ان کی ضعف پیری کو دیکھ کر
فرمایا کہ انہیں کیوں تکلیف دی ہے میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا اس کے بعد امام
کائنات نے نہایت شفقت سے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کلمات طیبات تلقین کر کے
مشرف بہ اسلام فرمایا سیدنا ابو قحافہ نے بڑی عمر پائی۔ امام کائنات کے بعد اپنے
فرزند ارجمند سیدنا ابو بکر کے بعد بھی کچھ دنوں تک زندہ رہے آخر عمر میں بہت ضعیف
ہوگئے تھے اور آنکھوں کی بصارت چلی گئی تھی۔ 14ھ میں 97 برس کی عمر میں وفات پائی۔ (الاصابہ جلد4 صفحہ 222) 🔲🌻ابتدائی زندگی🌻🔲 واقعہ فیل کے تین برس بعد آپ کی مکہ میں ولادت ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب
ساتویں پشت پر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپ کا نام
پہلے عبد الکعبہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدل کر عبد اللہ
رکھا، آپ کی کنیت ابوبکر تھی۔ آپ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو تمیم سے تعلق رکھتے
تھے۔ آپ کے والد کا نام عثمان بن ابی قحافہ اور والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی تھا۔ آپ کا خاندانی پیشہ تجارت اور کاروبار
تھا۔ مکہ میں آپ کے خاندان کو نہایت معزز مانا جاتا تھا۔ کتب سیرت اور اسلامی تاریخ
کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعثت سے قبل ہی آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت، نشست و
برخاست، ہر اہم معاملات پر صلاح و مشورہ روز کا معمول تھا۔ مزاج میں یکسانی کے
باعث باہمی انس ومحبت کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ بعثت کے اعلان کے بعد آپ نے بالغ
مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنے مال و دولت کو
خرچ کرکے مؤذن رسول حضرت بلال سمیت بے شمار ایسے
غلاموں کو آزاد کیا جن کو ان کے ظالم آقاؤں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی
پاداش میں سخت ظلم وستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ آپ کی دعوت پر ہی حضرت عثمان،
حضرت زبیر بن العوام، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص
جیسے اکابر صحابہ ایمان لائے جن کو بعد میں دربار رسالت سے عشرہ مبشرہ کی نوید عطا
ہوئی۔ 🔲🌻صدیق قبل اسلام:🔲 سیدنا ابوبکر صدیق اسلام سے قبل ایک متمول تاجر کی حیثیت رکھتے تھے
اور ان کی دیانتداری اور راست بازی کا خاصہ شہرہ تھا اہل مکہ ان کو علم تجربہ اور
حسن خلق کے باعث نہایت معزز سمجھتے تھے ایام جاہلیت میں خون بہا کا مال آپ ہی کے
پاس جمع کرایا جاتا تھا اگر کبھی کسی دوسرے شخص کے یہاں جمع ہوتا توقریش اس کو تسلیم
نہیں کرتے تھے۔سیدنا صدیق کو ایام جاہلیت میں بھی شراب نوشی سے نفرت تھی جیسی
زمانہ اسلام میں تھی اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ شراب نوشی میں
نقصان آبرو ہے رحمت کائنات کے ساتھ بچپن ہی سے ان کوخاص انس اور خلوص تھااور امام
کائنات کے حلقہ ء احباب میں ہی داخل تھے اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا
شرف حاصل ہوتا تھا۔ 🌌🌹اسلام اور صدیق:🌌 رحمت کائنات کو جب خلعت نبوت عطا ہوا اور امام کائنات نے مخفی طور پر
احباب مخلصین اورمحرمان راز کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا تو مردوں میں سے سیدنا
ابو بکر نے سب سے پہلے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا اور بعض ارباب سیر نے ان کے قبول
اسلام کے متعلق بہت سے طویل قصے نقل کیے ہیں لیکن یہ سب حقیقت سے دور ہیں اصل یہ
ہے کہ سیدنا ابوبکر کا آئینہ دل پہلے ہی سے صاف تھا فقط خورشید حقیقت کے عکس افگنی
کی دیر تھی کیونکہ گذشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوت کے خدوخال کو اس طرح واضح کر دیا
تھا کہ معرضت حق کے لیے کوئی انتظار باقی نہ رہا البتہ ان کے اول مسلمان ہونے میں
بعض مؤرخین اور اہل آثار نے کلام کیا ہے بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ خدیجہ
کا اسلام سب سے مقدم ہے اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی کو اولیت کا فخر
حاصل ہے۔اور بعض کا خیال ہے کہ سیدنا زید بن ثابت بھی سیدنا ابوبکر سے پہلے مسلمان
ہوچکے تھے لیکن اس کے مقابلہ میں ایسی اخبار وآثار بھی بکثرت موجود ہیں جن سے
ثابت ہوتا ہے کہ اولیت کا طغرائے شرف و امتیاز صرف اسی ذات گرامی کےلیے مخصوص ہے
اور سیدنا حسان بن ثابت کے ایک قصیدہ سے بھی اسی خیال کی تائید ہوتی ہے۔ اذاتذکرت شجوا من اخی ثقۃفاذکر اخاک ابابکر بما فعلا* جب تم صداقت شعار ہستی کے دکھ درد کو یا د کرنے لگو تو اپنے بھائی
ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارناموں کو یاد کرلینا۔ خیر البریۃ اتقاھا واعدلہابعدالنبی واوفاہا بما حملا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور انبیاء کرام کے بعد تمام
مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ انصاف پسند ہیں ،ونیز
ذمہ داری میں سب سے زیادہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے ہیں ۔ والثانی التالی المحمود مشہدہواول الناس ممن صدق الرسلا نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے یار غار ، ہمیشہ آپ کی صحبت میں
رہنے والے اور مخلوق میں قابل تعریف ہیں ‘ اور سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرنے
والے ہیں ۔ محقیقن نے ان مختلف احادیث وآثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام
المؤمنین سیدہ خدیجہ عورتوں میں سیدنا علی بچوں میں سیدنا زید بن حارثہ غلاموں میں
اور سیدنا صدیق آزاد اور بالغ مردوں میں سب سے اول مومن ہیں۔* (فتح الباری ج7 ص
130) (Muhammad Anser) (03336700515) 🔲🌻صدیق اسلام اور
مکی زندگی:🔲 رحمت کائنات نے بعثت کے بعد کفار کی ایذا رسانی کے باوجود تیرہ برس
تک مکہ میں دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا سیدنا ابو بکر اس بے بسی کی زندگی میں
جان مال رائے اور مشورہ غرض ہر حیثیت سے رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے رنج و
راحت میں دست و بازوبنے رہے امام کائنات روزانہ صبح وشام سیدنا ابو بکر کے گھر تشریف
لے جاتے اور دیر تک مجلس راز قائم رہتی۔(بخاری باب الہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینہ) مکہ میں ابتداً جن لوگوں نے داعی توحید کو لبیک کہا ان میں کثیر
تعداد غلاموں اور لونڈیوں کی تھی جو اپنے مشرک آقاؤں کے پنجہء ظلم و ستم میں
گرفتار ہونے بندگانِ توحید کو ان کے جفاکار مالکوں سے خرید کر آزاد کردیا۔ چنانچہ سیدنا بلال عامر بن فہیرہ، نہدیہ، جاریہ بنی مؤمل اور بنت
نہدیہ وغیرہ اس صدیقی جودوکرم کے ذریعہ نجات پائی۔ لیکن آج معاملہ اس کے برعکس
نظر آتا ہے کہ ایک نام نہاد مسلم حاکم وقت جس نے ایکa آزاد بنت حوا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کافروں اور اسلام کے دشمنوں کے
حوالے کیا گیا آج کہاں ہیں صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد کے روحانی فرزند جو
زیاد کی طرح اپنی بہن کی عصمت کےلیے لبیک کہیں؟ اور وہ صدیق تھے کہ جب بھی کفار
مکہ امام کائنات پر دست درازی کرتے تو یہ مخلص جانثار اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے
ہوئے کافروں کےآگے سینہ سپر ہو جاتے ایک دفعہ رحمت کائنات خانہ کعبہ میں تقریر کر
رہے تھے اور مشرکین مکہ اس تقریر سے سخت برہم ہوئے اور اس قدر مارا کہ امام کائنات
بے ہوش ہوگئے اور ابو بکر نے آگے بڑھ کر کہا کہ اللہ تمہیں سمجھائے کیا تم ان کو
اس لیے قتل کرو گے کہ یہ صرف ایک اللہ کا نام لیتاہے۔(فتح الباری ج7 ص 129) ایسےپیچیدہ حالات کی وجہ سے رحمت کائنات نے ہجرت مدینہ کا ارادہ کیا
اور مشرکین مکہ اپنے تمام مکروں کو آزمانے کے باوجود اپنی ناکامی پر سخت برہم
ہوئے اور اسی وقت رحمت کائنات کی گرفتاری کا اعلان کیا کہ جوشخص محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے چنانچہ متعدد
بہادروں نے اپنے باطل مذہب کا جوش اور انعام کی طمع و لالچ میں امام کائنات کی
تلاش میں نکلے یہاں تک کہ مکہ کے اطراف میں کوئی آبادی ویرانہ جنگل اورپہاڑ یا
سنسان میدان ایسا نہ ہوگا جس کا جائزہ نہ لیا گیا ہو یہاں تک کہ ایک جماعت غارثور
کے پاس جاپہنچی(جوکہ ہجرت کے دوران سب سے پہلی آرام گاہ تھی) اس وقت سیدنا صدیق
کو نہایت اضطراب ہوا اور حزن و یاس کے عالم میں بولے اللہ کے رسول اگر وہ ذرا سی
بھی نیچے کی طرف نگاہ کریں گے توہمیں دیکھ لیں گے مگر امام کائنات نے صدیق کو تشفی
دی اور فرمایا مایوس وغمزدہ نہ ہوں ہم صرف دو نہیں ہیں ایک تیسرا (یعنی اللہ) بھی
ہمارے ساتھ ہے۔(مسلم فضائل ابی بکر الصدیق) اس تشفی آمیز فقرہ سے سیدنا ابو بکر صدیق کو اطمینان ہو گیا اور ان
مضطرب دل امداد غیبی کے تیقن پر لازوال جرأت و استقلال سے مملو ہوگیا خدا کی قدرت
کہ کفارجو تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچے تھے ان کو مطلق محسوس نہ ہوا کہ ان کا
گوہر مقصود اسی کان میں پنہاں ہے اور وہ ناکام واپس چلے گئے۔ فرمایا امام کائنات
نے (من کان للہ کان اللہ لہ۔۔۔) اسی طرح یہ مختصر قافلہ دشمنوں کی گھاٹیوں سے بچتا
ہوا بارہویں ربیع الاول سنہ نبوت کے چودہویں سال مدینہ کے قریب پہنچا اور انصار کو
امام کائنات کی روانگی کا حال معلوم ہو چکاتھا وہ نہایت بے چینی سے آپ کا انتظار
کر رہے تھے امام کائنات شہر کے قریب پہنچے تو انصار مدینہ استقبال کے لیے نکلے اور
ہادی برحق کو حلقہ میں لے کر شہر قبا کی طرف بڑھے امام کائنات نے اس قافلے کو داہنی
طرف مڑنے کا حکم دیا اور بنی عمرو بن عوف میں قیام پذیر ہوئے اور یہاں انصار جوق
در جوق زیارت کےلیے آنے لگے اور رحمت کائنات خاموشی کے ساتھ تشریف فرماتھے اور سیدنا
ابوبکر کھڑے ہو کر لوگوں کا استقبال کر رہے تھے بہت سے انصار جوپہلے رحمت کائنات کی
زیارت سے مشرف نہیں ہوئے تھے وہ غلطی سے سیدنا ابو بکر کے گرد جمع ہونے لگے یہاں
تک کہ جب آفتاب نبوت سامنے آنے لگا اور جانثار خادم نے بڑھ کر اپنی چادر سے
آقائے نامدار پر سایہ کیا تو اس وقت خادم اور مخدوم میں امتیاز ہو گیا اور لوگوں
نے رسالت مآب کو پہنچانا۔ (بخاری باب ہجرۃ النبی واصحابہ) ایک المناک سانحہ پر سیدنا صدیق کی ثابت قدمی: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدنا
ابوبکر صدیق مدینہ کی مشرقی جانب سُخ نام گاؤں میں مقیم تھے یہ جگہ اب مدینہ کے
ائیرپورٹ کے قرب وجوار میں بنتی ہے جیسے ہی ان کو اس عظیم سانحے کی اطلاع ملی تو
فوراً گھوڑے پر سوار ہوکر سُخ سے مدینہ منورہ تشریف لائے اور گھوڑے سے اترتے ہی
مسجد بنوی میں داخل ہوئے لوگوں سے گفتگو نہیں کی سیدھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا
کے حجرے میں پہنچے جہاں رسول اللہ کا جسد اطہر یمنی کپڑے سے ڈھکا ہواتھا سیدنا
ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور جھک کر آپ کے
سر مبارک کا بوسہ لیا اور فرط غم سے رونے لگے پھر فرمایا: بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ لاَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ
مَوْتَتَيْنِ أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا صحيح البخاري (2/ 90) اللہ کے نبی! میرا باپ آپ پر قربان ہو! اللہ آپ کو دو مرتبہ موت نہیں
دے گا جوموت آپ کےلیے لکھی تھی وہ آچکی ہے۔ سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ حجرے سے باہر نکلے سیدنا عمر لوگوں سے محو
گفتگو تھے آپ نے فرمایا(اجلس یا عمر!) عمر بیٹھ جائیے لیکن سیدنا عمر نے جوش و
غضب میں اپنی گفتگو جاری رکھی سیدنا ابو بکر کھڑے ہو گئے اور خطبہ دینے لگے آپ
نےاللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد وہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ اگر ان الفاظ کو
سونے کے پانی سے لکھا جائے تو پھر بھی حق ادا نہیں ہوگا۔۔ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم
فَإِنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ
فَإِنَّ اللَّهَ حَىٌّ لاَ يَمُوتُصحيح البخاري(2/ 91) جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ
وہ فوت ہوگئے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ
تعالیٰ زندہ ہے۔ جاری ہے......... قـســــــط نمــــــــبر 4 🌌🌺خلافت علی منہاج
النبوۃ:🌌 امام کائنات کو خواب میں دوخلفاء دکھائے گئے جن کی خلافت عین منہج
نبوی کے مطابق ہوگی اور وہ آپ کے طریقے سے ذرہ برابر انحراف نہیں کریں گےرحمت
کائناتﷺ فرماتےہیں میں سویا ہواتھا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں نے اپنے حوض
سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں اتنے میں ابو بکر آگئے انہوں نے میرے ہاتھ
سے ڈول لے لیا تاکہ مجھے آرام وسکون کا موقع دیں انہوں نے دو ڈول نکالے لیکن ان
کے ڈول نکالنے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے پھر عمر آگئے انہوں
نے ابوبکر سے ڈول لے کر(خوب پانی نکالا) میں نے کبھی اس سے زیادہ قوت کےساتھ ڈول
کھینچتےکسی کو نہیں دیکھا حتی کہ لوگ سیر ہوکر چلے گئے اور حوض ابھی بھرا ہوا تھا
اور بڑے جوش کے ساتھ پھوٹ رہا تھا۔ (صحیح مسلم حدیث 2392) 🌌🌺پہلا خطبہ خلافت:🌌 بیعت کے بعد سیدنا ابو بکر نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی
شان اقدس کے لائق حمد وثنا بیان کی اور فرمایا حاضرین کرام مجھے تمہارا سربراہ بنایا
گیا ہے اور میں خود کو تم سے بہتر نہیں سمجھتا اگر میں درست کام کروں تو میری مدد
کرنا اگر مجھ سے غلطی ہو جائے تو میری اصلاح کرنا۔ سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے
تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک طاقت ور ہے حتی کہ اس سے مظلوم کا حق وصول کر لوں ان
شاءاللہ جب کوئی قوم جہاد فی سبیل اللہ سے منہ موڑ لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ذلیل
کر دیتےہے جس قوم میں بے حیائی عام ہوجائے اللہ تعالیٰ ان پر عمومی عذاب نازل کر دیتاہے
میری اطاعت اس وقت تک کرنا جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں جب میں
اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے لگے تو تم پر میری اطاعت ضروری نہیں اُٹھو
نماز ادا کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔(البدایہ و النہایہ 305-306/6) جبکہ آج ہمارے حکمرانوں کی تیاریاں عروج پر ہیں غریب عوام کا خون
چوسنے کےلیے ہر طرح کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور کروڑوں روپے کا سرمایہ رائیگاں کیا
جارہاہے حالانکہ یہ منصب حکومت امام کائنات اور صحابہ کرام کا تشکیل دیا ہوا ہے
آج اس منصب پر مسلط ہونے کے لیے ہر دنیا دار آدمی تیار ہے جو کہ دین اسلام سے
کورے نظر آتے ہیں جیسے کہ امیدواران الیکشن سے کچھ سوالات پوچھے جا رہے تھے اور
سوالات بھی ایسے کہ جن کے جوابات ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھنے والا بچہ بھی
بآسانی دے سکتا ہے کسی سے فجر کی نماز کی رکعتیں پوچھی جا رہی ہیں اور کسی سے
قرآن پاک کے پاروں کے متعلق پوچھا جا رہا ہے جوکہ انسانیت کےلیے اللہ نے ضابطہ حیات
اتارا ہے تو ان کے سوالوں کے جواب بھی نہیں آرہے تھے یہاں تک کہ ایک نام نہاد
مسلم بول پڑا کہ قرآنی سوالات کیوں کیے جا رہے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث
سے دوری نے انہیں جلاد بنادیا ہے کہ غریبوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھوک پیاس سے ان کے
سامنے تڑپتے رہیں اور انکے رونگٹے بھی کھڑے نہ ہوں اور انکی سیاست بھی ایک جھوٹ کا
حال ہے آج اپنے مفاد کی سیاست کی جاتی ہے اور عوام کو جھوٹ پے جھوٹ تحفۃ پیش کیا
جاتاہے۔ (الامان والحفیظ) اور ایک وہ بھی تو سیاسی لیڈر تھے۔ 🌌🌺صدیق اور سیاسی
بصیرت:🌌 سیدنا ابو بکربے پناہ سیاسی بصیرت کے حامل تھے اور حالات کے نشیب و
فراز پر گہری نگاہ رکھتے تھے اپنے دور کی حکومتوں اور ان کےقوانین سے بھی پوری طرح
آگاہ تھے اس وقت ایران اور روم کی دو مملکتوں کا تمام دنیا میں شہرہ تھا اور کسی
معاصر حکومت کو ان کے سامنے سر اٹھانے کی جرأت نہ تھی اور جمہوریت کا اس زمانے میں
کہیں نام و نشان نہ تھا تمام حکومتیں جبروآمریت کی بنیاد پر قائم تھیں آج کے
حکمرانوں کی طرح رعایا ان کے ہاتھوں سخت تکلیف میں مبتلا تھی ہر باشندہ ملک کو
انہوں نے دبا کر رکھا ہواتھا اور لوگوں سے اچھوتوں کا سا برتاؤ رکھا جاتا تھا سیدنا
ابو بکر کے عہد خلافت میں دنیا کی ان دو عظیم مملکتوں کے جو علاقے مسلمانوں کے
ہاتھوں فتح ہوئے وہاں کامل مساوات کا قانون نافذ کیا گیا سیدنا صدیق نے فوج کے سر
براہوں کے نام حکم جاری کیا کہ بلا امتیاز مذہب و ملت سب سے یکساں معاملہ کیا جائے
کسی سے بے گارنہ لی جائے اور کسی کو محکوم اور مفتوح سمجھ کر مبتلائے اذیت نہ کیا
جائے چھوٹے بڑے ہر طبقے کے لوگوں سے عدل و انصاف کیا جائے کسی قوم کی عبادت گاہوں
کو منہدم نہ کیا جائے مذہبی اور معاشرتی آزادی کا کھلے الفاظ میں اعلان کیا جائے
حالانکہ مفتوحہ علاقے کے لوگوں نے مساوات کا کبھی نام تک بھی نہیں سناتھا وہ
مسلمانوں کے اس طرز عمل اور طریق گفتگو سے نہایت خوش ہوئے اور بہت سے لوگ صرف ان
کے اس رویے سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔(ابو بکر صدیق لمحمد حسین ھیکل صفحہ 25) 🌹جیسے حکمران ویسی رعایا: ایک بدوی خاتون نے سیدنا صدیق سے پوچھا اے خلیفہ رسول جاہلیت کے بعد
اللہ نے ہمیں اسلام کیوجہ سے جو نعمت عطا کی ہے ہم اس پر کب تک قائم رہیں گے صدیق
نے فرمایا: بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ تم لوگ اس پر اس وقت تک قائم رہو گے جب تک تمہارے حکمران اسلام پر
قائم رہیں گے وہ کہنے لگی حکمرانوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ صدیق نے فرمایا: أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُؤُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ
فَيُطِيعُونَهُمْ کیا تمہاری قوم کے شرفاء اور سردار نہیں ہیں جو قبیلے والوں کو حکم دیتے
ہیں اور وہ ان کی اطاعت کرتے ہیں اس نے کہا بالکل ہیں۔ جناب صدیق نے فرمایا: فَهُمْ أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ یہی لوگ تو حکمران ہیں۔ (صحیح بخاری3834) (Muhammad Anser) (03336700515) 🌌🌹وسعت علم اور صدیق:🌌 رحمت کائنات نے دنیائے اسلام کے پہلے حج میں سیدنا صدیق کو مدینہ
منورہ سے امیر الحج بناکر روانہ فرمایا عبادات میں سے مناسک حج کا علم انتہائی دقیق
ہے اگر صدیق کے پاس وسعت علم نہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی امیر
الحج نہ بناتے اور اسی طرح نماز کے معاملہ میں بھی رحمت کائنات نے سیدنا صدیق ہی
کو اپنا نائب بنایا اور رسول اکرم نے سیدنا انس سےجو کتاب الصدقہ لکھوائی تھی اس
کو سیدنا صدیق سے روایت کیا ہے وہ صدقہ کے بارے میں سب سے زیادہ قابل اعتماد دستاویز
ہیں کوئی شرعی مسئلہ ایسا نہیں جس میں سیدنا صدیق نے غلطی کی ہو۔ جبکہ دیگر صحابہ
کرام کے کئی ایک ایسے مسئلے مذکور ہیں جن میں انکو غلطی لگی۔(ابو بکر افضل الصحابہ ص 60) 🌹اجتہاد اور صدیق: سیدنا صدیق کے سامنے کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا جس کی اصل کتاب اللہ
اور سنت رسول اللہ سے نہ ملتی تو وہ اس میں اجتہاد کرتے اور کہا کرتے تھے: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْي فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ،
وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمَنَ الشَّيْطَانِ السنن الصغير للبيهقي (2/ 362) میں اپنی رائے سے کہتا ہوں اگر یہ صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور
اگر غلط ہے تو یہ میری غلطی ہے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی مسئلہ آتا تو وہ کتاب اللہ سے اس کا حل
ڈھونڈتے اگر مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے اگر نہ ملتا تو پھر صحابہ کرام سے
اس بارے میں پوچھتے ایسے موقعوں پر آپ کہا کرتے تھے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى جَعَلَ فِينَا مَنْ يَحْفَظُ عَنْ
نَبِيِّنَاصلى الله عليه وسلم السنن الكبرى للبيهقي (10/ 114) اللہ کا شکر ہے ہم میں ایسے لوگ موجو دہیں جنہوں نے رسول کی سنت کو
محفوظ کر رکھا ہے۔ ۔لیکن دور حاضر میں اہل الرائے کا ایک ٹولہ دلیلیں تو ابو بکر و عمر
کے اجتہاد کی پیش کرتے ہیں لیکن ان کے اکثر و بیشتر مسائل حدیث رسول سے ٹکرا رہے
ہوتے ہیں ۔ سچ کہا تھا سیدنا علی نے (الکلمۃ حق أرید بہا الباطل) آئیڈیل اور
نمونہ تو صحابہ کے اجتہاد کو پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں شریعت کی مخالفت کرتے ہیں
اللہ انہیں ہدایت دے اور دین کی سمجھ دے۔ 🌌🌹صدیق بطور فیصل:🌌 سیدنا ابو بکر صدیق نے اپنے نہایت معتمد ساتھی سیدنا عمر فاروق کے
خلاف ایک مقدمہ میں فیصلہ دیا تھا۔آئیے اس واقعہ کے بارے میں ان کا موقف پڑھتے ہیں
ہوا کچھ یوں کہ سیدنا عمر نے اپنی ایک انصاری اہلیہ کو طلاق دے دی تھی اس خاتون سے
ان کا بیٹا عاصم تھا کچھ عرصہ بعد سیدنا عمر نے دیکھا کہ وہ انصاری خاتون اپنے بیٹے
کو اٹھائے تھی اور بچہ دودھ پینا چھوڑ چکا تھا اور اب چلنے پھرنے کےقابل ہوگیا تھا
سیدنا عمر نے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر ماں سے چھیننا چاہا اور تھوڑی سختی بھی کی کہ
بچہ رونے لگا سیدنا عمر کہنے لگے میں اپنے بیٹے کا تمہاری نسبت زیادہ حقدار ہوں یہ
جھگڑا سیدنا صدیق تک پہنچا تو سیدنا صدیق نے ماں کے حق میں فیصلہ دے دیا اور فرمایا
اس بچے کے لیے ماں کی محبت و شفقت اس کو گود اور بستر تمہاری نسبت زیادہ بہتر ہے
حتی کہ بچہ جوان نہ ہوجائے اور اپنا فیصلہ خود نہ کرے کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا
ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ماں زیادہ مشفق و مہربان زیادہ رحم دل زیادہ
محبت کرنے والی اور زیادہ نرم مزاج ہےجب تک وہ عورت دوسری شادی نہ کرے تب تک وہ
بچے کی زیادہ حقدار ہے۔(مصنف عبدالرزاق 54/7 حدیث 2600) 🌹صدیق بطور خطیب: سیدنا ابو بکر نے لشکر اسامہ کے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے
لوگو! ٹہرو میں تمہیں کچھ ہدایات دینا چاہتا ہوں۔ انہیں اچھی طرح یاد کرلو، نہ خیانت
کرنا، نہ مال غنیمت چرانا، نہ بد عہدی کرنا، نہ لاشوں کی بے حرمتی کرنا، نہ پھل
دار درخت کاٹنا، نہ بلاضرورت بکری گائے اور اونٹ ذبح کرنا۔(اب ذرا سوچئے جتنے
کاموں سے سیدنا صدیق نےمنع کیا ہے ان میں سے وہ کونسا ایسا کام ہے جو ہم اورہمارے
حکمران نہیں کرتے؟ پھر فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ وہ ان سب امور کی پابندی کر کے فتح
عزت وعظمت و کامیابی ان کا ثمرہ بنتی تھی اور ہم ان سب کاموں میں مخالفت کرتے ہیں
تو ذلت و رسوائی آج ہمارا مقدر بن چکی ہے) عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس سے گزروگے
جو گرجا گھروں میں عبادت میں مصروف ہوں گے۔ان سے تعرض نہ کرنا، تم ایسے لوگوں کے
پاس جا رہے ہوجو تمہارے لیے رنگ برنگے کھانے لائیں گے تم ہر کھانے سے پہلے بسم
اللہ پڑھنا تمہارا ایسے لوگوں سے مقابلہ ہوگا جنہوں نے اپنے سر درمیان سے مونڈ رکھے
ہونگے اور بقیہ بالوں کو پٹیوں کی مانند چھوڑ دیا ہوگا ایسے لوگوں کو تہ تیغ کر دینا،
اب اللہ کا نام لیکر روانہ ہو جاؤ۔پھر سیدنا ابوبکر نے سیدنا اسامہ کو نصیحت کرتے
ہوئے فرمایا: اصنع ما أمرك به نبي الله صلى الله عليه و سلم ابدأ ببلاد قضاعة ثم
إيت آبل ولا تقصرن في شيء من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا تعجلن لما
خلفت عن عهده رسول کے حکم کی تعمیل کرنا جنگ کی ابتدا بلاد قضاعہ سے کرنا پھر آبل
(موجودہ اردن کے جنوب میں واقع ایک شہر ہے) پر حملہ آور ہونا لیکن رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم میں ذرہ بھر بھی کوتاہی نہ کرنا اور رحمت کائنات کے عہد
سے پیچھے مت ہٹنا۔ سیدنا اسامہ کا لشکر چلاگیا اہل لشکر امام کائنات کے حکم کے مطابق
قضاعہ کےقبائل پر حملہ آور ہوئے آبل فتح کیا اور مال غنیمت او رفتح کے ساتھ
سرخرو ہوکر لوٹے ان کا یہ پورا مشن چالیس روزہ تھا اور چالیس ہی دن میں مکمل کامیابی
مل گئی۔(تاریخ الطبری 45-47/4،والسیرہ النبویۃ الصحیحہ للدکتور العمری
470-467/2) 🌹سیدنا صدیق کی اولو العزمی:"🌹 سیدنا صدیق نہایت درجہ اولو العزم اور صمیم القلب خلیفہ تھے ان کی
اولوالعزمی کے واقعات تو بہت ہیں لیکن یہاں ہم چند ایک ذکر کرتے ہیں۔ 1۔ مرتدین اور مانعین زکاۃ
کا فتنہ بپا ہوا تو سیدنا صدیق نے فتنہ بپا کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنےکااعلان
فرمایا زیادہ تر صحابہ نے اس بات سے اختلاف کیا جن میں سیدنا عمر بھی شامل تھے لیکن
سیدنا صدیق اپنے ارادے پر قائم رہے اور بہ درجہ غایت اولوالعزمی کا مظاہرہ کرتے
ہوئے صاف لفظوں میں فرمایا کہ جو لوگ نماز اور زکاۃ میں فرق کرینگے میں ان سے ضرور
جنگ کروں گا چاہے مجھے اکیلا ہی کیوں نا مقابلہ کرنا پڑے۔ 2۔ عراق میں مثنی بن حارثہ
شیبانی جب برسر پیکار تھے تو انہوں نے دربار خلافت سے مزید فوج کا مطالبہ کیا تو سیدنا
صدیق نے ان کی امداد کےلیے خالد بن ولید کو اچھی خاصی فوج دیکر عراق روانہ کیا۔ 3۔ شام کے محاذ پر فوج بھیجنے
کی ضرورت پڑی تو تمام عرب سے فوجیں جمع کیں پھر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح اور اسلامی
فوج کے سربراہوں کی طرف سے جو شام میں مقیم تھے دشمن پر حملہ کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ
سی ہوئی تو سیدنا خالد بن ولید کو وہاں پہنچنے اور حملہ کرنے کا حکم دیا۔(الصدیق ابو بکر لمحمد حسین ھیکل ص 40،41) 🌹سیدنا صدیق کا وقت رحلت: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر کی بیماری کی
ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے سخت سردی والے دن غسل کیا تو انہیں بخار ہوگیا جو
پندرہ دن تک جاری رہا بیماری کی شدت کے باعث آپ ان دنوں مسجد نہ جا سکتے تھے اس لیے
سیدنا عمر کو نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے۔ صحابہ کرام آپ کی تیمارداری کرنے آتے
تھے سب سے زیادہ خبر گیری سیدنا عثمان کرتے تھے۔ (اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم لمحمود المصری) جب انکی بیماری شدید ہوگئی تو ان سے عرض کیا گیا ہم آپ کے لیے طبیب
بلائیں؟ تو فرمایا: قَدْ رَآنِي فَقَالَ: إِنِّي فَعَّالٌ لِمَا أُرِيدُ ترتیب و تہذیب البدیہ والنہایہ للدکتور السلمی،ص 33 طبیب نے مجھے دیکھ لیا ہے اور وہ کہتا ہے بیشک میں جو چاہتا ہوں
کرتاہوں۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا ابو بکر نے فرمایا:انظروا ماذا زاد في مالي منذ دخلت في الإمارة فابعثوا به إلى الخليفة
بعدي صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی 265/1 جب سےمیں خلیفہ بنا ہوں اس دوران جتنا مال بڑھا ہے وہ میرے بعد والے
خلیفہ کو پہنچا دینا۔ ہم نے جب ان کا مال چیک کیا تو ایک نوبی غلام تھا مصر کے جنوب میں
سوڈان کے شہر نوبہ میں ایک قوم آباد تھی یہ غلام انہیں میں سے تھا اور یہ خلیفہ
کے بچے کھلاتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اونٹ تھا جو ان کے باغ کو سیراب کرتا تھا ہم نے یہ
دونوں چیزیں سیدنا عمر کی خدمت میں بھیج دیں تو وہ رو پڑے اور روتے روتے فرمایا:
ابو بکر پر اللہ کی رحمتیں ہوں انہوں نے اپنے بعد والوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔(صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی 265/1) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین
بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم) جاری ہے..... قـســــــط نمــــــــبر 5 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🌌🌺ارادہ ہجرت🌺🌌 جب قریش مکہ کے مظالم اپنی انتہا کو چھونے لگے تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے
مسلمانوں کو حبشہ کی جانب ہجرت کی اجازت دے دی۔ اہل ایمان کی بڑی تعداد نے اس پر
لبیک کہا اور حبشہ کی جانب ہجرت کرنا شروع
کردی۔ اس موقع پر آپ بھی حکم نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سرتسلیم خم کرتے
ہوئے حبشہ کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ تاہم اہلیان مکہ میں آپ کی عزت کا یہ عالم تھا
کہ آپ نے اپنے سفر کا کچھ ہی حصہ طے کیا تھا کہ کفار مکہ کے ایک طاقتور سردار ابن
دغنہ سے برداشت نہ ہو سکا۔ اس نے باوجود ایمان نہ لانے کے آپ کو روک لیا اور اپنی
حمایت اور پناہ پیش کردی۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ہوجانے کے باوجود
آپ کی مکہ میں کس قدر عزت و منزلت تھی۔ ⬛💞القاب و خطاب💞⬛ صدیق اور عتیق آپ کے خطاب ہیں جو آپ کو دربار رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عطا ہوئے۔ آپ کو
دو موقعوں پر صدیق کا خطاب عطا ہوا۔ اول جب آپ نے نبوت کی بلا جھجک تصدیق کی اور
دوسری بار جب آپ نے واقعہ معراج کی بلا تامل تصدیق کی۔ اس روز سے آپ کو صدیق اکبر
کہا جانے لگا۔ 🔲💞مدینہ ہجرت💞🔲 جب سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت
کا حکم دیا تو آپ کو سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہمسفر بننے کا اعزاز حاصل
ہوا۔ اس سفر میں آپ نے تمام مواقعوں بالخصوص غار ثور میں قیام کے دوران حق دوستی ادا کر دیا۔ آپ کو اس سفر ہجرت
کے حوالے سے میں " ثانی اثنین " کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔(سورۃ توبہ 40 ) غار ثور مکہ معظمہ کی دائیں جانب تین میل کے فاصلے پر ثور پہاڑ میں واقع ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی تو تین دن تک یہاں قیام کیا۔ قرآن میں
ہجرت کا بیان کرتے ہوئے جس غار کا ذکر کیا
گیا ہے وہ یہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جناب حضرت ابوبکر صدیق بھی
تھے۔ اسی لیے انہیں یار غار کہتے ہیں۔ اس غار کا دہانہ اتنا تنگ ہے کہ لیٹ کر
بمشکل انسان اس میں داخل ہو سکتا ہے" ابوبکر صدیق نے اول غار کو صاف کیا بعد ازاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار میں تشریف لے گئے۔
اور باذن الہیٰ غار کے دہانے پر مکڑی نے جالا تنا، ۔[1] جب مشرکین مکہ نشان شناسوں کی مدد سے غار ثور کے دہانے تک
پہنچ گئے اور نشان شناس نے کہہ دیا کہ قدموں کے نشان یہیں تک ہیں، اسی غار میں ہوں
گے، تلاش کرنے والی پارٹی نے جب غار ثور کے دہانے پر مکڑی کا جالا دیکھا تو نشان
شناس کو بیوقوف گردانا اور کہا اگر اس غار میں کوئی داخل ہوا ہوتا تو کیا یہ مکڑی
کا جالا باقی رہ سکتا تھا۔فَرَأوا علی بابہ نسیج العنکبوت فقالوا لو دخل ھنا لم یکن نسیج
العنکبوت علی بابہ۔ تو غار کے دروازے پر مکڑی کا جالا دیکھ کر کہا کہ اگر کوئی اس
میں جاتا تو غار کے دہانہ پر مکڑی کا جالا باقی نہ رہتا۔[2][3] 🔲🌻غار🌻🔲 زیر زمین ایک خلا ہوتا ہے جو اتنا بڑا ہو کہ جس میں ایک انسان داخل
ہو سکے۔ غاریں عام طور پر چٹانوں پر موسمی اثرات کی وجہ سے اکثر گہری زمین میں تشکیل
پاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق غاروں کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 3000 میٹر تک ہوتی
ہے۔ زیادہ گہری غاریں اپنے اوپر موجود چٹانوں کے وزن سے اکثر دب بھی جاتی ہیں۔ (Muhammad Anser)(03336700515) ⬛💞ایثار و سخاوت💞⬛ آپ کو بدر ،احد،خندق،تبوک،حدیبیہ،بنی نضیر، بنی مصطلق ،حنین، خیبر،فتح
مکہ سمیت تمام غزوات میں سرکار دو عالم صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہمراہی کا شرف حاصل رہا۔ غزوہ تبوک میں آپ نے جو اطاعت
رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اعلی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ اس
غزوہ میں سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ترغیب پر تمام صاحب استطاعت
صحابہ نے دل کھول کر لشکر اسلامی کی امداد کی مگر ابوبکر نے ان سب پر اس طرح سبقت
حاصل کی کہ آپ اپنے گھر کا سارا سامان لے آئے۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ " اے ابوبکر! گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے
"؟ تو آپ نے عرض کی " گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم ہی کافی ہے "۔ پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بسصدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔ جاری ہے... قـســــــط نمــــــــبر 6 سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میں میں نے جس شخص پر اسلام پیش کیا اس نے پس وپیش سے کام لیا مگر ایک
واحد ابوبکر تھے جنہوں نے میری ایک آواز پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا۔ابو بکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا اتنا نفع مجھے کسی کے مال
سے نہیں پہنچا۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق نے روتے ہوئے عرض کیا " یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! میں اور میرا مال سب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کا
ہے۔میں اگر اللہ کے سوا کسی کو اپنا دوست و خلیل بناتا تو ابوبکر کو
بناتا۔ایک موقع پر سرکار صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج
سے مسجد نبوی میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیے جائیں آئندہ صرف
ابوبکر کا دروازہ کھلا رکھا جائے گا۔آپ امت پر اتنے شفیق تھے کہ ایک روز سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "میری امت پر ان میں سب سے مہربان ابوبکر ہیں۔
"(ترمذی)تم (ابوبکرصدیق) غار میں بھی میرے ساتھ رہے اور بروز قیامت حوض کوثر
پر بھی میرے ہمراہ ہوگے۔ (ترمذی)انبیا کرام کے سوائے سورج کبھی ابوبکر سے بہتر آدمی پر طلوع نہیں
ہوا۔ کسی قوم کے لیے بہتر نہیں کہ ان میں ابوبکر ہوں اور ان کی امامت کوئی
دوسرا کرے۔اے ابوبکر! تم کو اللہ جل شانہ نے آتش جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ اسی
روز سے آپ کا لقب عتیق مشہور ہو گیا۔ایک روز آپ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا " یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم! کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کو بروز قیامت جنت کے تمام
دروازوں سے بلایا جائے گا؟ "، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا " ہاں ابوبکر! مجھے امید ہے کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو"
(بخاری)سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک روز ارشاد فرمایا
" ہم نے ہر شخص کے احسان کا بدلہ چکا دیا مگر ابوبکر کے احسانات ایسے ہیں کہ
ان کا بدلہ اللہ جل شانہ ہی عطا فرمائے گا"۔آپ کو یہ اعزاز بھی تنہا حاصل ہے کہ آپ کی مسلسل چار نسلوں کو شرف
صحابیت حاصل ہوا۔ آپ کے والد گرامی حضرت ابی قحافہ آپ خود، آپ کے صاحبزادے عبد
الرحمن اور پوتے ابو عتیق محمد بھی شرف صحابیت سے مشرف ہوئے۔ رسالت مآب صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے ساری زندگی آپ پر کسی دوسرے کو فضیلت نہیں دی۔ 🔲🌺صحابہ کی نظر میں🌺🔲 حضرت عمر فرماتے ہیں کہ " حضرت ابوبکر ہمارے سردار، ہمارے بہترین
فرد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے۔ ایک موقع پر حضرت عمر فاروق نے ارشاد فرمایا کہ " اگر ابوبکر شب
ہجرت میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اور مرتدین سے قتال کا
کارنامہ مجھے دے کر میری ساری عمر کے اعمال لے لیں تو میں سمجھوں گا کہ میں ہی
فائدے میں رہا"۔ حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ " ابوبکر نے ایسا راستہ اختیار کیا
کہ اپنے بعد آنے والے کو مشقت میں ڈال گئے "۔ اس عظیم خلیفہ نے ہر معاملے میں اپنا وہ ہی معیار رکھا جو اس وقت کسی
عام مزدور کا ہوا کرتا تھا۔ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس رب کی جس نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری رسول بنا کر بھیجا اور ابوبکر سے اس
کی تصدیق کروائی۔(تاریخ خلفاء) حضرت معصب بن عمیر فرماتے ہیں "اس امرپر تمام امت کا اتفاق ہے
کہ حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے کیونکہ آپ نے بے خوف و نڈر ہوکر رسالت مآب صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کی اور اس میں کسی قسم کی کوئی جھجک سرزد نہیں ہوئی۔ ------------------------------------------سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بصیرت و تدبر، عزم و استقلال، وفاداری
و فداکاری، ایثار و انفاق کا مرقع خیر، مجسم اسلام کے مردِ مومن کی سچی تصویر تھے،
وہ ثانی اثنین فی الغار، وہ جانثارِ ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پروانہ
شمع رسالت، اسلام کے پہلے خلیفہ راشد، ہر دور میں اہلِ حق اور متلاشیان راہ حق و
ہدایت کے لئے اصحاب رسول میں سے نمونہ کامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنکے بارے میں حضرت اسد بن زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے
ہیں کہ’’میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کو خطبہ دیتے
ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توجہ فرمائی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کو نہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا ابوبکر! ابوبکر! روح
القدس جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ میری اُمت میں سے میرے بعد سب سے
بہتر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ ‘‘(طبرانی، معجم الأوسط، 6/292، رقم : 6448) آپ رضی اللہ عنہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سمندر میں اپنی
ذات کو فنا کر چکے تھے۔ دولتِ دنیا ان کے سامنے ہیچ تھی۔ اسم محمد صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم لبوں پر مچلتا تو لہو کی ایک ایک بوند وجد میں آ جاتی، ہمہ وقت بارگاہ
مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سراپائے ادب رہتے، اور سود وزیاں سے بے نیاز ہر
وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اشارے کے منتظر رہتے کہ کب حکم ہو اور وہ اپنی
جان و مال آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں پر نثار کریں۔ایک موقع پر جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ دینے
کا حکم فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جو کچھ تھا وہ سب کچھ لے
کر حاضر خدمت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! اپنے گھر
والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا : میں ان کے لئے اللہ تعالی اور
اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑ آیا ہوں۔‘‘(ترمذی، السنن، کتاب المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ،
باب فی مناقب ابی بکر و عمر رضی الله عنهما کليهما، 6 : 614، رقم : 3675) گویا وہ بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بقول شاعر یوں
عرض گزار ہوئے۔ اے تجھ سے دیدہ مہ و انجم فروغ گیراے تیری ذات باعث تکوین روزگار (اقبال) جملہ صفات کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی وفا شعاری اور حضور علیہ
الصلوۃ والسلام کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آپ کو وہ مقام و مرتبہ عطا کیا جس پر ساکنانِ عرش بھی رشک
کرتے ہیں۔ 🌹صحابی رسول کا لقب نص قرآنی سے🌹 قرآن مجید میں الحمد سے والناس تک ایک لاکھ چودہ ہزار یا چوبیس ہزار
صحابہ کرام کی جماعت میں سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی ایک فرد ہیں جنکی
صحابیت پر اللہ رب العزت نے نص صریح کے ساتھ مہر تصدیق لگا دی۔ ان کو صحابی رسول،
اللہ تعالی نے خود قرار دیا ہے۔ غار ثور میں ہجرت کے وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام
کا یارِ غار ہونے کا شرف آپ کو نصیب ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سورہ توبہ کی
آیات میں اس طرح شان بیان کی گئی۔ إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ
كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ
لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ
وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ
السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌo(التوبه، 9 : 40) ’’اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبہ اسلام
کی جدوجہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بے شک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی)
مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو
(ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جب کہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ) سے فرما رہے تھے غمزدہ نہ ہو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ
نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت
بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور
اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہےo‘‘ اس میں ’’اذ یقول لصاحبہ‘‘ جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق) سے فرما
رہے تھے کے الفاظ قرآن مجید میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا بیانِ
فضیلت ہے اور یہ لقب کائناتِ صحابہ میں کسی اور کو عطا نہیں کیا گیا۔ (سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مقام قربت و معیت، ڈاکٹر محمد
طاہرالقادری) 💞یار غار ہونے کا شرف💞 جب قریش کی ایذاء رسانی حد سے بڑھ گئیں اور مسلمانوں کو ستانے میں
انہوں نے کوئی کسر باقی نہ رکھی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم اور حبشہ کے بعد پھر مدینہ ہجرت کا حکم فرمایا۔ اور خود حضور نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم خداوندی کے منتظر تھے، جب اللہ نے آپ کو حکم ہجرت دیا
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ہجرت کا ذکر
فرمایا۔ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پکار اٹھے ’’اے اللہ کے رسول مجھے بھی معیت سے نوازئیے۔ ‘‘ارشاد گرامی ہوا ’الصحبۃ‘ معیت تو ضرور ہو گی اس مصائب والے سفر میں
تم میرے ساتھ ہو گے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔’’بخدا مجھے اس دن سے قبل معلوم نہ تھا کہ کوئی خوشی سے بھی آنسو بہاتا
ہے میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس روز روتے دیکھا۔‘‘ (سيرت ابن هشام، 1 : 485) اور یوں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہجرت کے وقت پیغمبر خدا کا
ساتھی ہونے اور یار غار ہونے کا لازوال اعزاز حاصل ہوا اور غار ثور میں تین دن اور
تین راتیں متوجہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور متوجہ علیہ ابوبکر رضی
اللہ عنہ تھے۔ بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ ’’حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جنگِ ذاتِ السلاسل کا امیرِ لشکر بنا کر روانہ فرمایا
جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : (یارسول ﷲ!)
عورتوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا : عائشہ کے ساتھ۔ میں نے پھر عرض کیا : مردوں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا : اُس کے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ۔ میں نے عرض کیا
پھر اُن کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عمر بن خطاب کے ساتھ۔ اور
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے بعد چند دوسرے حضرات کے نام لئے۔‘‘ (بخاری، الصحيح، کتاب : فضائل أصحاب النبي صلی الله عليه وآله وسلم،
باب : من فضائل أبی بکر الصديق، 3/1339، الرقم : 3462) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ سے جو محبت تھی وہ صرف اس وجہ سے نہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب
کچھ نچھاور کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے بلکہ یہ محبت اس وجہ سے بھی تھی کہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی ذاتی خصوصیات، اپنے اعلی اوصاف اپنے کردار اور
باکمال صلاحیتوں کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں بہت
اونچا مقام رکھتے تھے۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا ’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمارے سردار، ہم سب سے بہتر اور حضور
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے۔‘‘ (ترمذی، السنن، کتاب المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ،
باب مناقب ابی بکر صديق رضی الله عنه 5 : 606، رقم : 3656) ’’امام زہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم نے ابوبکر (صدیق
رضی اللہ عنہ) کے بارے میں بھی کچھ کلام کہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں (یا رسول
ﷲ!)۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ کلام پڑھو تاکہ میں بھی
سنوں۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ یوں گویا ہوئے : وہ غار میں دو میں سے دوسرے تھے۔ جب
وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر پہاڑ (جبل ثور) پر چڑھے تو دشمن نے اُن
کے ارد گرد چکر لگائے اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم ہے کہ وہ (یعنی حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ) رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب ہیں اور آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شخص کو اُن کے برابر شمار نہیں کرتے ہیں(یہ سن کر) رسول ﷲ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ
مبارک ظاہر ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حسان تم نے سچ
کہا، وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) بالکل ایسے ہی ہیں جیسے تم نے کہا ہے۔‘‘ (حاکم، المستدرک، 3 : 67، رقم : 4413) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کو اپنا ساتھی، دوست، نائب اور وزیر قرار دینا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہمہ وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی
صحبت میں رہتے تھے جس کی وجہ سے آپ پورے اسلام کو سمجھتے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام کی روح کو سمجھا۔ دعوت کی حقیقت
اور مزاج کا احاطہ کیا۔ ربانی منہج آپ رضی اللہ عنہ کے اندر جاگزیں ہو گیا اور اسی الٰہی
منہج کی روشنی میں اللہ عزوجل، حیات و کائنات کی حقیقت اور وجود کے راز کی معرفت
آپ نے حاصل کی عبادات، قیام اللیل، ذکر الٰہی، تلاوت قرآن پاک آپ کو انتہائی محبوب
ہو گئیں۔ ہر وقت صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں رہنے سے نفس کی تطہیر اور
روح کا تزکیہ عمل میں آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اخلاص اور للہیت نے آپ کو بارگاہ
مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں وہ خاص مقام عطا کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے آپ کو اپنی امت میں اپنا نائب اور دوست قرار دیا۔ ’’حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگرمیں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو
ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔ ‘‘ (بخاری، الصحيح، کتاب : المناقب، باب : قول النبی : لو کنت متخذا
خليلا، 3/1338، رقم : 3456) ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جو کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی خدمت میں رہتے تھے سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرضِ وصال کے دوران صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم کو نماز پڑھایا کرتے تھے، یہاں تک کہ پیر کا دن آ گیا اور صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم نماز کی حالت میں صفیں باندھے کھڑے تھے۔ (اِس دوران) حضور نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(اپنے) حجرہ مبارک سے پردہ اُٹھایا اور کھڑے ہو کر ہمیں دیکھنے
لگے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور کھلے ہوئے قرآن
کی طرح ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبسم ریز ہوئے۔ پس ہم نے ارادہ کیا کہ
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی خوشی سے نماز توڑ دیں پھر حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں کے بَل (مصلّی امامت سے) پیچھے لوٹے تاکہ صف میں
شامل ہو جائیں اور گمان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے
(گھر سے) باہر تشریف لانے والے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں
اشارہ فرمایا کہ تم لوگ اپنی نماز کو مکمل کرو اور پردہ نیچے سرکا دیا۔ پھر آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُسی دن وصال ہو گیا۔‘‘ (بخاری، الصحيح، کتاب : الأذان، باب : أَهْلُ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ
أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ، 1 : 240، رقم : 648) اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کے لئے
مناسب نہیں کہ ان میں ابوبکر صدیق موجود ہوں اور اُن کی امامت اِن (یعنی ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ) کے علاوہ کوئی اور شخص کروائے۔ ‘‘ (ترمذی، السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم،
باب : فی مناقب ابی بکر وعمر رضی اﷲ عنهما کليهما، 5 : 614، رقم : 3673) روزِ آخرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ: ’’اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم عتیق یعنی ﷲ تعالیٰ کی طرف سے
آگ سے آزاد ہو۔ پس اُس دن سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ’’عتیق‘‘ رکھ دیا گیا۔‘‘ (ترمذی، السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم،
باب : فی مناقب ابی بکر وعمر رضی اﷲ عنهما کليهما، 5 : 616، رقم : 3679) (Muhammad Anser) (03336700515) ’’حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر مجھے جنت کا وہ
دروازہ دکھایا جس سے میری اُمت (جنت میں) داخل ہو گی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے
عرض کیا : یا رسول ﷲ! کاش میں آپ کے ساتھ ہوتا تاکہ میں بھی جنت کا وہ دروازہ دیکھتا
تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا تم تو میری اُمت کے
وہ پہلے شخص ہو جو جنت میں اُس دروازہ سے داخل ہو گا۔‘‘ (ابو داؤد، السنن، کتاب السنة، باب الخلفاء، 4 : 213، رقم : 4652) المختصر یہ کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جو مقام و مرتبہ اللہ
اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں نصیب ہوا۔ اس کی وجہ آپ رضی
اللہ عنہ کا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ اقدس کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت
اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں انتہا درجے کی ایسی تعظیم و تکریم ہے
جس کا رنگ آپکے جملہ اعمال اور ارادوں پر چڑھا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ کے اخلاص اور
وفا شعاری نے قیامت تک آنے والے ہر اس کارکن کو سلیقہ محبت اور قرینہ ادب سکھا دیا
جو مشن مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ کے لئے کوشاں ہے اور روزِ قیامت
آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی سنگت و معیت کا خواہاں ہے۔ آخرمیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیرت سیدنا صدیق اکبر رضی
اللہ عنہ سے جو عشاقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صف میں درخشاں آفتاب کی
مانند ہے، محبت و ادب اور وفا و جانثاری کی کرنیں لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ (امین) تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے,دلِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سوزِ صدیق رضی
اللہ عنہ دے (ماخوذ: ماہنامہ دخترانِ اسلام مئی 2012) جاری ہے... قـســــــط نمــــــــبر 7 جس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی تعداد 38 ہوگئی تو ایک دن سیدنا
صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا کہ
کلمہ حق اور اس نئے دین "دین اسلام" کعبہ کے صحن میں تمام مشرکین کی
موجودگی میں اظہار کیا جائے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
"اے ابو بکر ہماری تعداد کم ہے۔"(Muhammad Anser)(03336700515) لیکن صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ برابر اصرار کرتے رہے، حتیٰ کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تمام مسلمان بھی مسجد کے اطراف
میں چلنے لگے اور ہر آدمی اپنے قبیلہ اور خاندان کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوگیا۔
پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کے درمیان خطاب کیلئے کھڑے ہوگئے۔ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، دوسری طرف مشرکین غصہ سے پھٹ رہے
تھے پھر ان مشرکین نے چاروں جانب سے تمام مسلمانوں پر عموما اور سیدنا صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ پر خصوصا حملہ کردیا۔ ہر کوئی بڑھ چڑھ کر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر وار کر رہا
تھا، لیکن عتبہ بن ربیعہ جس نے لوہے کے جوتے پہن رکھے تھے (اور جسے غزوہ بدر میں سیدنا
علی المرتضی یا سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنھم نے جہنم واصل کیا تھا) حضرت صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ کو چہرے اور سینے پر وار کیے جس کے نتیجے میں صدیق اکبر رضی
اللہ عنہ بے ہوش ہوگئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی، آپ رضی
اللہ عنہ کے خاندان والوں نے قسم کھائی کہ اگر ابو بکر کو کچھ ہوا تو ہم بدلے میں
عتبہ بن ربیعہ کو قتل کریں گے۔ تمام خاندان کے لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود تھے۔ شام
کے وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہونٹ ہلے اور آفرین ہو اس شمع رسالت کے پروانے پر
کہ زبان سے جو پہلے الفاظ ادا ہوئے وہ یہ تھے کہ "نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟'' اس سوال کو سن کر تمام خاندان والے غصے سے اپنے اپنے گھروں کو چل دیے
کہ جس کی وجہ سے یہ حال ہوا، اب بھی اسی کا ذکر کر رہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ سے کہا کہ اسے کچھ کھلا پلا دو، لیکن صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ نے کچھ بھی کھانے سے انکار کر دیا، کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کو دیکھ لوں پھر کچھ کھاؤں گا، ناچار والدہ آپ کو سہارا دیکر
دارارقم لے گئیں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما
تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دیکھا
تو سینے سے لگا لیا اور دیر تک دونوں اسی حالت میں آنسو بہاتے رہے۔ پھر صدیق اکبر
رضی اللہ عنہ نے کہا "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ میری والدہ ہیں،
مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں، ان کیلئے دعا کریں کہ اللہ ان کا دل اسلام کیلئے نرم کر
دے۔" اسی موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے آپ
رضی اللہ عنہ کی والدہ نے اسلام قبول کرلیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالرحمٰن بہت بہادر شہسوار
تھے، یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے، فتح مکہ سے پہلے کی تمام لڑائیوں میں
کفار کی جانب سے حصہ لیتے رہے۔ ایک غزوہ میں یہ کفار کی جانب سے میدان جنگ میں آئے اور مسلمانوں میں
سے کسی کو مقابلہ کیلئے بلایا۔۔۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف فرما تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے اپنے بیٹے کے مقابلے میں نکلنے کی اجازت چاہی، لیکن نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرما دیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ایک مرتبہ بیٹے نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا،
"ابا جان بدر کی لڑائی میں ایک موقع پر آپ میرے نشانے پر آئے لیکن میں وہاں
سے ایک طرف کو ہوگیا اور آپ کو قتل نہیں کیا۔" سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا "اگر تم میرے سامنے
آتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن سمجھ کر قتل کردیتا۔" جاری ہے... قـســــــط نمــــــــبر 8 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں بہت سی قرآنی آیات
نازل ہوئی ہیں۔ آپ کا ایمان تمام صحابہ میں سب سے کامل تھا۔ آپ کو بچپن ہی سے بُت
پرستی سے نفرت تھی۔ آپ کے بچپن کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے والد ابو قحافہ (جو بعد میں
اسلام لے آئے تھے) آپ کو بُت خانے لے گئے اور بُتوں کو دیکھ کر کہنے لگے بیٹا یہ
تمہارے خدا ہیں انہیں سجدہ کرو۔ یہ کہہ کر ان کے والد بُت خانے سے باہر چلے گئے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بُت کے قریب گئے اور بُت کو مخاطب کرکے کہنے لگے میں
بھوکا ہوں مجھے کھانا دے۔ بُت کچھ نہ بولا۔ پھر کہا میں برہنہ ہوں مجھے کپڑے دے۔
بُت خاموش رہا۔ پھر آپ نے ایک پتھر اٹھایا اور بُت سے کہا میں تجھے پتھر مارتا ہوں
اگر تو خدا ہے تو اپنے آپ کو بچا۔ بُت چپ رہا۔ آخر آپ نے زور سے اسے پتھر مارا اور
وہ بُت اوندھے منہ نیچے آ گرا۔ اسی وقت آپ کے والد بھی بُت خانے میں آ گئے۔ انہوں
نے جب بُت کو اوندھے منہ گرے ہوئے دیکھا تو بیٹے سے کہا یہ تم نے کیا کیا۔ حضرت
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہی کیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے والد غصے
میں انہیں گھر لے آئے اور ان کی والدہ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق
رضی اللہ عنہ کی والدہ اپنے شوہر سے کہا اس بچے کو کچھ نہ کہو کیونکہ جس رات یہ
بچہ ہوا اس وقت میرے پاس کوئی بھی موجود نہ تھا۔ میں نے ایک آواز سنی کہ کوئی کہہ
رہا ہے۔ اے اللہ کی بندی ! تجھے خوشخبری ہو اس بچے کی جس کا نام آسمانوں پر صدیق
ہے اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یار اور رفیق ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ
عنہ تمام لوگوں میں سب سے افضل ہیں۔ حضور اکرم رضی اللہ عنہ کا ارشاد مبارک ہے کہ
“حضرت ابو بکر صدیق لوگوں میں سب سے بہتر ہیں علاوہ اس کے کہ وہ نبی نہیں۔“ ایک مرتبہ حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اُمت میں سب سے
افضل ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس اُمت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کے بعد سب سے بہتر حضرت ابو بکر اور عُمر رضی اللہ عنھم ہیں۔" (تایخ الخلفاء) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول
کیا۔ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے ایمان کو چھپاتے تھے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی
اللہ عنہ اپنے ایمان کو علی الاعلان ظاہر فرماتے تھے۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 25) حضرت ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ قیامت کے دن تین کُرسیاں خالص سونے کی بنا کر رکھی جائیں
گی اور ان کی شعاعوں سے لوگوں کی نگاہیں چندھیا جائیں گی۔ ایک کرسی پر حضرت ابراہیم
علیہ السلام جلوہ فرما ہوں گے دوسری میں بیٹھوں گا اور ایک خالی رہے گی۔ حضرت ابو
بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لایا جائے گا اور اس پر بٹھائیں گے۔ ایک اعلان کرنے والا
یہ اعلان کرے گا کہ “آج صدیق اللہ کے حبیب اور خلیل کے ساتھ بیٹھا ہے۔“ (شرف النبی امام ابو سعید نیشاپوری صفحہ 279) #سبحان_اللہ ! روزِ محشر بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت
اور شان و شوکت کے پھریرے لہرا رہے ہوں گے۔ لوگ ان کے مقام و مرتبے کو دیکھ کر رشک
کر رہے ہوں۔ حورانِ جنت ان کی عظمت کے ترانے گا رہی ہوں گی۔ ابو داؤد میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے
ابو بکر سن لو میری اُمت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہوگے۔ (ابوداؤد) ترمذی شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ جس کسی نے بھی میرے ساتھ احسان کیا تھا میں نے ہر ایک کا احسان اتار دیا علاوہ
ابوبکر کے۔ انہوں نے میرے ساتھ ایسا احسان کیا ہے جس کا بدلہ قیامت کے دن ان کو
اللہ تعالٰی ہی عطا فرمائے گا۔ (ترمذی شریف) #مسلمانو ! حضرت ابو صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام تمام صحابہ میں سب سے
افضل ہے کوئی صحابی ان سے بڑھ کر فضیلت والا نہیں۔ یوں تو آپ کے فضائل بے شمار ہیں
جن کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں مگر چار خوبیاں آپ میں ایسی ہیں جو کسی بھی
صحابی میں نہیں۔ حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق
رضی اللہ عنہ کو چار ایسی خوبیوں سے سرفراز فرمایا جن سے کسی کو سرفراز نہیں کیا۔
اول آپ کا نام صدیق رکھا اور کسی دوسرے کا نام صدیق نہیں۔ دوئم آپ حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غارِ ثور میں رہے۔ سوئم آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
ہجرت میں رفیقِ سفر رہے۔ چہارم حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے
آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کرام کو نماز پڑھائیں تاکہ دوسرے لوگوں کے آپ امام اور
وہ آپ کے متقدی بنیں آپ کا سب سے مشہور لقب صدیق ہے ، وسمي الصديق لبداره إلى تصديق رسول الله صلى الله عليه وسلم في كل ما
جاء به صلى الله عليه وسلم. وقيل: بل قيل له الصديق لتصديقه له في خبر الإسراء* آپ نے ہر معاملہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے میں پہل
کی ، اس لئے آپ کا لقب صدیق رکھا گیا۔ اللہ تعالی کا نازل کردہ لقب" صدیق" سنن دیلمی میں ، ام ہانی رضی
اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " يا
أبابكر، إن الله سماك الصديق ". #ترجمہ:ائے ابو بکر اللہ تعالی نے تمہارا نام" صدیق "رکھا
ہے- حضرت مولائے کائنات علی مرتضی
کرم اللہ وجہہ الکریم سے منقول ہے کہ یہ لقب اللہ رب العزت نے نازل فرمایا:
آپ حلفیہ بیان کرتے ہیں:لانزل الله عزوجل اسم ابی بکر من السماء الصديق – #ترجمہ:اللہ تعالی نے ابوبکر کے لئے صدیق کا لقب آسمان سے نازل فرمایا۔ (مختصر تاریخ دمشق ،جلد،13،ص52) 🌹واقعہ معراج کی تصدیق🌹 تاریخ الخلفاء میں امام حسن بصری
اورحضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے: وأول ما اشتهر به صبيحة الإسراءآپ کایہ لقب شب معراج کے اگلے دن کی صبح سے مشہور ہوا(تاریخ الخلفاء ص،11) مستدرک علی الصحیحین اور تاریخ
الخلفاءمیں روایت ہے: عن عائشة رضي الله عنها قالت جاء المشركون إلى أبي بكر
فقالوا هل لك إلى صاحبك يزعم أنه أسري به الليلة إلى بيت المقدس قال أو قال ذلك؟
قالوا نعم فقال لقد صدق إني لأصدقه بأبعد من ذلك بخبر السماء غدوة وروحة فلذلك سمي الصديق #ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ شب معراج
کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا ، اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق
کروگے ؟ ، انہوں نے دعوٰی کیا ہے"راتوں رات بیت المقدس کی سیر کرآتے ہیں"ابوبکر
صدیق نے کہا:"بیشک آپ نے سچ فرمایا ہے ، میں تو صبح وشام اس سے بھی اہم امور
کی تصدیق کرتا ہوں"۔ اس واقعہ سے آپ
کا لقب صدیق مشہور ہوگیا"(تاریخ الخلفاء ص،11) #کنیت ، ابوبکر عرب میں بالعموم کنیت کا رواج تھا ، یہ کبھی اولاد کے نام پرہوتی ہے
، جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
کنیت ابوالقاسم ہے اورکبھی کسی اورمناسبت کے پیش نظر رکھ دی جاتی ، جیسے ابوہریرہ
، ابوتراب وغیرہ ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا آسمانی نام: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جبریل امین
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
حاضر تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق کا قریب سے گزر ہوا ، حضرت جبریل نے عرض کیا ، یا
رسول اللہ!وہ ابوقحافہ کے صاحبزادے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم
آسمان میں رہنے والے بھی انہیں پہچانتے ہو؟
جبریل امین نے عرض کی :والذی بعثک بالحق لهو فی السماء اشهر منه فی الارض ،
وان اسمه فی السماء الحليم #ترجمه :قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق ورسالت کے ساتھ مبعوث فرمایا!حضرت
ابوبکر کا زمین کی نسبت آسمانوں پر زیادہ شہرہ ہے ، وہاں ان کانام حلیم ہے ۔(الریاض النضرۃ ،ج1،ص82) تفسیر قرطبی میں حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت
مذکور ہے : حضرت سیدناصدیق اکبر رضی اللہ
عنہ نے اپناسارا مال ومتاع راہ خدا میں خرچ کرنے کے بعد ایک پیوندزدہ عباء پہن کر
حاضربارگا ہ ہوئے جس میں گنڈیوں کی جگہ کانٹے لگے ہوئے تھے ، اسی لمحہ طائر سدرہ
جبریل امین پیغام ِخداوندی لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالی صدیق اکبر کو سلام
فرماتاہے ،آپ اُن سے دریافت کریں کہ وہ اس فقر کی حالت میں اپنے رب سے راضی ہیں کہ
نہیں" حضور اکرم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے جب حضرت صدیق سے فرمایا تو
آپ بے اختیارروپڑے اور کہنے لگے میں اپنے رب سے ناراض کیسے ہوسکتا ہوں؟ بے شک میں
اپنے رب سے راضی ہوں ،اس کو تین بار دہراتے رہے ۔حضرت جبریل نے عرض کیا :حضور! بیشک
اللہ تعالی فرماتاہے ؛میں اُن سے راضی ہوچکا ہوں جس طرح وہ مجھ سے راضی ہے۔ اور
اللہ کے حکم سے تمام حاملین عرش بھی وہی لباس پہنے ہوئے ہیں جوآپ کے صدیق نے پہنا ۔ ﴿ تفسیر قرطبی ،سورة الحدید
، آیت نمبر :10﴾ وعن ابن عمر قال : كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وعنده أبو بكر
وعليه عباءة قد خللها في صدره بخلال فنزل جبريل فقال : يا نبي الله! ما لي أرى أبا
بكر عليه عباءة قد خللها في صدره بخلال ؟ فقال : "قد أنفق علي ماله قبل
الفتح" قال : فإن الله يقول لك اقرأ على أبي بكر السلام وقل له أراض أنت في
فقرك هذا أم ساخط ؟ فقال رسول صلى الله عليه وسلم : "يا أبا بكر إن الله عز
وجل يقرأ عليك السلام ويقول أراض أنت في فقرك هذا أم ساخط" ؟ فقال أبو بكر :
أأسخط "على ربي ؟ إني عن ربي لراض! إني عن ربي لراض! إني عن ربي لراض! قال :
"فإن الله يقول لك قد رضيت عنك كما أنت عني راض" فبكى أبو بكر فقال
جبريل عليه السلام : والذي بعثك يا محمد بالحق ، لقد تخللت حملة العرش بالعبي منذ
تخلل صاحبك هذا بالعباءة- ﴿ تفسیر قرطبی ،سورة الحدید
، آیت نمبر :10﴾ #حلیہ_مبارک آپ کا رنگ سفید ، رخسار ہلکے ہلکے ، چہرہ باریک اور پتلا ، پیشانی
بلند ، منحنی جسم ، چادرباندھتے تو نیچے ڈھلک جاتی اور داڑھی کو سرخ سیاہ مد بی
لگایا کرتے(الکامل فی التاریخ ،ج2،ص420) قریش کے مشہور قبیلہ قارہ کے سردار ابن دغنہ نے آپ کے اوصاف حسنہ کا
بایں الفاظ اعتراف کیا: إنك لتصل الرحم وتصدق الحديث وتكسب المعدوم وتحمل الكل
وتعين على نوائب الدهر وتقري الضيف. #ترجمہ ؛ اے ابوبکر !بے شک آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے
ہیں ، کمزورں کا بوجہ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں مصیبت زدہ افراد کے کام آتے ہیں۔ (تاریخ الخلفاء،12) عہدجاہلیت میں بھی آپ معزز ومکرم امام نووی فرماتے ہیں: وكان من رؤوساء قريش في الجاهلية وأهل
مشاورتهم ومحبباً فيهم وأعلم لمعالمهم ۔ #ترجمہ ؛حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شمار دور جاہلیت میں قریش
کے سرداروں او راہل مشاورت میں ہوتا تھا،آپ کی شخصیت نہایت محبوب تھی، قریش کے
معاملات کو بہتر طور پر سمجھتے تھے" (تاریخ الخلفاء ص،12) شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔۔۔ جاری ہے.............. قـســــــط نمــــــــبر 9 💞خواب میں قبولیت اسلام کی بشارت💞 اعلان نبوت سے پہلے آپ نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھا، آسمان پر چودھویں
کا چمکتا چانداچانک پھٹ گیا، اس کے ٹکڑے مکہ کے ہر گھرمیں بکھر گئے پھر یہ ٹکڑے
سمٹ کراکٹھے ہوئے اوریہ چمکتا ہوا چاند آپ کی گود میں آگیا۔آپ نے یہ خواب اہل کتاب کے عالم کو سنایا تو اُس نے تعبیر بتائی کہ
وہ نبی محتشم جن کا انتظار ہے ؛ اس نبی
آخرالزماں کے آپ معاون ومددگار ہوں گے ۔توجب حضور کی بعثت ہوئی تو آپ نے بلاتوقف بغیر کسی پس وپیش کے اسلام قبول
کرلیا۔جیساکہ سبل الہدی والرشاد میں
ہے: أنه رأى رؤيا قبل، وذلك أنه رأى القمر نزل إلى مكة ثم رآه قد تفرق على جميع
منازل مكة وبيوتها فدخل في كل بيت شعبة، ثم كان جميعه في حجره. فقصها على بعض أهل
الكتابين فعبرها له بأن النبي صلى الله عليه وسلم - المنتظر قد أظل زمانه، اتبعه
وتكون أسعد الناس به، فلما دعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يتوقف.(سبل الہدی والرشاد، ج2،ص303) 🌹مدح صدیق اکبر بزبان حسان بن ثابت: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ، سب سے پہلے کس نے اسلام
قبول کیا ؟ آپ نے فرمایا ، کیا تم نے حضرت
حسان کے یہ اشعار نہیں سنے: إذا تذكرت شجواً من أخي ثقةٍ ... فاذكر أخاك أبا بكرٍ بما فعلا خير البرية أتقاها وأعدلها ... بعد النبي وأوفاها بما حملاوالثاني التالي المحمود مشهده ... وأول الناس ممن صدق الرسل جب تم اپنے سچے بھائی کے دکھ دردکویاد کرنے لگو تواپنے بھائی ابوبکر
کے کارناموں کو یاد کرلینا،حضور اکرم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد تمام مخلوق میں سب سے بہتر ، سب سے زیادہ متقی اور
عادل ہیں ۔آپ حقوق وذمہ داریوں کونبھانے میں سب سے زیادہ وفادار ہیں، آپ حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ، آپ
کے تابع ، ہمیشہ ساتھ رہنے والے اور ممدوح ومرجع خلائق ہیں، آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں؛جنہوں نے سب سے پہلے
رسولوں کی تصدیق کی ۔(الاستیعاب ،ج1،ص294، زرقانی،ج1،ص445) آخری مصرع میں آپ کی اسلام میں اولیت کی زبردست شہادت ہے او رسرکار
دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسے بیان کرنے اور آپ کے سماعت فرمانے سے
اس کی ثقاہت واہمیت محتاج بیان نہیں۔اس کے علاوہ مزید دو اشعار درج ذیل ہیں: والثاني اثنين في الغار المنيف وقد ... طاف العدو به إذ صعدوا الجبلا وكان حب رسول الله قد علموا ... خير البرية لم يعدل به رجلا اس بلند پہاڑ پر واقع غار میں دو معزز شخصیات میں سے دوسرے آپ ہی تھے
؛ جب پہاڑی پر چڑھنے کے بعددشمن غار کے اردگر د منڈلانے لگے ۔آپ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، سب کو معلوم ہے
کہ آپ تمام مخلوق میں (انبیاء کے بعد) سب سے بہتر ہیں اور کوئی بھی ان کے برابر نہیں
۔(الاستیعاب،ج۱،ص295) درس نظامی کی مشہور کتاب شرح عقائد نسفی میں ہے:افضل البشر بعد نبينا
صلی الله عليه وسلم ابو بکر الصديق رضي الله عنه(شرح عقائد نسفی،107) صدیق اکبر کی منقبت سنناسنت مصطفی ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) حافظ ابن عساکر بیان کرتے ہیں ، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
حسان رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا: هل قلت فی ابی بکر شيئا؟ کیا ابوبکر کے بارے میں بھی کچھ کہا ہے؟ عرض کی ہاں ! پھر آپ نے درج
بالا اشعار سنائے۔ فسرالنبی بذلک فقال احسنت ياحسان اشعار سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار مسرت کیا او رفرمایا
اے حسان !تم نے خوب کہا۔ (الاستیعاب،ج۱،ص295) کنزالعمال میں ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قل وانا
اسمع صدیق کی منقبت کہو میں سننا چاہتا
ہوں ،حضرت حسان بن ثابت منقبت سناچکے توحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خوش
ہوگئے ،اورمسکراہٹ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حسان!تم نے سچ کہا ہے واقعی صدیق
ایسے ہی ہیں جیسے تم نے بیان کیا۔فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه وقال: "صدقت
يا حسان" ! هو كما قلت (کنزالعمال ،حدیث نمبر:35673) اس روایت سے ثابت ہوا کہ "نعت" کی طرح منقبت صدیق اکبر کی
سماعت بھی سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور منقبت سنانا سنت صحابہ ہے نیز حضرت سیدنا صدیق اکبر
رضی اللہ تعالی عنہ کی مدح سرائی پر اظہار مسرت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی سنت مبارکہ ہے ۔ #مصدق_اول:حضرت ابولدردار ضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا:ان الله بعثنی اليکم فقلتم : کذبت ،وقال ابوبکر: صدق#ترجمه :اللہ تعالی نے مجھے تم سب کی طرف مبعوث فرمایا تو سب نے میری
تکذیب کی ، جب کہ ابوبکر نے میری تصدیق کی ۔ (صحیح بخاری،ج1،ص517،حدیث نمبر:3261)حمد صدیق اکبر کے لئے تمام ایمانداروں کا ثواب: آپ کے ایمان کی اولیت کا اس حدیث سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے جسے
خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم
سے روایت کیا ، آپ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق
کو فرمایا: ياابابکر ان الله اعطانی ثواب من آمن لی منذخلق آدم الی ان بعثنی ،
وان الله اعطاک يا ابابکر ثواب من آمن بی منذ بعثنی الی ان تقوم الساعة #ترجمه :اے ابوبکر !آدم علیہ السلام سے لے کر میری بعثت تک جوکوئی بھی
مجھ پر ایمان لایا ہرایک کا ثواب اللہ تعالی مجھے پہنچائے گا اور اے ابوبکر! میری
بعثت سے تاقیامت تمام ایمان داروں کا ثواب تجھے ملے گا۔(تاریخ بغداد ،ج4،ص252) حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ
گلزار اولیاء میں رقمطراز ہیں:افضل البشر
بعد ازانبياء سيد نا ابوبکر الصديق رضی الله تعالی عنه- آپ کے بچپن سے متعلق تاریخ الخلفاء میں ہے کہ ایک بار صحابہ کرام میں
سے کسی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے جاہلیت میں
شراب پی ہے ۔آپ نے فرمایا خدا کی پناہ میں نے کبھی شراب نہیں پی ۔لوگوں نے کہا کیوں
؟فرمایا میں اپنی عزت و آبرو کو بچاتا تھا اور مروت کی حفاظت کرتا تھا ۔اس لئے کہ
جو شخص شراب پیتا ہے اس کی عزت و ناموس اور مروت جاتی رہتی ہے ۔جب اس بات کی خبر
حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے دو بار فرمایا سچ کہا ابو
بکر نے سچ کہا ۔ #ایمان : خصائص الکبریٰ اور ریاض النضرہ میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی
اللہ عنہ نے شام میں خواب دیکھا اس کی تعبیر بحیرا راہب سے پوچھی تو اس نے کہا کہ تیری قوم میں ایک
نبی مبعوث ہوگا تو اس کی زندگی میں اس کا وزیر ہوگا اور اس کی وفات کے بعد اس کا
خلیفہ ہوگا ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو اپنے دل میں چھپائے رکھا
پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ
نے اللہ کے نبی سے اس پر دلیل مانگی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اس کی
دلیل وہ خواب ہے جو آپ نے شام میں دیکھا تھا ۔چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا۔ #مقامنگاہنبوت_میں : آپ کا
مقام نگاہ نبوت میں بہت بلند تھاحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
: کوئی چیز ایسی اللہ تعالی نے میرے سینہ میں نہیں ڈالی جس کو میں نے ابو بکر کے سینہ
میں نہ ڈال دیا ہو۔ صحیح مسلم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا ”وہ کون
شخص ہے جس نے آج روزہ رکھ کر صبح کی ہو ؟ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں
نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا وہ کون ہے جو آج جنازہ کے ساتھ گیا ہو ؟
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیامیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا
!وہ کون ہے جس نے آج مسکین کو کھا نا کھلا کر تسکین دی ہو ؟ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ
عنہ نے عرض کیا کہ میں نے !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا ، وہ کون آدمی
ہے جس نے آج کسی بیمار کی خبر گیری کی ہو ؟ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
عرض کیا ، میں نے !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ، یہ کام اُسی آدمی میں جمع
ہوتے ہیں جو جنت میں جائے گا۔ #صحبتومعیت: قبول اسلام سے
پہلے بھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
بہت عمدہ تعلقات تھے اور قبول اسلام کے بعد تو ساری زندگی آپ سے لمحہ بھر کے لیے
جدا نہ ہوئے ۔ یہاں تک کہ آج تک روضہ مبارکہ میں آپ کے پہلو میں ساتھ نبھا رہے ہیں
۔شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔۔۔ جاری ہے... قـســــــط نمــــــــبر 10 #ہجرت : سیرت کی تمام معتبر کتابوں میں ہجرت کا واقعہ تفصیل کے ساتھ
موجود ہے مختصرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اللہ کے دین کی دعوت دیتے
رہے بعض خوش نصیب افراد نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کر لیا لیکن
اکثر اپنی سرکشیوں کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے رفقاء کار کو طرح طرح کی تکالیف دیتے
چنانچہ اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم نازل ہوا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر
خطر سفر میں اپنے رفیق سفر کا جب انتخاب فرماتے ہیں تو آپ کی نگاہ سیدنا صدیق اکبر
پر جا کر ٹھہرتی ہے ۔ اسی سفر میں وہ واقعہ بھی پیش آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر سوار ہو گئے اور چنانچہ سیدنا صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر غار ثور تک پہنچے ۔ غار کی
صفائی کی، آپ تین دن تک وہاں رہے ۔ آپ کی بیٹی روزانہ لوگوں کی نظروں سے بچ بچا کر
آپ کے لیے کھانا پہنچاتیں ۔ دشمن آپ کی تلاش میں پیچھے پیچھے غار تک پہنچ گیا ۔ یہاں
تک کے اس کے قدم بھی دکھائے دینے لگے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم
کے بارے میں خوف ہوا تو تسلی کے لیے قرآن کی آیات نازل ہوئیں مزید سیدنا صدیق اکبر
کی صحابیت کا اعزاز بھی اپنے سینے پر تاقیامت نقش کردیا ۔اس غار میں وہ سانپ کے
ڈسنے والا واقعہ بھی پیش آیا۔ جس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب
دہن سیدنا صدیق اکبر کی ایڑھی پر لگایا ۔ #خلافت : سیرت حلبیہ اور دیگر
کتب سیرت میں موجود ہے کہ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تمام
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اس
لیے اتفاق کر لیا تھا کہ اس آسمان کے نیچے ابو بکر سے بہتر اور کوئی شخص نہیں تھا۔ امام شاہ ولی اللہ محد ث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی معروف کتا ب ”ازالۃ
الخفاء ” میں خلافت کے مفہوم پرنہایت ہی عمدہ اور لطیف بحث کی ہے ۔جس کا خلاصہ یہ
ہے :” حضرت سرور ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام تھی اور آپ تمام بنی نوع
انسان کی ہدایت کے واسطے مبعوث ہو ئے تھے بعد بعثت آپ نے جن امور کا اہتمام کوشش
بلیغ کے ساتھ فرمایا…تمام کوششوں کا مرجع اقامت دین تھی … علوم دین کا احیاء (قائم
رکھنا اور رائج کرنا ) علوم ِ دین سے مراد ہے قرآن و سنت کی تعلیم اور وعظ و نصیحت
، ارکانِ اسلام نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کا قیام و استحکام ، لشکر کا تقرر غزوات کا
اہتمام ، مقد مات کا انفصال ، قاضیوں کا تقرر ، امر با لمعروف ( عمدہ افعال و
اوصاف کا حکم دینا اور ان کو رائج کر نا ) و نہی عن المنکر ( بری باتوں کو روکنا
اور ان کا انسداد کر نا) جو حکام ِ نائب مقرر ہوں ان کی نگرانی کہ پا بند ِ حکم رہیں
اور خلاف ورزی احکام نہ کریں ان جملہ امور کا اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے بہ نفس ِ نفیس فر ما یا اور ان کے انصرام کے واسطے نا ئب بھی مقرر ہوئے وعظ و
نصیحت فر مائی ، صحابہ کو ممالک میں وعظ و نصیحت کے واسطے بھیجا ،جمعہ و عیدین و
پنج وقتہ نماز کی امامت خود فر مائی ، دوسرے مقامات کے واسطے امام مقرر کیے ، وصول
زکوٰۃ کے واسطے عامل ما مور کیے ، وصول شدہ اموال کو مصارف مقررہ میں صرف کیا ،رویت
ہلال کی شہادت آپ کے حضور میں پیش ہوئی اور بعد ثبوت روزہ رکھنے یا عید کرنے کا
حکم صادر ہو تا ، حج کا اہتمام بعض اوقات خود فر مایا بعض اوقات نائب مقرر کیے جس
طرح 9ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا ، غزوات کی سپہ سا
لاری خود کی نیز اُمراء نائب سے یہ کام لیا گیا مقد مات و معاملات کے فیصلے کیے
گئے قاضیوں کا تقرر عمل میں آیا۔وغیرہ گویا خدائی احکامات کو نبوی منہج کے مطابق
نافذ کرنے کا نام خلافت ہے ۔ #خانداننبیکا_خیال : خلیفہ
منتخب ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا
بہت زیادہ خیال فرمایا ۔ ان کی تمام معاشی و معاشرتی ضروریات کو پورا کیا ۔یہ ایسی
عظیم الشان حقیقت ہے کہ تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی تمام معتبر کتب اس بات پر
گواہ ہیں ۔ #خلافتکےبعدابتدائیخطبہ: امام ابن سعد نے طبقات اور امام ابن کثیر نے
البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین و
تدفین سے فارغ ہونے کے بعد دوسرے دن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت
عام ہوئی ۔ اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شاندار فقید المثال خطبہ دیا :حمد
وثنا کے بعد فرمایا: لوگو!میں آپ لوگوں پر ولی منتخب کیا گیا ہوں حالانکہ میں تم
سے بہترین نہیں ہوں ۔ اگر میں اچھی بات کروں تو تم میرا ساتھ دینا اگر میں خطا
کروں تو میری غلطی درست کرا دینا۔ سچائی ایک امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ تم میں جو
کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے میں اس کا حق ضرور دلوائوں گا۔ اور جو تم میں سے قوی
ہے میرے ہاں کمزور ہے میں اس سے پورا حق وصول کر وں گا۔ جو قوم بھی اللہ کی راہ میں
جہاد کرنا ترک کر دیتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ ذلت و رسوائی ڈال دیتے ہیں اور جو قوم
علانیہ برائیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اللہ تعالی ان پر مصائب و تکالیف مسلط کر دیتے
ہیں ۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کروں تم میری بات ماننا اور جب میں
خدا اور رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں اللہ تم پر رحم
فرمائے اب نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔ (Muhammad Anser)(03336700515) #ریاستیذمہداریاں : تمام تاریخ
نویسوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضر ت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ
منتخب ہونے کے بعد ریاستی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ۔امن و آشتی ، عدل و انصاف
،خوشحالی و ترقی گھر گھر تک پہنچائیں ،معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے
اور مدینہ منورہ کے ریاستی انتظامات جیسے عہد نبوی میں چلے آ رہے تھے ان کو بحال
رکھا۔ #نمایاںکارنامے : سیدنا صدیق
اکبر رضی اللہ عنہ کے بے شمار کارنامے ایسے ہیں جن پر دنیا رہتی دنیا تک ناز کرے گی
۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مختلف ایسے فتنے رونما ہوئے جو
اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی توانیاں صرف کر رہے تھے ۔ ان میں #مدعیاننبوت
کا فتنہ سر فہرست ہے ۔یمن میں اسود #عنسی ، یمامہ میں #مسیلمہ کذاب ، جزیرہ میں
#سجاح دختر حارث ، بنو اسد و بنو طی میں #طُلیحہ اسدی نے نبوت کے دعویٰ داغ دیے
۔ختم نبوت کوئی معمولی مسئلہ نہ تھا کہ جس کے لیے مصلحت اختیار کر لی جاتی ۔ بلکہ یہ
تو اسلام کے اساسی و بنیادی عقائد میں شامل ہے ۔ اس لیے اس فتنے کے خلاف سیدنا صدیق
اکبر نے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور لشکر اسلامی کو بھیج کر ان کا
قلعہ قمع کیا۔ #فتنہمانعینزکوٰۃ نے سر اٹھایا اور کہا کہ ہم سے زکوٰۃ وصول کرنے کا
اختیار صرف رسول پاک کو تھا آپ کو نہیں ۔ آپ نے اس فتنے کا پوری قوت اور جوانمردی
سے مقابلہ کیا اور برملا فرمایا کہ جو عہد نبوی میں زکوٰۃ دیتا تھا اور اب اگر اس
کے حصے میں اونٹ کی ایک رسی بھی زکوٰۃ کی بنتی ہے وہ نہیں دیتا تو میں اس سے قتال
کروں گا۔ اس کے بعد ہر سو کفار کی طرف سے جنگوں کی ابتداء ہوئی ۔ عراق میں آپ
نے سیدنا خالد بن ولید کے تحت لشکر روانہ کیا ۔ عراق کے بہت سے مضافات آپ نے فتح کیے
۔ خورنق ، سدیر اور نجف کے لوگوں سے مقابلہ ہوا ۔ بوازیج ، کلواذی کے باشندوں نے
مغلوبانہ صلح کی ۔ اہل انبار سے کامیاب معرکہ لڑا گیا ، عین التمر میں اسلام کو
غلبہ ملا ، دومۃ الجندل میں اہل اسلام کامیاب ہوئے ، اس کے بعد حمید، فضیع اور
فراض پر اسلامی لشکر فتح و نصرت کے پھریرے لہراتے گئے ۔لشکر صدیقی نے شام میں رومیوں
کو ناکوں چنے چبوائے ۔ #جمع_قرآن کی خدمت بھی آپ کے مبارک دور کی یادگار ہے ۔ قیامت کی صبح
تک آنے والے ہرشخص پر آپ رضی اللہ عنہ کا احسان موجود ہے جتنے بھی لوگ قرآن پڑھتے
رہے پڑھ رہے ہیں یا آئندہ پڑھیں گے ان کے ثواب میں سیدنا صدیق اکبر برابر کے شریک
ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ تصوف یعنی سلوک و احسان کے سلسلہ نقشبندیہ میں آپ کی حیثیت
بہت قابل قدر ہے ۔آپ کی علمی خدمات بھی موجود ہیں چنانچہ ایک قول کے مطابق ایک سوبیا
لیس حدیثیں بہ روایت حضرت ابو بکر صدیق سے
مر وی ہیں ۔ جن کو امام جلال الدین سیو طی نے ”تاریخ الخلفاء ” میں ایک جگہ
جمع کر دیا ہے ،اُمت کو فقہی معاملات میں جو مشکلات در پیش تھیں آپ نے اُ ن کا حل
تجویز کیا مثلاََمیراث جدہ، میراث جد ، تفسیر ِ کلالہ ، حد شرب خمر۔وغیرہ ۔ جاری ہے... قـســــــط نمــــــــبر 11 ام القریٰ میں پروان چڑھنے والے ابو بکر اپنے لڑکپن اور جوانی میں
اپنے ہم سنوں میں پائے جانے والی برائیوں اور آلایشوں سے محفوظ تھے۔ انھوں نے جاہلیت
میں بھی کبھی شراب نہ چکھی حالانکہ ان کے اردگرد شراب کے رسیا پائے جاتے تھے۔ فکر
معاش کی عمر کو پہنچے تو ایک تجارت پیشہ قوم کا فرد ہونے کی بنا پر ان کا میلان
تجارت ہی کی طرف ہوا۔ انھوں نے کپڑے کی تجارت شروع کی۔ ایک پر کشش شخصیت اور عمدہ
اخلاق کا مالک ہونے کی وجہ سے انھیں غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ جلد ہی ان کا
شمار مکہ کے بڑے تاجروں میں ہونے لگا۔ انھوں نے پہلا تجارتی سفراٹھارہ برس کی عمر
میں کیا، آخری بار مدینہ سے شام کے شہر بصرہ کو گئے۔ ان سفروں کی وجہ سے باہر کے
تاجر ابو بکر کو خوب پہچانتے تھے۔ ابو بکر بیدار عقل، بلند نظراور قلب سلیم رکھتے
تھے۔ مکہ کے بہت کم لوگ اس معاملے میں ان کے ہم پلہ تھے۔ ڈاکٹر جواد علی کا کہنا
ہے کہ ابو بکر لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ ماہر علم الانساب تھے، مکہ کے تمام قبیلوں
کے نسب ان کو ازبریاد تھے۔ ہر قبیلے کے عیوب و نقائص اور محامد و فضائل سے بخوبی
واقف تھے۔ ان کی پہلی شادی بنو عامر کی قتیلہ بنت عبد العزیٰ سے ہوئی۔ اگرچہ ایک
بار وہ اپنے شوہر کے ساتھ مدینے بھی گئیں، لیکن مسلمان نہ ہوئیں۔ ابو بکر سے علیحدگی
اختیار کر کے دوسری شادی کر لی اور مکہ میں مقیم رہیں۔ ابوبکر کی دوسری شادی بنو
کنانہ کی ام رومان بنت عمر سے ہوئی جو پہلے طفیل بن سنجرہ کی زوجیت میں رہ چکی تھیں۔ صرف انھوں نے ہجرت میں ابوبکر کا ساتھ دیا۔ تیسری شادی بنو کلب کی ام
بکر سے ہوئی، جو مسلمان ہوئیں نہ ہجرت کی۔ ابو بکر نے ان کو طلاق دے دی تھی۔ بنو
خثعم کی اسما بنت عمیس سے ابو بکر کی چوتھی شادی ہوئی جو ان کی وفات کے بعد حضرت
علی کی زوجیت میں آئیں۔ بنو خزرج کی حبیبہ بنت خارجہ سے ان کی پانچویں شادی ہوئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے دوستی بعثت سے
پہلے کی ہے۔ وہ اس محلے میں رہتے تھے، جہاں خدیجہ بنت خویلد اور دوسرے بڑے تاجر
سکونت رکھتے تھے۔ جب آپ سیدہ خدیجہ سے شادی کے بعد انھی کے گھر منتقل ہوگئے تو
ابوبکر کا آپ سے ربط ہوا۔ میل جول بڑھا اور اخلاق و عادات کی مماثلت نے دونوں میں گہری دوستی پیدا
کر دی۔ کچھ مورخین کا یہ خیال درست نہیں کہ آپ دونوں کے تعلقات اسلام کی آمد کے
بعد استوار ہوئے، پہلے محض ہم سایگی اور یکسانی خیالات ہی تھی۔ ابوبکر پہلے مرد
تھے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نماز ادا کی۔ خود رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے جس کسی کو اسلام کی دعوت دی، اس نے کچھ نہ کچھ ہچکچاہٹ اور پس
وپیش ضرور دکھائی سوائے ابو بکر بن ابوقحافہ کے۔ جب میں نے ان کو اسلام کی طرف بلایا،
انھوں نے تامل کیے بغیر میری آواز پر لبیک کہا۔‘‘ (ابن ہشام) اسلام قبول کرنے کے
بعد انھوں نے اس کی ترویج میں نمایاں حصہ لیا، لوگوں کو انفرادا ی طور پر اور علانیہ
اسلام کی طرف بلایا۔ عثمان بن عفان، عبد الرحمان بن عوف، طلحہ بن عبید ﷲ، سعد بن
ابی وقاص، زبیر بن عوام اور ابو عبیدہ بن جراح ابوبکر کی کوششوں ہی سے مسلمان
ہوئے۔ ابو بکر نے نبی رحمت صلی ﷲ علیہ وسلم کی ذاتی نصرت و حمایت بھی کی۔ ایک باربیت
ﷲ میں قریش آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم پر جھپٹ پڑے اور کہا: تم نے ہمیں برے انجام کی
دھمکی دی ہے اور ہمارے معبودوں کے متعلق بری باتیں کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ان
میں سے ایک نے آپ کی چادر کے دونوں پلو پکڑ کر کھینچ لیے (اور گلا گھونٹنے لگا)۔
ابوبکر آپ کا دفاع کرنے کھڑے ہو گئے۔ روتے جاتے اور فرماتے: کیا تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے
ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب ﷲ ہے؟ تب انھوں نے آپ کو چھوڑا۔ ابو بکر معرو ف مال
دار تاجر تھے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔
اسی میں سے غلام خرید کر آزاد کرتے اور مسلمانوں کو قوت پہنچاتے۔ ایک روزدیکھا کہ
نو مسلم بلال کو ان کے آقا نے کڑی دوپہر میں تپتی ریت پر لٹایا اور سینے پر بھار ی
پتھر رکھ کر کہا کہ اسلام چھوڑنے کا اعلان کرو ورنہ ایسے ہی مار ڈالوں گا۔ ابو بکر
نے انھیں فوراً مہنگے داموں خرید کر آزاد کر دیا۔ ایک اور اذیتیں پانے والے مسلمان
غلام عامر بن فہیرہ کو خرید کر نہ صرف آزاد کیا، بلکہ اپنی بکریاں چرانے کی ملازمت
بھی دے دی۔ ہجرت کے بعدپانچ ہزار درہم لے کر مدینہ پہنچے تو وہاں بھی یہ پیسے اسی
مصرف میں لاتے رہے۔ واقعۂ معراج کے موقع پر ابو بکر نے حیرت انگیز قوت ایمانی کا مظاہرہ
کیا۔ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے فرمایا کہ رات انھوں نے بیت المقدس
کا سفر کیا، مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی اور پھر سیر آسمان کو گئے۔ مشرکین مکہ نے آپ
کا مذاق اڑایا، مکہ سے شام تک ایک ماہ کی مسافت ہے۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ محمد ایک
رات میں دو ماہ کا سفر طے کر کے لوٹ آئیں؟ کچھ مسلمان بھی متردد ہوئے، لیکن ابوبکر
نے ان کو گم راہ ہونے سے بچالیا۔ انھوں نے کہا کہ جو ﷲ لمحوں میں آسمان سے وحی
اتار دیتا ہے، اس کے لیے کیا دشوار ہے کہ رات بھر میں محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کو اتنی
مسافت طے کرا دے؟ حق کی بلا تاخیر تصدیق کرنے پر پیغمبر علیہ السلام نے ابو بکر کو
صدیق کا لقب عطا فرمایا۔ جب قریش نے بنو ہاشم کا بائیکاٹ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان
کے کنبے کو شعب ابی طالب میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا تو آپ نے اپنے صحابہ کو
حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ ایک سو کے قریب صحابہ نے حبشہ کی
راہ لی جن میں عثمان بن عفان، جعفر بن ابو طالب اور زبیر بن عوام شامل تھے۔ ابو
بکر نے ایک عرصہ سختیاں جھیلیں، جب ان کے لیے عبادت بھی دشوار ہوگئی تو انھوں نے
براہ یمن حبشہ جانے کا قصد کیا۔ برک غماد پہنچے تھے کہ قارہ کے سردار ابن دغنہ سے
ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا: ’’کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ فرمایا: ’’چاہتا ہوں، کہیں الگ جا کر عبادت کروں۔‘‘ ابن دغنہ نے کہا: ’’تم جیسا
شخص نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ ان کو واپس لے آیا اور قریش کو اپنی
ضمانت دے کر لوٹا۔ ابو بکر جب تک مکہ میں مقیم رہے، حمزہ اور عمر کے ساتھ مل کر قریش
کو ایذارسانی سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ ظن غالب ہے کہ انھوں نے بنو ہاشم کا
مقاطعہ ختم کرانے کی دوڑ دھوپ کی جس کا نتیجہ قدرے دیر بعد ہوا اور کفار ہی کے کچھ
انصاف پسندوں نے یہ بائیکاٹ ختم کرایا۔ جاری ہے... قـســــــط نمــــــــبر 12 بیعت عقبہ کے بعد یثرب میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو نبی صلی ﷲ علیہ
وسلم نے اپنے صحابہ کو اس شہر کی طرف ہجرت کرنے کا اذن عطا فرمایا۔ اس موقع پر ابو
بکر نے بھی ہجرت کی اجازت مانگی۔ آپ نے فرمایا: ’’ابھی ایسا نہ کرو، شاید ﷲ ہجرت
کے لیے تمھارا کوئی ساتھی پیدا کر دے۔‘‘ یہ آپ کا اپنی طرف اشارہ تھا۔ اسی روز
انھوں نے دو اونٹنیوں کا انتظام کر لیااور اپنے پیارے نبی کی معیت میں مکہ سے کوچ
کا انتظارکرنے لگے۔ آخر ایک شام آپ حسب معمول ابو بکر کے گھر آئے اور فرمایا:
’’مجھے مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم ہوا ہے۔‘‘ ابوبکر نے بے تابی سے کہا:’’یارسول ﷲ! ساتھی کی ضرورت ہو توآپ کا ساتھ موجود ہے۔‘‘ اسی رات قریش
کے نو جوانوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ آپ نے حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹایا
اور قریش کے لوگوں کو غفلت میں پا کر اپنے گھر سے نکلے اورابو بکر کے گھر پہنچے۔
وہ جاگ رہے تھے، فوراً دونوں گھر کی عقبی کھڑکی سے نکلے اور جنوب کی سمت تین میل
سے زیادہ کی مسافت طے کر کے غار ثور پہنچے۔ یار غار نے پہلے غارکو اچھی طرح سے دیکھا،
کہیں کوئی سانپ، بچھو یا موذی جانو رنہ ہو تب اپنے صاحب کو اندر آنے دیا۔ صبح ہوتے
ہی قریش نے آپ دونو ں کی تلاش میں آدمی دوڑائے۔ ابو بکر گھبرائے تو آپ نے فرمایا،
’لا تحزن ان ﷲ معنا‘ ’’مت غم کرو،بے شک ﷲ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ (توبہ۹: ۴۰) ڈھونڈنے والے نے غارکے دہانے پر مکڑی کا جالا
بنا دیکھا تو واپس پلٹ گیا۔ غار کے اندر ابو بکر نے آپ سے فرمایا: ’’اگر ان میں سے
کوئی آپ کے قدموں کو دیکھتا تو وہ ہمارا پتا پا لیتا۔‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا:
’’اے ابوبکر، ان دوکے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی ﷲ ہے؟‘‘
(بخاری،رقم۳۶۵۳) ابو بکر کے صاحب زادے عبد ﷲ رات کو آکر مکہ کی خبریں سناتے پھر دن
واپس جا کرمکہ والوں کے بیچ گزارتے۔ ابو بکرکا آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ صبح
ان کی بکریاں چراتے ہوئے جبل ثور لے جاتا تو دونوں ان بکریوں کا دودھ پی لیتے۔
اسما بنت ابو بکر دونوں کا کھا نا تیار کرتیں، انھوں نے توشہ دان میں کھانا ڈال کر
اپنے بھائی عبدﷲ کودیا، باندھنے کو کچھ نہ ملا تو اپنا کمر بند (نطاق) پھاڑ کر اس
سے باندھ دیا، اسی وجہ سے ان کا لقب ذات النطاقین (دو کمر بندوں والی) پڑگیا۔ تین
دن گزرے، مشرکین کا جوش کچھ ٹھنڈا پڑا توانھوں نے یثرب کا ارادہ کیا۔ ابو بکر کے
گھر سے دو اونٹنیاں آگئیں، ایک اور اونٹ خریدا گیا، ان میں سے ایک پر نبی صلی ﷲ علیہ
وسلم تشریف فرما ہوئے، دوسرے پر ابوبکر سوار ہوئے اور تیسرے پر عامر بن فہیرہ بیٹھے۔
عبد ﷲ بن اریقط ان کا گائیڈ بنا، کافر ہونے کے با وجود آپ نے اس پر اعتماد کیا۔
طلحہ بن عبید ﷲنے ابو بکر کوشام سے سفید کپڑے بھیجے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور ابو
بکر یہی کپڑے پہن کر مدینہ پہنچے۔ (Muhammad Anser)(03336700515) انیس کہتے ہیں کہ ابوبکر مدینہ میں حبیب بن یساف کے مہمان ہوئے، جبکہ
ایوب بن خالد کا کہنا ہے کہ وہ خارجہ بن زید کے ہاں ٹھہرے۔ یہ وہی خارجہ ہیں جنھیں
ہجرت کے بعد مدینہ میں مواخات قائم فرماتے ہوئے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابو بکر کا
اسلامی بھائی قرار دیا۔ ان کی زمینوں پر ابو بکر نے کاشت کاری کی، بعد میں انھی کی
بیٹی حبیبہ سے ابو بکر کا نکاح ہوا۔ ہجرت کے چند روز بعد ابوبکر کو بخار ہوگیا، یہ
مدینہ کی مرطوب آب و ہوا کا اثرتھا۔ محمد بن جعفرکی روایت ہے: ’’حضرت ابو بکر صدیق
رضی اللّہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی وفات تک سنح میں مقیم رہے‘‘ جو مدینے میں خارجہ
کے قبیلے بنو حارث بن خزرج کا محلہ تھا۔ یہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے گھر سے ایک میل
کے فاصلے پر تھا۔ مشہور تابعی فقیہ عبید ﷲ بن عبدﷲ فرماتے ہیں: ’’جب آں حضرت صلی ﷲ
علیہ وسلم نے مدینے میں گھروں کے لیے زمین تقسیم فرمائی تو ابو بکر کے گھر کے لیے
مسجد نبوی کے پاس جگہ متعین فرمائی، مسجد کے مغرب میں واقع ان کے گھر سے چھوٹا سا
دریچہ مسجد میں کھلتا تھا۔ اور صحابہ کے گھروں کے بھی ایسے دریچے مسجد میں آنے
جانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ آپ نے ﷲ کے حکم سے سارے راستے بند کرائے اور فرمایا:
’’اس مسجد میں کوئی دریچہ نہ کھلا رہنے پائے سوائے دریچۂ ابو بکر کے۔‘‘ (بخاری،
رقم۳۹۰۴) رہا حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا گھر تو اس کا بڑا
دروازہ ہی مسجد کے اندر تھا، اسے بند کرنا ممکن نہ تھا۔ حضرت ابو بکر کے مسجد نبوی
کے پڑوس والے گھر میں ان کی دوسری بیوی ام رومان، بیٹی عائشہ اور ان کے تمام بیٹے
مقیم تھے۔ بعد میں کسی ضرورت کے لیے انھوں نے یہ گھر ام المومنین حفصہ رضی ﷲ عنہا
کو چار ہزار درہم میں بیچ دیا۔ حضرت عثمان کے دور خلافت میں اسے سیدہ حفصہ سے خرید
کر مسجد کی توسیع میں شامل کر لیاگیا۔ اب بھی مسجد نبوی کے مغربی کونے میں ترکوں
کے عہد کی تحریر ’ہذہ خوخۃ ابی بکر‘ (یہ ابو بکر کے گھر کا دریچہ ہے) لکھی نظر آتی
ہے۔ سیدناابوبکر آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ دینی حمیت
رکھتے تھے۔ وہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوں میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ شریک
رہے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کو شان دار فتح حاصل ہوئی او ر مشرکوں کے سترقیدی ان کے
ہاتھ لگے۔ انھوں نے ابو بکر کو بلایا اوررشتہ داری کا واسطہ دے کر جان بخشی کرانے
کی درخواست کی۔ ابو بکر نے وعدہ کرلیا۔ سیدنا عمر کی رائے تھی، ان قیدیوں کو قتل
کردیا جائے، لیکن ابوبکر نے اصرار کر کے ان کو زرفدیہ کے عوض رہا کرا لیا۔ جنگ بدر
میں ابو بکر و علی کے بارے میں کہا گیا کہ ایک کا ساتھ جبرئیل نے اور دوسرے کا میکائیل
نے دیا۔ جنگ احد میں مسلمانوں کو ابتدائی طور پر فتح ملی، لیکن جب انھوں نے رسول
پاک صلی ﷲ علیہ وسلم کی ہدایات کو فراموش کر کے اپنی متعین جنگی پوزیشنیں چھوڑ دیں
تو کفار کو غلبہ پانے کا موقع مل گیا، چنانچہ جہاں ستر صحابہ شہید ہوئے وہاں سنگ
باری سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر بھی زخم آئے اور آپ کے دو دانت
شہید ہو گئے۔ *اس دوران میں ابوبکران بارہ ثابت قدم صحابیوں میں شامل تھے جنھوں نے
آپ کا دفاع کیا۔ ۶ھ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو
عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ چلنے کا حکم ارشاد کیا۔ قریش نے یہ خبر سن کر تہیہ کیا
کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر فرو کش ہوئے اور مکہ
والوں پر واضح کیا کہ ہمارا مقصد صرف عمرہ ادا کرنا ہے۔ تب مذاکرات کے بعد وہ
مشہور معاہدہ طے پایا جسے صلح حدیبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی کچھ
شرائط مسلمانوں کو نا گوار گزریں خاص طور پر حضرت عمر کا رد عمل بہت سخت تھا۔ ابو بکر رضی ﷲ عنہ اس موقع پر بھی مطمئن اور پر سکون تھے، انھیں پختہ
یقین تھا کہ آپ کا کوئی عمل بھی حکمت سے خالی نہیں اور یہ معاہدہ لازماً مسلمانوں
کے حق میں بہتر ثابت ہو گا۔ چنانچہ سورۂ فتح نازل ہونے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی۔
صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں نے ذی قعد۷ھ میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی معیت میں عمرہ ادا کیا۔ آں حضرت صلی ﷲ
علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں ابو بکر کو مرکزی سیاہ پرچم عنایت کیا اور کھانے کو خیبر
کی کھجوروں کے سو ٹوکرے عنایت فرمائے۔ آپ نے انھیں نجد کے سریہ میں امیر بنا کر بھیجا۔
۹ھ میں حج فرض ہوا توآپ نے دین اسلام کا پہلا حج
ادا کرنے کے لیے ابوبکر کو امیر الحج مقرر فرمایا۔ وہ تین سو مسلمانوں کو لے کر
مکہ پہنچے اور آں حضرت کی ہدایت کے مطابق خطبۂ حج میں ﷲ کا اظہار برأ ت سنایا:
’انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا‘ ’’بلا شبہ مشرک تو نا
پاک (عقیدہ والے) ہیں، لہٰذااس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ پھٹکیں۔‘‘ (توبہ۹:۲۸) اگلے برس۱۰ھ میں آپ خود حج کرنے مکہ تشریف لے گئے، یہ حجۃالوداع تھا کیونکہ اس
کے بعد آپ کی وفات ہوگئی۔* ایک بار حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی ﷲ عنہ سے دریافت
فرمایا: ’’تو نے ابو بکر کے بارے میں بھی کوئی شعر کہا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا:
’’ہاں۔‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’کہو، میں سن رہا ہوں۔‘‘ انھوں نے یہ دو شعر پڑھے: وثانی اثنین فی الغار المنیف وقد طاف العدو بہ اذ صعد الجبلا ’’بلند غار (ثور) میں دو افرا دمیں سے دوسرا ،دشمن اس کے گرد چکر
لگاچکا تھا جب وہ ا س پہاڑ پر چڑھا۔‘‘ وکان حب رسول ﷲ قد علموا من البر ےۃ لم یعدل بہ رجلا ’’وہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا پیار ادوست ہے، سب نے جان لیا ہے۔ دنیا
میں کوئی آ دمی اس کے برابر نہیں ہے۔‘‘ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کھل کر مسکرائے حتیٰ کہ آپ کی ڈاڑھیں نمایاں
ہو گئیں۔ پھر فرمایا: ’’تو نے سچ کہا حسان، ابو بکر ایسے ہی ہیں جس طرح تو نے
کہا۔‘‘ یہ واقعہ ہے کہ آپ کو عورتوں میں عائشہ اور مردوں میں ابوبکر سب سے زیادہ
محبوب تھے۔ عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ میں نے (غزوۂ ذات سلاسل کے موقع پر) آں
حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’آپ کو کون سا انسان سب سے بڑھ کر محبوب ہے؟‘‘ آپ
نے فرمایا: ’’عائشہ۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’مردوں میں سے کون؟ آپ نے ارشاد فرمایا:
’’ان کے والد (ابوبکر)۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’ان کے بعد؟‘‘ جواب فرمایا: ’’عمر۔‘‘ (مسلم،رقم ۶۱۷۷) آپ کا ارشادہے: ’’سنو، میں ہر دوست کی
دوستی سے بے نیاز ہوں، اگر میں نے دوست بنانا ہوتا تو لازماً ابوبکر کو دوست
بناتا۔ تمھارا ساتھی رسول تو ﷲ کا دوست ہے۔‘‘ (مسلم، رقم۶۱۷۶) ’’ابو بکرمیرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔‘‘ (بخاری، رقم۳۶۵۶) فرمان نبوی ہے: ’’میری امت میں امت پر سب سے
بڑھ کررحم کھانے والے ابو بکر ہیں۔‘‘ (مسند احمد، مسند انس بن مالک) ایک عورت نبی
صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کسی شے کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے اسے حکم
فرمایا: ’’میرے پاس پھر آنا۔‘‘ اس نے کہا: ’’یا رسول ﷲ، آپ کا کیا ارشاد ہے، اگر میں
دوبارہ آئی اور آپ کو نہ پایا؟‘‘ یہ آپ کی وفات کا کنایہ تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’اگر
تو نے مجھے نہ پایا تو ابو بکر کے پاس چلی جانا۔‘‘ (بخاری،رقم۷۲۲۰) قـســــــط نمــــــــبر 13 حجۃ الوداع سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصہ گزراکہ نبی علیہ الصلاۃ
والسلام نے شام پر فوج کشی کے لیے ایک لشکر کی تیاری کا حکم فرمایا۔آپ نے اسامہ بن
زید کو سپہ سالار بنایا اورابو بکر وعمر جیسے بڑے بڑے صحابہ کو لشکر کے ساتھ جانے
کے لیے ارشاد فرمایا۔ ابھی یہ لشکر مدینہ سے کچھ دور جرف کے مقام تک پہنچا تھا کہ
آپ کی علالت کی خبر آ گئی، چنانچہ وہیں پڑاؤ ڈال دیا گیا اور ابو بکر وعمر مدینہ
لوٹ آئے۔ جب رسو ل ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو بلال آپ کو نماز کی
اطلاع دینے آئے۔ آپ نے فرمایا: ’’ ابو بکر کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ حضرت
عائشہ نے کہا: ’’یارسول ﷲ، ابوبکر رقت رکھتے ہیں۔ جب آپ کی جگہ (نماز پڑھانے) کھڑے
ہوں گے، لوگوں کو (تلاوت) سنا نہ پائیں گے۔ آپ عمر سے کیوں نہیں کہتے؟‘‘ پھر عائشہ
نے حضرت حفصہ سے کہا: یہی بات تم آپ کے گوش گزار کرو۔ حفصہ سے یہ مشورہ دوبارہ
سننے پر آپ نے فرمایا: ’’تم تو بالکل یوسف کی ساتھی عورتیں ہو (اپنے دل کی بات چھپا
کر رکھتی ہو۔ جس طرح زلیخا نے عورتوں کی ضیافت بظاہر ان کی عزت افزائی کے لیے کی،
مقصد انھیں حسن یوسف سے مرعوب کر کے اپنی محبت کی صفائی پیش کرنا تھا ایسے ہی
عائشہ نے ابو بکر کی نرم دلی کا ذکر کرکے امامت عمر کو سونپنے کی تجویز دی، مقصد
ان کو بار خلافت سے بچانا تھا)۔ ابو بکرکو کہو، لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ جب ابو
بکر نے نماز پڑھانی شروع کی، آپ نے اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس کی، آپ دو آدمیوں
کا سہارا لے کرچلے، پاؤں مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ مسجد میں داخل ہوئے، ابو بکر
نے آپ کی آہٹ سنی تو پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ نے اشارہ فرمایا: ’’تم اسی طرح کھڑے
رہو۔‘‘ اور خود ابو بکر کے بائیں طرف بیٹھ گئے۔ آپ بیٹھ کر نماز پڑھانے لگے، ابو
بکر کھڑے ہوئے آپ کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر کی نماز کی پیروی کر رہے
تھے۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تیرہ روز بیمار رہے، جب مرض میں کمی محسوس
کرتے، خود امامت فرماتے اور جب شدت ہوتی تو ابو بکر جماعت کراتے۔ ایک بار ابو بکر
مدینہ میں نہ تھے، بلال نے عمر کو آگے کر دیا۔ آپ نے حجرۂ مبارک سے حکم بھیجا: ’’ﷲ
اور مسلمان یہ پسند کرتے ہیں کہ ابو بکر نماز پڑھائیں۔‘‘ ابوبکر نے آپ کی زندگی میں
سترہ نمازیں پڑھائیں۔ آپ نے مرض الموت میں عائشہ سے فرمایا: ’’اپنے باپ اور بھائی
کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے بارے میں ایک تحریر لکھا لوں۔ مجھے اندیشہ
ہے، کوئی معترض اعتراض کرے اور (خلافت کی) تمنا کرنے لگے۔ ﷲ اور اہل ایمان ابو بکر
ہی کو چاہتے ہیں۔‘‘ عائشہ سے پوچھا گیا: ’’اے ام المومنین، اگرجا نشین مقرر کرنا
ہوتا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کس کاتقرر فرماتے؟‘‘ ان کا جواب تھا: ’’ابوبکر۔‘‘ پھر
سوال ہوا کہ ’’ابو بکر کے بعد؟‘‘ جواب آیا، ’’عمر۔‘‘ پھر دریافت کیا گیا: ’’عمر کے
بعد؟‘‘ عائشہ نے فرمایا کہ ’ابوعبیدہ بن جراح۔‘‘ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کا انتقال پیر کے دن دوپہرکے وقت ہوا۔ حضرت
عمر رضی ﷲ عنہ ابو عبیدہ بن جراح کے پاس آئے اور کہا: ’’اپنا ہاتھ پھیلائیں، میں
آپ کی بیعت کرتا ہوں، اس لیے کہ آپ رسول پاک صلی ﷲ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس
امت کے امین ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا: ’’ جب سے تم مسلمان ہوئے ہو، تم میں ایسی غفلت
میں نے نہیں دیکھی۔ کیا تم میری بیعت کرو گے جبکہ تمھارے بیچ ثانی اثنین صدیق مو
جود ہیں۔‘‘ اور صحابہ بھی بیعت کے لیے ابوعبیدہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے یہی جواب
دیا۔ آپ کے انتقال کے بعدانصار سعد بن عبادہ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ ابو بکر، عمر اور
ابوعبیدہ بن جراح بھی وہاں پہنچے۔ حباب بن منذر انصاری نے جوبدر میں حصہ لے چکے
تھے، تجویز پیش کی: ’’ایک امیر ہم میں سے ہو، ایک تم میں سے۔ قریش کے ساتھیو، بخدا
ہم تمھیں خلافت کے لیے نااہل نہیں سمجھتے، لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اقتدار
کے مالک بن بیٹھیں گے جن کے بھائیوں اور باپوں کو ہم نے قتل کیا ہوگا۔‘‘ عمر کی
حباب کے ساتھ تکرا ر ہوگئی تو ابوبکر نے گفتگو شروع کی: ’’حکمران ہم ہوں گے، تم
مدد گار ہو گے۔ یوں خلافت ہمارے درمیان آدھی آدھی بٹ جائے گی۔‘‘ انصار میں سب سے پہلے بشیر بن سعد نے بیعت کی۔ عمران کے پاس گئے اور
کہا: ’’ اے گروہ انصار، تم نہیں جانتے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابوبکر کو لوگوں
کو نماز پڑھانے کا حکم دیا؟‘‘ انھوں نے کہا: ’’ہاں، بالکل۔‘‘ پھر عمر نے کہا: ’’تم
میں سے کسے اچھا لگتاہے کہ ابو بکر سے آگے بڑھے؟‘‘ ان کا جواب تھا: ’’ﷲ کی پناہ کہ
ہم ابوبکر سے آگے ہوں۔‘‘ پھر صحابہ حضرت ابو بکر کی بیعت میں مشغول ہو گئے جو پیر
کا باقی دن اور منگل کی صبح سقیفۂ بنی ساعدہ اور مسجد نبوی میں جار ی رہی۔ جب ابو
بکر کی خلافت کا فیصلہ ہو گیا تو بیعت میں پس و پیش کرنے والوں کو ابو بکر نے خود
آمادہ کیا۔ منگل کے دن آپ کو غسل دیا گیا اور بد ھ کی رات تدفین عمل میں آئی۔ #مطالعۂ_مزید: الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، السیرۃ النبویہ (ابن ہشام)،
فتح الباری(ابن حجر)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، رحمۃللعالمین (قاضی سلیمان
منصور پوری)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (پنجاب یونیورسٹی)، الصدیق ابوبکر (محمد حسین
ہیکل)، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (جواد علی)[باقی] نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا صدمہ اس قدر جاں کاہ تھا کہ اسے
خو د برداشت کرلینااور آپ کے بعد آپ کی دل گیر امت کو درست سمت میں لے کر چلناایسا
کارنامہ تھا جوحضرت ابو بکر ہی سر انجام دے سکتے تھے۔ وفات کی صبح آں حضرت صلی ﷲ
علیہ وسلم حجرۂ عائشہ سے مسجد میں تشریف لائے ،لوگوں سے کچھ باتیں کیں اورجیش
اسامہ کی کامیابی کی دعا فرمائی ۔ آپ کے حجرے میں واپس جانے کے بعد ابو بکر آپ کی
صحت کی طرف سے مطمئن ہوکراپنے گھر چلے گئے۔ دوپہر کے وقت آپ کی وفات کی خبر آئی تو
ایک شخص ابو بکر کو واپس بلا لایا ۔ مسجد میں عمر تلوار لیے جوش کے عالم میں کہہ
رہے تھے: ’’جو کہے گا ،رسول ﷲ فوت ہو گئے ہیں، میں اس تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں
گا ۔‘‘ابو بکر سیدھے حجرے میں گئے ،رخ مبارک سے کپڑا ہٹایا ، رخسار کوبوسہ دے کر
فرمایا: ’’کیا ہی با برکت تھی آپ کی زندگی اور کیا ہی با برکت ہے آپ کی موت ۔‘‘پھر
باہر آئے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا: ’’اے لوگو، جو محمد کی پوجا کرتا تھا، جان
لے، محمد تو فوت ہوچکے ہیں ۔جو ﷲ کی عبادت کرتا ہے، اسے معلوم ہوناچاہیے، ﷲ زندہ
ہے،کبھی نہ مرے گا۔‘‘انھوں نے سورۂ آل عمران کی آیت تلاوت کی: ’وما محمد الا رسول
قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم‘ (۱۴۴)’’محمد تو بس ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے بہت رسول
گزر چکے ہیں۔تو بھلا کیا یہ مر جائیں یا مار دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ
گے؟‘‘ یہ آیت سن کر سب کو یوں لگا جیسے یہ ابھی اسی موقعے کے لیے نازل ہوئی ہے۔
حضرت عمر کو بھی یقین ہو گیا ،ان پراتنا شدید اثر ہواکہ بے سدھ ہو کر گر گئے۔ایک
رقیق القلب مومن کا ضبط نفس اس موقع پر مسلمانوں کے کام آیا، وہ انتشار سے محفوظ
ہو کر حقائق کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کا سانحۂ انتقال ہو چکا تھا، لیکن اصحاب نبی
جسد مبارک کی تدفین کے بجائے خلیفہ کے انتخاب میں مصروف تھے۔مہاجرین وانصارکے بیچ
کیوں کشمکش ہوئی اور اوس وخزرج کی باہمی چپقلش نے ابو بکر کے انتخاب میں کیا کردار
ادا کیا؟ ان سوالوں کا جواب پانے کے لیے تاریخ سے مدد لینا ہو گی۔ صعل و عمالقہ یثرب کے قدیم باشندے تھے، داؤدو موسیٰ علیہما السلام کے
زمانے میں اسرائیلی اور یہودی آباد ہوئے۔ عربوں میں سے بنو انیف اور بنو مرید کی
آمد بعدمیں ہوئی ۔ارم کا سیلاب آنے کے بعد عمرو بن عامر بن حارثہ کی اولاد بکھر گئی
تواس کے دو بیٹوں اوس اور خزرج نے مدینہ میں ڈیرا ڈالا،وہ اپنی ماں کی نسبت سے بنو
قیلہ کہلاتے ہیں۔ پہلے وہ یہود کے پڑوسی اور حلیف بنے پھر انھی سے ان کی جنگیں ہوئیں۔شروع
میں یہود غالب آئے ،بعد میں اوس و خزرج ہی کا پلہ بھاری رہا۔ یہود پر کامیابی پانے
کے بعد معمولی باتوں پر اوس وخزرج میں لڑائیوں کا آغاز ہواحتیٰ کہ سمیر، سرارہ،بنو
وائل،بنو مازن، حاطب، فجار اور بعاث کی جنگیں ہوئیں۔نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے مدینہ
تشریف لانے کے بعد ان کی کشمکش ختم ہوئی اور وہ مسلمان بھائی بن گئے۔ اوس وخزرج میں بڑے دلیر سردار پیدا ہوئے،اوس کے سعد بن معاذ، عمرو بن
معاذاور سعد بن خیثمہ بدر ،احد اور خندق کی جنگوں میں شہید ہوگئے۔ خزرج کے سرداروں
میں سے سعد بن عبادہ ، رافع بن مالک،مرداس بن مروان، ابو قتادہ بن ربعی اور مالک
بن عجلان مشہور ہوئے۔ حسان بن ثابت خزرج کے اور قیس بن خطیم اوس کے شاعر تھے۔ اپنی اس تاریخی حیثیت کی بنا پر اور مشکل وقت میں نبی صلی ﷲ علیہ
وسلم اور مسلمانوں کو پناہ دینے کی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ خیال پختہ ہو چکا تھا
کہ اچھے وقت کے ثمرات حاصل کرنے کے زیادہ حق دار بھی وہی ہیں۔ حنین و طائف کے معرکوں کے وقت ان کے اس دعوے کا اظہار ہواجب آں حضرت
صلی ﷲ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں نو مسلم قریشیوں کو ترجیح دی تو انھوں
نے اعتراض کیا: ’’خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والے لے
گئے۔‘‘تب آپ نے انھیں جمع کر کے فرمایا: ’’میں نے وہ مال قریش کو محض تالیف قلب کے
لیے دیاتاکہ وہ اسلام پر پختہ ہو جائیں ۔تمھیں تالیف قلب کے لیے دینے کی ضرورت نہ
تھی۔اے انصار، کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دوسرے لوگ اونٹ او ربکریاں لے جائیں اور
تم اپنے ساتھ رسول ﷲ کو لے جاؤ۔‘‘انصار بہت شرمندہ ہوئے، اتنا روئے کہ ڈاڑھیاں
آنسووں سے تر ہوگئیں اور انھوں نے بہ یک زبان کہا: ’’ہم رسول ﷲ کی تقسیم اور بخشش
پر دل و جان سے راضی ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کا احساس تفوق استحقاق
خلافت کے دعوے میں بدل گیا،وہ آپ کی تجہیز و تکفین سے پہلے ہی سقیفۂ بنی ساعدہ میں
ا کٹھے ہوگئے ۔سقیفہ اس چبوترے کو کہتے ہیں جس کی چھت بھی ہو، بنی ساعدہ خزرج قبیلے
کی ایک شاخ تھی، ان کی چوپال سقیفۂ بنی ساعدہ کے نام سے مشہور ہے ۔خزرج کے سردار
سعد بن عبادہ کو جو اس وقت بیمار تھے ، بلایا گیا۔وہ بات کرتے اور ان کا بیٹا بلند
آواز میں دہراتا۔انھوں نے کہا: ’’اے انصار، تمھاری تلواروں نے اسلام کی فتح کا دن
قریب کیا ،رسول ﷲ عمر بھر تم سے راضی رہے ۔اب تم خلافت اپنے ہاتھ میں لو، کیونکہ
تمھارے سوا خلافت کا کوئی مستحق نہیں۔‘‘قبل اس کے کہ سب سعد کی بیعت کے لیے ٹوٹ
پڑتے ،ایک انصاری نے کہا کہ اگر مہاجرین نے ہماری بیعت سے انکار کیاتو کیا ہو گا؟
ادھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے قریبی صحابہ آپ کی تجہیز و تکفین کی فکر میں تھے کہ
انھیں انصار کے اجتماع کی خبر ملی ۔خلیفۂ رسول کا انتخاب اس قدر اہم مسئلہ تھا کہ
نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی تدفین سے پہلے طے کرنا پڑا۔ ابو بکر،عمر اور ابو عبیدہ سقیفۂ
بنی ساعدہ پہنچے۔ انصار کی گفتگو جاری تھی کہ یہ حضرات ان کے بیچ آ کر بیٹھ
گئے۔حضرت عمر کچھ کہنا چاہتے تھے کہ ابو بکر نے روک دیا اور خود تقریر شروع کی۔انھوں
نے فرمایا: ’’اے لوگو، ہم مہاجرین اسلام لانے میں اول ہیں ،حسب ونسب کے علاوہ ہمیں
رسول ﷲصلی ﷲ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہونے کا فخر حاصل ہے ۔ﷲ کافرمان ہے:
’السابقون الاولون من المہاجرین و الانصار‘۔ (توبہ۹: ۱۰۰) ’’ وہ جنھوں نے سبقت کی، سب سے پہلے ایمان لائے ،مہاجرین و انصار میں سے
۔‘‘ تم نے اپنی فضیلت کا جو ذکرکیا ہے، ہمیں اس سے انکار نہیں۔ اگر اوس کو خلافت دی
گئی تو خزرج والے حسد کر یں گے اور اگر یہ خزرج کو سونپی گئی تو اوس والے برداشت
نہ کریں گے ۔ عرب یہ بات کبھی نہیں مانیں گے کہ سلطنت قریش کے سو ا کسی اور قبیلے
کے ہاتھ میں رہے، اس لیے تم امارت ہمارے سپرد کر دو اور وزارت خود سنبھال لو۔ حباب
بن منذر نے اس پیش کش سے انکار کرتے ہوئے تجویز پیش کی: ’’ایک امیر ہم میں سے ہو
اور ایک تم میں سے۔‘‘ عمر نے کہا: ’’ایک میان میں دو تلواریں جمع نہیں ہو سکتیں۔‘‘
حباب کا تعلق اوس سے تھااور سعد کا خزرج سے ،اس مرحلے پر ان کی پرانی چشمک نے رنگ
دکھایا۔ سعدنے کہا : تم (اوس والوں)نے دو خلافتوں کی پیش کش کر کے ابتدا ہی میں کم
زوری کا مظاہرہ کر دیا۔ قبل اس کے کہ منافقین اس جھگڑے سے فائدہ اٹھاتے ،ابو عبیدہ
نے کہا : ’’اے انصار، تم پہلے تھے جنھوں نے نصرت کی اور پناہ دی، لہٰذا اس دین کوبدلنے اور تباہ کرنے میں
پہل نہ کرو۔‘‘ ان کی بات کا اثر ہوا ، خزرج کے بشیر بن سعد نے کھڑے ہو کر کہا: ’’
اے انصار، ﷲ کا تقویٰ اختیار کرو اور مہاجرین سے مت جھگڑا کرو۔‘‘ ابو بکرکو معاملہ
سدھرنے کا یقین ہو گیاتو انھوں نے انصارکو اتحاد کی تلقین کی اور فرمایا: ’’یہ عمر
اور ابو عبیدہ بیٹھے ہیں ،جس کی چاہو بیعت کر لو۔‘‘اس لمحے شور وشغب بڑھ گیا اور
سب انتخاب کے شش وپنج میں پڑ گئے ،کوئی ناروا بات ہونے سے پہلے عمر نے بلند آواز میں
کہا: ’’ابو بکر، اپنا ہاتھ بڑھائیے۔‘‘ ان کے ہاتھ آگے
کرنے پر عمر نے فوراً بیعت کر لی، ان کے بعد ابو عبیدہ اور بشیربن سعد نے بیعت
کرنے میں جلد ی کی ۔حباب بن منذر سے ضبط نہ ہوا، انھوں نے کہا: ’’اے بشیر ،تمھیں ایسا
کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو نے اپنے چچیرے کی امارت سے حسد کیا ۔‘‘اوس کے رئیس اسید
بن خضیرنے اپنے قبیلے کی طرف رخ کیا اور کہا: ’’ﷲ کی قسم، اگر سعدبن عبادہ ایک بار
بھی خلافت پر قابض ہو گئے تو خزرج کو تم پر ہمیشہ کے لیے فضیلت حاصل ہو جائے گی،اٹھواور
ابو بکر کی بیعت کرو۔‘‘ چنانچہ ان کے کہنے پر اوس بھی بیعت کرنے والوں میں شامل ہو
گئے۔ سعد بن عباد ہ نے بیعت نہ کی،وہ ہجوم میں روندے جانے والے تھے کہ ان کے ساتھی
ان کو اٹھا کرلے گئے۔ ابو بکر نے ان سے بیعت لینے کا ارادہ کیا توبشیر بن سعد نے
منع کردیا ۔انھوں نے کہا: قتل و غارت کیے بغیر آپ ان سے بیعت نہیں لے سکتے، لہٰذا اس
ایک شخص سے تعرض نہ کریں۔وہ ابو بکر کے ساتھ نماز میں شامل ہوتے نہ ان کے اجتماعات
میں شریک ہوتے ، زندگی کے باقی ایام انھوں نے خاموشی سے تنہائی میں گزار دیے۔جب
عمر خلیفہ بنے تو سعد نے ان کی بیعت بھی نہ کی۔ پھر وہ شام چلے گئے اورحوران میں
وفات پائی۔ شہر مدینہ کی حد تک انصار کا ادعاے خلافت درست ہوتا، لیکن یہ خلافت تو
جزیرہ نماے عرب کو محیط ہو چکی تھی اور عجم کے دروازوں پر دستک دے رہی تھی۔ اتنی وسیع سلطنت کو صرف عمائد قریش ہی متحد رکھ سکتے تھے، چنانچہ سقیفہ
کا دن گزرا کہ انصار نے خلافت کی خواہش کبھی نہ کی اور وہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے
فرمان کے مطابق قریش کی قیادت پر مطمئن ہو گئے۔ شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔۔۔ قـســــــط نمــــــــبر 14 یعقوبی کے بیان کے مطابق مہاجرین میں سے عباس بن عبدالمطلب، فضل بن
عباس، زبیر بن عوام، خالد بن سعید، مقداد بن عمرو،سلمان فار سی،ابو ذرغفاری ، عمار
بن یاسر،برا بن عازب اور ابی بن کعب نے ابوبکر کی بیعت نہ کی۔ ایک روایت کے مطابق
حضرت علی نے چالیس روز بعد اور دوسری کے مطابق چھ ماہ بعد بیعت کی جب فاطمۃ الزہرا
نے وفات پائی۔ اہل سنت علما کا اصرار ہے کہ علی اور زبیر سمیت تمام صحابہ ابو بکر
کی بیعت پر متفق ہو گئے تھے۔ ابن کثیر کا کہنا ہے کہ زبیر بن عوام اور علی بن ابو
طالب نے فوراً اسی دن یا دوسرے دن بیعت کر لی۔ وہ ابو بکر کی اقتدا میں نماز
پڑھتے، ان کے مشوروں اور ان کی مہمات میں شامل ہوتے۔ علی کا چھ ماہ گزرنے کے بعد بیعت
کرنے کا جو ذکر آتا ہے، وہ ان کی بیعت ثانیہ ہے جو میراث کے مسئلہ پر ابو بکر اور
فاطمہ میں ہونے والی شکر رنجی دور کرنے کے لیے کی گئی۔سعید بن زید سے پوچھا گیا کہ
کیا کسی شخص نے ابو بکر کی بیعت کی مخالفت بھی کی ؟ان کا جواب تھا: ’’مرتدین کے
علاوہ کسی نے نہیں یا وہ جومرتد ہونے لگے تھے اگر ﷲ ان کو انصار سے نہ بچا لیتا
۔‘‘ان سے اگلا سوال کیا گیا کہ کیا مہاجرین میں سے کوئی (بیعت کیے بغیر) بیٹھا بھی
رہا؟ انھوں نے جواب دیا:’’کوئی نہیں۔‘‘ اگلے روز مسجد نبوی میں بیعت عامہ کے بعد ابوبکر نےلوگوں سے خطاب کیا۔حمد
وثنا کے بعد انھوں نے فرمایا:’’لوگو، میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں حالانکہ
میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کام کروں توتم میری مدد کرو اور اگر برا
کام کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ تم میں سے کم زور میرے
نزدیک طاقت والاہے حتیٰ کہ میں اسے اس کا حق دلا دوں ۔ تم میں سے طاقت ور کم زور ہو گا حتیٰ کہ میں اس سے حق لے لوں۔کوئی
قوم ﷲ کی راہ میں جہاد نہیں چھوڑتی، مگر ﷲ اسے ذلت میں بے یار و مدد گار چھوڑ دیتا
ہے ۔کسی قوم میں بے حیائی عام نہیں ہوتی، مگر ﷲ ان میں مصیبتیں عام کر دیتا ہے۔ تب
تک میری بات مانو جب تک میں ﷲ اور رسول کی اطاعت کروں۔ اور جب میں ﷲ اور رسول کی
نا فرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہ ہو گی۔ اب نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ ﷲ
تم پر رحم فرمائے گا۔‘‘ اسامہ پیغمبر اکرم کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ کے بیٹے تھے ،انھیں
جنگ احد میں صغر سنی کی وجہ سے واپس کر دیا گیا تھا البتہ، جنگ حنین میں انھوں نے
داد شجاعت دی تھی۔جب غزوۂ موتہ میں رومیوں کے ہاتھوں زید کی شہادت ہوئی تو آپ نے
اسامہ کو رومیوں کی سرکوبی کے لیے بھیجے جانے والے لشکر کا امیر مقرر فرمایا۔۸ ربیع الاول ۱۱ھ کو آپ نے اپنے دست مبارک سے ان کے ہاتھ میں علم دیا۔کچھ لوگ ایک بیس سالہ بچے کی سپہ سالاری پر مطمئن نہ تھے،ان کی چہ میگوئیوں
کی خبر آں حضور کو مرض الموت میں ملی چنانچہ جس روز آپ کا بخار اترا ،آپ نے منبر
پر چڑھ کر فرمایا: ’’اسامہ امارت کا اہل ہے اور اس کا باپ بھی امارت کے لائق
تھا۔‘‘ آپ کی وفات کے روز اسامہ نے کوچ کی اجازت مانگی ،آپ کو شدید ضعف تھا پھر بھی
آپ نے اجازت دے دی او ر دعا بھی فرمائی۔پھر جب جرف کے مقام پر اسامہ کو سانحۂ وفات
کی خبر ملی تو وہ لوٹ آئے اور آپ کوغسل دینے میں شریک ہوئے۔ بیعت مکمل ہونے کے بعد
ابو بکر نے پہلا حکم یہ جاری کیا کہ اسامہ کا لشکر روانہ کیا جائے تو معترضین پھر
حرکت میں آ گئے ۔انھوں نے ابو بکر سے کہا کہ ہر طرف بغاوت کے شعلے بھڑک رہے ہیں
اور یہ حالات مسلمانوں کے لیے پر خطر ہیں۔لشکر روانہ نہ کریں یا اسامہ کی بجائے ایسے
شخص کو سپہ سالار مقرر کریں جو عمر میں بڑاہو۔ابو بکر نے ثابت قدمی سے فرمایا: ’’اگر شکاری پرندے مجھے اٹھا کر لے جائیں ،تمام عرب مجھ پر پل پڑے تو
بھی میں رسو ل ﷲ کا حکم پورا کرنے سے پہلے کوئی کام نہ کروں گا۔‘‘ عمر نے اس سلسلے
میں بات کی تو ان کو جواب دیا: ’’اے ابن خطاب، اسامہ کو رسول ﷲ نے امیر مقرر فرمایا
ہے اور تم کہتے ہو،میں اسے اس کے عہدے سے ہٹا دوں۔‘‘پھر انھوں نے حکم دیا کہ مدینہ
کا جو شخص بھی اس لشکر میں شامل تھا پیچھے نہ رہے ،وہ جرف جا کر لشکر میں مل
جائے۔‘‘وہ خود وہاں پہنچے اور لشکر کو روانہ کیا۔اسامہ گھوڑے پر تھے اور ابو بکر پیدل
چل رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اے خلیفۂ رسول ﷲ، آپ بھی سوار ہو جائیے۔ابو بکر نے
جواب دیا: کیا ہوا اگر ایک گھڑی میں نے اپنے پاؤں ﷲ کی راہ میں غبار آلود کر لیے
؟‘‘انھوں نے اسامہ سے درخواست کی کہ اپنے ایک سپاہی عمر کو میری معاونت کے لیے
چھوڑ جاؤ۔آخر میں فوج کو یہ نصیحتیں فرمائیں: خیانت نہ کرنا،چوری اور بد عہدی نہ
کرنا، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا ،مقتولوں کے اعضا نہ کاٹنا، کھجور
اور پھل والے درخت نہ کاٹنا،کھانا ﷲ کا نام لے کر کھانا۔ ﷲ تمھیں شکست اور وباسے
محفوظ رکھے ۔‘‘ اسامہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور ابو بکر کی ہدایات پر پوری طرح
عمل کیا۔ آہل اور قضاعہ قبائل پر حملوں میں بے شمار رومی مارے گئے اور بہت سا مال
غنیمت ہاتھ آیا۔ اسامہ نے سرحدی جھڑپوں پر اکتفا کیا اوروہ اندرون روم میں گھسے بغیر
واپس آگئے، اس لیے کہ موجودہ زمانے کی اصطلاح کے مطابق یہ مہم چڑھائی نہیں، بلکہ ایک
تادیبی کارروائی تھی ۔لشکر واپس آیاتو ابو بکر اور کبار صحابہ نے مدینہ سے باہر
نکل کر اس کا استقبال کیا۔ جیش اسامہ کے رعب اور دبدبے کا یہ اثر ہوا کہ مرتدین مدینہ پر فوری
حملہ کرنے سے باز رہے۔ پیغمبر علیہ السلام کی وفات کے بعد عربوں کی بدوی فطرت بیدار ہو گئی۔
وہ مرکز مدینہ سے آزاد ہو کر ارتداد کی تیاریاں کرنے لگے۔زیادہ دن نہ گزرے کہ ابو
بکرکو امرا کی طرف سے اطلاعات ملنے لگیں کہ باغیوں کے ہاتھوں سلطنت کا امن خطرے میں
ہے ۔بعض قبائل تو صریح مرتد ہو گئے، جبکہ دوسروں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
مدینہ کے نواح میں بسنے والے قبیلوں عبس، ذبیان، بنو کنانہ، غطفان اور فزارہ نے
موقف اختیار کیاکہ زکوٰۃ جزیہ کے مانند ہے۔ یہ خاص نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے تھی
،اہل مدینہ اسے طلب کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ وہ خلافت ابو بکر کو بھی نہ مانتے تھے۔
ان کاکہنا تھا کہ جیسے رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم نے قبول اسلام کے بعد یمن کے
عامل بازان کو اس کے عہدے پر برقرار رکھا تھا، ہم کو بھی اپنے علاقے میں خود مختاری
دی جائے۔ ان حالات میں جبکہ مدینہ کے بیش تر افراد جیش اسامہ کے ساتھ جا چکے تھے
،ابو بکر کی شوریٰ میںیہ رائے اکثریت اختیار کر گئی کہ منکرین زکوٰۃ سے جنگ نہ کی
جائے۔عمر نے کہا: ’’ہم ان لوگوں سے کیسے لڑ سکتے ہیں جو کلمہ گو ہیں؟‘‘ابو بکر نے
کہا: ’’بخدا، میں صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں فرق کرنے والوں سے ضرور لڑوں گا۔اگر یہ مجھے
ایک رسی بھی دینے سے انکار کریں جو وہ رسول ﷲ کے زمانے میں ادا کیا کرتے تھے تو میں
ان سے جنگ کروں گا۔‘‘تب عمر کو یقین ہو گیا کہ ابو بکر کو جو شرح صدر عطا ہوا ہے،
وہی حق ہے۔ ان پڑوسی قبائل نے فوجیں اکٹھی کر کے ابرق اور ذو القصہ کے مقامات پر
پڑاؤ ڈال دیا۔ وہ وفود کی شکل میں مدینہ آئے اوراداے زکوٰۃ سے مستثنیٰ کرنے کا
مطالبہ کیا ، ان کی آمدکا مقصد مدینہ کی جاسوسی کرنا بھی تھا۔ابو بکر نے ان کے
ارادوں کو بھانپ لیا۔ چنانچہ انھوں نے اہل مدینہ کو جمع کر کے فرمایا: ’’دشمن کو
تمھاری کمزوریوں کا علم ہے ۔وہ تم سے ایک منزل۱ کے فاصلے پر خیمہ زن ہے۔ ہم نے اس کے شرائط ماننے سے انکار کیا ہے،
اس لیے وہ تم پر ضرور حملہ کرے گا۔‘‘ تین ہی روز گزرے کہ منکرین زکوٰۃ نے مدینہ پر
چڑھائی کر دی۔ مدینہ کے ناکوں پر ابو بکر کی طرف سے متعین کردہ علی،زبیر،طلحہ اور
ابن مسعودنے فوراً ان کو خبر کی۔جب ان حملہ آوروں پر مسلمانوں کی جانب سے اچانک
جوابی یلغار ہوئی تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے ۔مسلمان ان کے پیچھے ذو حسا تک پہنچے
تووہاں موجود منکرین کے ساتھی مقابلے پر اتر آئے۔ رات بھر لڑائی کے بعد جب انھوں
نے مسلمان سواروں کے اونٹوں پر کمندیں پھینکنی شروع کیں تو اونٹ بھاگ کھڑے ہوئے
اور مدینہ جا کر دم لیا۔منکرین کی یہ فتح عارضی ثابت ہوئی، کیونکہ رات کے پچھلے
پہرابو بکر مدینہ سے تازہ دم سپاہی لے کر میدان کارزارآن پہنچے اور سورج طلوع ہونے
سے پہلے ان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ جنگ ذو القصہ جنگ بدر سے بہت مشابہت رکھتی
ہے ،اس میں بھی قلیل التعداد مسلمانوں نے بھاری اکثریت رکھنے والے دشمن کو شکست دی۔ابو
بکر نے عزم وایقان کا جو مظاہرہ کیا، انھی کے شایان شان تھا، کیونکہ انھوں نے آغاز اسلام ہی سے رسول ﷲ کی
کامل پیروی کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔وہ منکرین کو دو باتوں کی پیش کش کرتے ،ذلت
وخواری قبول کر لویا جنگ اور جلا وطنی کے لیے تیار ہو جاؤ ۔جیش اسامہ کی واپسی کے
بعدابوبکر اس لشکر کی خود قیادت کرتے ہوئے ابرق پہنچے، جہاں بنو عبس، بنو بکراور
ذبیان کے ساتھ ان کا آخری معرکہ ہوا۔انھوں نے ذبیان کو ہمیشہ کے لیے ابرق سے
نکالنے کا اعلان کیا اور وہاں کی اراضی اور چراگاہیں مسلمانوں میں تقسیم کر دیں
۔مذکورہ منکر زکوٰۃ قبیلے شکست کے بعد بھی باز نہ آئے ،ان کی قبائلی عصبیت نے انھیں
حقائق ماننے سے باز رکھا۔ انھوں نے اپنی شرم ناک شکست کا بدلہ اپنے زیر دسترس
مسلمانوں کو قتل کر کے لیا اور خود بنو اسد کے مدعی نبوت طلیحہ بن خویلد سے جا
ملے۔ منکرین زکوٰۃ کی شکست کے بعد لوگ زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے جوق در جوق مدینہ آنے
لگے۔ سب سے پہلے صفو ان تمیمی اور عدی بن حاتم طائی آئے۔ بنو اسد میں طلیحہ ،بنو تمیم میں سجاح اور بنو یمامہ میں مسیلمہ کذاب
نے دعواے نبوت کیا۔ لقیط بن مالک عمان میں اور اسود عنسی یمن میں شورش کے ذمہ دار
تھے۔اسود نامی کاہن جنوبی یمن میں رہتا تھا،شعبدہ بازی کرتے کرتے ا س نے نبوت کا
دعویٰ کردیا اور اپنا لقب رحمان الیمن رکھا۔وہ یمن ،حضرموت ،بحرین اور عد ن پرقابض
ہو گیا۔ اس کا نعرہ تھا:’یمن یمنیوں کا ہے ، اجنبیوں کو نکال دو‘۔ تب رسول پاک صلی
ﷲ علیہ وسلم حیات تھے اور رومیوں کے خلاف لشکر اسامہ کی تیا ری میں مصروف تھے،آپ
نے اسود کے خلاف کارروائی کو موخر فرمایا ،اسی دوران میں آپ کا انتقال ہوا اور
اسود کو اس کے قریبی ساتھیوں ہی نے قتل کر دیا۔یہ پہلی خوش خبری تھی جو خلیفۂ اول
ابو بکر کو ملی۔مسیلمہ نے آں حضرت کو خط بھیجا تھاکہ نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش
کی۔یہ لوگ اسلام میں رسوخ نہ رکھتے تھے،شام وایران سے متصل ہونے کی وجہ سے ان میں
بت پرستی اور آتش پرستی کے اثرات تھے پھرانھیں خود مختاری کا شوق بھی تھا، اہل یمن
تو حجازیوں سے پہلے سے نفرت کرتے تھے ۔ مکہ کے عامل عتاب بن اسید لوگوں کے اسلام
سے منحرف ہونے کا اندیشہ کرتے ہوئے روپوش ہو گئے، جبکہ وہاں کے باشندوں کو سہیل بن
عمرو نے مرتد ہونے سے روکا۔ اسی طرح طائف کا قبیلہ بنو ثقیف مرتد ہوناچاہتا تھا ،
وہاں کے گورنر عثمان بن ابو العاص نے ان کو باز رکھا۔ مرتدین سے جنگ کرنے سے پہلے ابو بکر نے ان کو خطوط ارسال کیے ۔انھوں
نے لکھا: ’’رسول ﷲبشارت و انذار کا کام مکمل کر چکے تو انھیں ﷲ نے اپنے پاس بلا لیا۔اب
تم میں سے جو لوگ جہالت کے باعث اسلام سے پھر گئے ہیں، اگر وہ اپنی دین مخالف سر
گرمیوں سے باز آگئے تو ان کی جان بخشی کر دی جائے گی۔جو آمادۂ فساد ہوں گے، ان سے
جنگ کی جائے گی، ان کو بری طرح قتل کر کے ان کی عورتوں اور بچوں کوقیدی بنا لیا
جائے گا۔ان کا اذان دیناان کے اسلام کی علامت سمجھا جائے گا۔‘‘بہت سے مرتدین نے
اسلام کی طرف رجوع کر لیا۔ اب ارتداد پر قائم سرکشوں کی سرکوبی کا مرحلہ آیا۔اسامہ
کا لشکر اچھی طرح آرام کر چکاتو ابوبکر اسے لے کرمدینہ سے نکلے ۔ذوالقصہ پہنچ کر
انھوں نے لشکر کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا ،ہر حصے کوالگ پرچم دے کر الگ ا میر
مقرر کیا۔ ابو بکر نے بنو اسد کے طلیحہ بن خویلد کی طرف خالد بن ولید کو،بنو حنیفہ
کے مسیلمہ کی طرف عکرمہ بن ابو جہل کو،یمامہ او رقضاعہ کی طرف شرجیل بن حسنہ کو،
اسود عنسی ‘عمرو بن معدی کرب اور قیس بن مکشوح کی طرف مہاجر بن ابو امیہ کو ،
تہامہ کی طرف سوید بن مقرون کو،حطم بن ضبیعہ اور قیس بن ثعلبہ کی طرف علا بن حضرمی
کو،عمان کے لقیط بن مالک کی طرف حذیفہ بن محصن کو ،مہرہ کی طرف عرفجہ بن ہرثمہ
کو،قضاعہ کی طرف عمرو بن عاص کو، بنو سلیم اور بنو ہوازن کی طرف معن بن حاجز کواور
شام کی سرحدوں کی طرف خالد بن سعید کو بھیجا۔ انھوں نے دستوں کو ہدایت کی کہ جن قبیلوں
پر ان کا گزر ہو ،وہاں کے مسلمانوں کو لشکر میں شامل کرتے جائیں ،کوئی سپہ سالار
فتح حاصل کرنے کے بعد مرکز مدینہ کے حکم کے بغیر اپنی پوزیشن نہ چھوڑے۔ عبس ،ذبیان،بنو بکر ،بنوطی، غطفان اور بنو سلیم مدعی نبوت طلیحہ سے
جا ملے تھے ،یہ سب بزاخہ میں اکٹھے ہو گئے۔ طلیحہ نے دعویٰ کیا کہ محمد کی طرح مجھ
پر بھی وحی آتی ہے ۔اس نے کچھ مقفیٰ عبارتیں بنا کر لوگوں کو سنائیں اور لوگوں کو
رکوع وسجود سے منع کر دیا۔ادھر عدی بن حاتم طائی زکوٰۃ ادا کر کے مدینہ سے لوٹے
اور اپنے قبیلے طے کو اسلام کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا ۔ قبیلہ والے مان گئے تو عدی نے سنح پہنچ کر خالد بن ولید کو تین دن کے
لیے بزاخہ پر حملہ کرنے سے روکا۔اس دوران میں عدی نے طلیحہ کے لشکر میں موجود اپنے
پانچ سو آدمیوں کو واپس بلا لیا۔خدا کی قدرت کہ طلیحہ کو شبہ تک نہ ہوااور یہ آدمی
لشکر خالد کے سپاہی بن گئے۔اب خالد کا ارادہ انسر جا کر قبیلۂ جدیلہ سے جنگ کرنے
کا تھا۔عدی نے کہا: اگر طی قبیلہ پرندہ ہوتا توجدیلہ ا س کا پر بنتا۔کچھ روز مہلت
دے کر مجھے جدیلہ جانے دیں، شایدﷲاس قبیلے کو بھی ارتداد سے بچا لے۔ چنانچہ ایسا ہی
ہواور جدیلہ کے ایک ہزار سوار مرتدین کے جتھے سے ٹوٹ کر جیش خالد میں شامل ہو
گئے۔ادھر بزاخہ میں موجود طلیحہ اب بھی مقابلے پر تیار تھا، کیونکہ ابو بکر کا جانی
دشمن عیینہ بن حصن سات سو فزاری لیے اس کے ساتھ تھا۔ اس نے سپہ سالاری سنبھالی جب
کہ طلیحہ خیمے میں کمبل اوڑھے وحی کا انتظار کرتا رہا۔ اسلامی لشکر کا دباؤ بڑھا
اور جھوٹے نبی کی وحی میں تاخیر ہوئی توعیینہ نے اپنی قوم کو پکارا: اے بنو فزارہ!
طلیحہ کذاب ہے ،بھاگ کر اپنی جانیں بچاؤ۔باقی لشکر طلیحہ کے گرد اکٹھا ہو گیا،اس
نے اپنے لیے ایک گھوڑے اور اپنی بیوی نوارکے لیے اونٹ کا انتظام کیا ہوا تھا۔یہ
کہہ کر وہ بھاگ کھڑا ہوا کہ تم بھی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جانیں بچاؤ۔وہ شام
پہنچا اور بنو کلب میں سکونت اختیار کر لی۔ اس کے اکثر ساتھی مسلمان ہو گئے تو وہ
بھی اسلام لے آیا، عمر کی خلافت میں اسے بیعت کا موقع ملا۔خالد بن ولید ایک ماہ
بزاخہ میں مقیم رہے ۔انھوں نے مسلمانوں کا قتل کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایااور
قرہ بن ہبیرہ، فجاہ سلمیٰ اور ابو شجرہ جیسے مرتدوں کو بیڑیاں پہنا کر مدینہ بھیج
دیا۔ ابو بکر نے فجاہ کو جلانے کا حکم دیا، کیونکہ اس نے افواج اسلامی کے
ہتھیار مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال کیے تھے،باقی لوگوں کو انھوں نے معاف کر دیا۔
بزاخہ کے ہم سایہ میں رہنے والے بنو عامر بھی مسلمان ہو گئے جبکہ طلیحہ کا ساتھ دینے
والے غطفان، طی، ہوازن اور سلیم کے کچھ لوگ ام زمل سلمیٰ بنت مالک کے پاس جا
پہنچے۔یہ بنو فزارہ کے سردار عیینہ کی چچی ام قرفہ فاطمہ بنت بدر کی بیٹی تھی۔ام
قرفہ کو خود آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے قتل کرایا تھا ،یہ لوگوں کو مسلمانوں کے
خلاف بھڑکاتی تھی۔ام زمل لونڈی بن کر عائشہ کے حصے میں آئی جنھوں نے اسے آزاد کردیا۔آزادی
کے بعد اس نے اپنی ماں کے قتل کا بدلہ لینا اپنا مقصد بنا لیا۔مسلمانوں کی فوج کا
ام زمل کی فوج سے ٹکراؤ ہوا،پورے سو آدمیوں کو جہنم واصل کرنے کے بعد وہ ام زمل تک
پہنچے ۔اس کے خاتمے کے بعد اس کی فوج بھی تتر بتر ہو گئی۔ شمال مشرقی عرب کی بغاوتوں کو فرو کرنے کے بعد ابو بکر جنوبی عرب کی
طرف متوجہ ہوئے جہاں بنو تمیم مقیم تھے۔ یہ لوگ قبر پرست تھے ،ان میں سے کچھ عیسائی
ہو چکے تھے۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسی قبیلے نے سب سے پہلے جزیہ دینے
سے انکار کیا۔آپ نے عیینہ بن حصن کو ان کے پاس بھیجا،وہ ان کو مطیع کر کے مدینہ لے
آئے۔اس موقع پر بنو تمیم مسلمان ہو گئے،آپ نے اس قبیلے کی مختلف شاخوں کے لیے الگ
الگ امیر مقرر فرمائے۔ مالک بن نویرہ بنو یر بوع کاسردار تھا،آپ کی وفات کے بعداس
نے ابو بکر کی خلافت ماننے او رآپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔سجاح بنت حارث بھی
بنو یربوع سے تعلق رکھتی تھی ،اس کی شادی اپنے ننھیال تغلب میں ہوئی تھی۔یہ بہت ذہین
تھی ،کہانت کے ساتھ اسے لوگوں کی رہبری کرنا آتا تھا۔اسے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی
وفات کی خبر ملی تو اس نے نواحی قبائل کا دورہ کیا اور انھیں مدینہ پر ہلا بولنے
کے لیے آمادہ کرنے لگی ۔اس کا خیال تھا، وہ نبوت کا دعویٰ کرے گی تو تمام بنو تمیم
اس پر ایمان لے آئیں گے اور وہ مدینہ پر دھاوا بول دے گی ۔کہا جاتا ہے کہ ایرانی
عمال اس کی پشت پر تھے۔ ان کی منصوبہ بندی کے مطابق یہ عرب میں فتنہ وفساد کی آگ بھڑک
اٹھنے تک مقیم رہی اور مقصد پورا ہونے کے بعدعراق واپس چلی آئی ۔ مالک بن نویرہ نے
اسے مدینہ پر حملہ کرنے سے باز کیا۔ پھر وکیع بھی سجاح سے مل گیا اور ان تینوں نے
اپنے ہی قبیلے بنو تمیم کے دوسرے سرداروں پر حملہ کر دیا۔جلد ان دونوں کومحسوس ہوا
کہ انھوں نے اس عورت کا ساتھ دے کر بڑی غلطی کی ہے۔سجاح تمیم سے نا مراد پلٹی،مدینہ
کو جاتے ہوئے نباج پہنچ کر اوس بن خزیمہ سے شکست کھائی تو یمامہ آن پہنچی۔یہاں کے
نبی مسیلمہ کو اپنی نبوت کی فکر پڑ گئی تواس نے دونوں نبوتوں کو جمع کرنے کے لیے
سجاح کو دام میں پھنسایا او راس سے شادی کر لی۔مہر مسیلمہ کی زرعی آمدن کا نصف
مقرر ہوا، سجاح کے لیے عشا اور فجر کی نمازوں میں تخفیف کر دی گئی۔ ادھر مالک بن نویرہ اکیلا رہ گیا تھا، کیونکہ اس کا دست راست وکیع
مسلمان ہوکر زکوٰۃ ادا کر چکا تھا۔خالد بن ولید بنو اسد و غطفان کی سرکوبی سے فارغ
ہو چکے تھے ،انھوں نے تمیم کا رخ کرنے کا ارادہ کیا ۔انصار پہلے تو بزاخہ میں رہ
گئے پھر خالد کے ساتھ آن ملے۔مالک نے اپنی کم زور پوزیشن کا جائزہ لیا تو اپنی قوم
کو منتشر کر دیااور خود روپوش ہو گیا۔ خالد کا بھیجا ہوا ایک دستہ مالک کو گرفتار
کر لایا۔ مالک نے اسلام کا اقرار کیا اور مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھی، لیکن
زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، چنانچہ خالد نے ا س کو قتل کرا دیا۔ان کا مالک کو قتل
کرانا بہت نزاع کا باعث بنا ۔ابو قتادہ انصاری جو مالک کو گرفتار کرنے والوں میں
شامل تھے، کہتے ہیں کہ اس نے زکوٰۃ کا اقرار بھی کیا تھا،دوسرے راوی اس اقرار کو
نہیں مانتے ۔پھر جب خالد نے اسلامی احکام اور مروج جاہلی رسوم، دونوں کے علی الرغم
مالک کی بیوہ لیلیٰ سے اس کی عدت گزرنے سے پہلے ہی شادی کر لی تو ان پر الزام لگا
کہ انھوں نے اس خوب رو عورت سے شادی کی خاطر اس کے شوہر کو مروایا۔ابو قتادہ تو ا
س قدر ناراض ہوئے کہ یہ قسم کھا کر مدینہ لوٹ گئے کہ آیندہ کبھی خالد کے جھنڈے تلے
نہ لڑیں گے۔انھوں نے ابوبکر کو یہ واقعہ سنایا تو انھوں نے توجہ نہ دی پھر وہ عمر
کے پاس گئے۔ عمر نے ابو بکر کومشورہ دیا ، اس الزام کی بنا پر خالد کو معزول کر دیا
جائے۔ان کو گوارا نہ ہوا کہ ایک لغزش کی وجہ سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے مقرر
کردہ قائد کو معزول کر دیں، چنانچہ ان کا جواب تھا: ’’میں اس تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا جسے ﷲ
نے کافروں پر مسلط کیا ہو۔‘‘خالد مدینہ پہنچ کر ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور
اس واقعے کی تفصیلات ان کے گوش گزار کیں۔ابوبکر نے مالک کے قتل کے متعلق ان کی
معذرت قبول کی، لیکن اس کی بیوی سے شادی پر ناراضی کا اظہار کیا اور اسے طلاق دینے
کا حکم دیا۔ابو بکر کا طرز عمل خود نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے اس عمل کی پیروی تھا جب
خالد نے بنو خزیمہ کے قیدیوں کو قتل کرنے میں جلدی کی تھی۔آپ نے مقتولوں کی دیت
ادا فرمائی، بنو خزیمہ کا ایک ایک برتن واپس کیا ،ﷲ کے حضور خالد کے عمل کی برأتپیش
کی، لیکن خالد کو معزول نہ فرمایا۔ مالک بن نویرہ کے قتل کا معاملہ طے کرنے کے
بعدابوبکر نے خالد کو یمامہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا جہاں مسیلمہ بنو حنیفہ کے
چالیس ہزارجنگ جو اشخاص کے ساتھ مقیم تھا،وہ بطاح پہنچے اور ابوبکر کی کمک کا
انتظار کرنے لگے۔ #مطالعۂ مزید:الطبقات الکبریٰ(ابن سعد)،الامامہ والسیاسہ(ابن قتیبہ)،تاریخ
الامم والملوک(طبری)، البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)،تاریخ الاسلام (ذہبی)،اردو دائرۂ
معارف اسلامیہ(پنجاب یونیورسٹی) ، الصدیق ابو بکر (محمد حسین ہیکل) ، المفصل فی
تاریخ العرب قبل الاسلام(جواد علی)،عبقرےۃ الصدیق (عباس محمود العقاد)۔ شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔۔۔ قـســــــط نمــــــــبر 15 مسیلمہ ۹ھ میں بنو حنیفہ کے ایک وفد کے ساتھ مدینہ آ یا۔وفد
کے ارکان نے آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا
،مسیلمہ سامان کی حفاظت پر مامور تھا ،آپ کے پاس نہ پہنچا، لیکن بظاہر مسلمان ہو گیا
۔آپ نے بھی اس کے لیے کچھ مال بھجوایا۔ وطن واپس جا کراس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور من گھڑت الہامات سنانے
لگا پھراس نے آپ کو خط لکھا کہ مجھے بھی اپنی نبوت میں شریک کر لیں یا یہ منصب
مجھے منتقل کردیں۔آپ نے اسے جھوٹا قرار دیا، قبل اس کے کہ آپ اس کے خلاف کسی
کارروائی کا حکم فرماتے، آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یمامہ کا ایک شخص نہارالرجال بن
عنفوہ بھی اس سے مل گیاجس نے مدینہ میں قیام کر کے قرآن مجید اور اسلام کی تعلیم
حاصل کی تھی۔نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے اہل یمامہ کو اسلامی تعلیمات سکھانے کے لیے
بھیجا، لیکن و ہ الٹامسیلمہ سے مل گیا اور آپ سے جھوٹا قول منسوب کر دیا کہ مسیلمہ
شریک نبوت ہے ۔یمامہ والے اس کے دھوکے میں آ گئے اورہزاروں لوگ اس جھوٹے نبی پر ایمان
لے آئے۔ تاریخ میں مسیلمہ کا کوئی معجزہ مذکور نہیں۔قبائلی عصبیت نے اس کے گرد
جھرمٹ ا کٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ طلحہ نمری نے گواہی دی:’’مسیلمہ، تم
کذاب ہو اور محمد سچے ہیں، لیکن ہمیں اپنا کذاب دوسروں کے سچے سے زیادہ محبوب ہے
۔‘‘چنانچہ وہ مسیلمہ کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا گیا ۔ جنگ یمامہ ربیع الاول ۱۲ھ (مئی ۶۳۳ء)میں عقربا کے مقام پر لڑی گئی، جہاں مسیلمہ
لشکر کش تھا۔ چالیس ہزار پر مشتمل مسیلمہ کا لشکر اسلامی لشکر سے کئی گنا بڑا تھا، اس لیے ابو بکر نے خالد کے لشکر کے برابر ایک اور کمک بھیجی ۔ان کی
پالیسی تھی کہ اہل بدر کو جنگوں میں نہ بھیجا جائے، لیکن اس نازک موقع پر انھوں نے
بدری صحابہ کا ایک دستہ اور حفاظ کی بڑی تعدادبھی اس لشکر میں شامل کی ۔انصار کی
کمان ثابت بن قیس اور برا بن مالک کے پاس تھی، جبکہ ابو حذیفہ بن عتبہ اور زید بن
خطاب مہاجرین کی سربراہی سنبھالے ہوئے تھے۔خالد سے پہلے عکرمہ اور شرحبیل مسیلمہ
سے شکست کھا چکے تھے، کیونکہ وہ مسیلمہ کی طاقت کا اندازہ لگائے بغیر اس سے بھڑ
گئے تھے۔ابو بکر نے عکرمہ کو تو عمان اور اس کے بعد یمن بھیج دیا، لیکن شرحبیل
کووہیں رکنے کی ہدایت کی۔ خالد نے بطاح سے یمامہ کی طرف بڑھناشروع کیا،ثنےۃالیمامہ کے مقام پر
انھیں بنو حنیفہ کا ایک سردار مجاعہ ایک شب خون مارنے والے دستے کے ساتھ ملا ۔
انھوں نے اس کے ساتھیوں کو تو قتل کرا دیا، لیکن اسے بیڑیوں میں جکڑ کر قید کر لیا۔دوسرے
دن فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔مسیلمہ کے بیٹے شرحبیل نے اپنی فوج کو خوب جوش دلایا
اور بھڑکایا: ’’اے بنو حنیفہ، اگر تم شکست کھا گئے تو تمھاری عورتیں لونڈیاں بنا لی
جائیں گی،اپنے حسب ونسب کی خاطر مسلمانوں سے جنگ کرو ۔‘‘بد قسمتی سے انصار ،مہاجرین
اور بدووں میں یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ ان میں زیادہ دلیر کون ہے؟ اس غفلت کا نتیجہ
یہ ہوا کہ یمامہ کا لشکر ان پر چڑھ دوڑا اور یہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔خالد
نے مسلمان لشکر کو الگ گروہوں میں بانٹ کر کہا:’’ہم دیکھیں گے کہ کس نے زیادہ دلیری
کا مظاہرہ کیا ہے؟‘‘سب سے پہلے مسیلمہ کا دست راست نہار الرجال مارا گیا اور
مسلمانوں میں سے ثابت بن قیس، زید بن خطاب ،ابو حذیفہ اور ان کے غلام سالم نے جام
شہادت نوش کیا۔ خالد نے دیکھا کہ مسیلمہ کے ساتھی اس کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے ہیں
اور اس کی حفاظت میں موت کی پروا نہیں کر رہے تو انھوں نے اسے قتل کرنے کی ٹھانی
تاکہ جنگ کا جلد خاتمہ ہو ۔ جب خالد نے اس کے جلو میں کھڑے ہوئے بے شمار لوگوں کو مار ڈالاتو وہ
پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا اور اپنے تعمیر کردہ بلند فصیلوں والے حدیقۃ الرحمان میں
داخل ہو گیا،اس کی قوم بنو حنیفہ بھی اس کے ساتھ اس باغ میں پناہ گزین ہو گئی۔اسلامی
فوج نے باغ کے گرد پڑاؤ ڈال دیا ، کوشش کے باوجود کوئی ایسی جگہ نہ ملی جہاں سے
شگاف کیا جا سکتا تو برا بن مالک نے کہا: ’’مجھے اٹھا کر اندر پھینک دو ،میں دروازہ اندر
سے کھول دوں گا۔‘‘ان کے اصرار پر انھیں پھینکا گیا تو دروازہ کھلا۔بنو حنیفہ کے لا
تعداد افراد تہ تیغ ہوئے تو بہت سے مسلمان بھی شہید ہوئے۔ مقتولوں کی کثرت سے باغ
ایک مذبح کا منظر پیش کر رہا تھااسی وجہ سے یہ حدیقۃ الموت کہلایا۔ جنگ احد میں سید
الشہدا حمزہ کو شہیدکرنے والے اور فتح مکہ کے موقع پر ایمان لانے والے وحشی نے مسیلمہ
کو دیکھا تو تاک کر اسے نیزہ مارا،یوں وہ کذاب جہنم واصل ہوا۔ اس دوران میں ایک
انصاری بھی اس پر تلوار کا وار کر چکے تھے۔ باقی مفروروں کو پکڑنے کے بعد خالد نے
بنو حنیفہ کے قلعہ بندوں سے صلح کی۔ مجاعہ نے ان سے دھوکا کیا اور قلعوں میں بند
عورتوں اور بچوں کو جنگجو مرد ظاہر کر کے پون مال اسباب،باغات اور قیدیوں کو چھڑا
لیا۔اسی اثنا میں ابو بکر کا قاصد پیغام لایاکہ لڑائی کے قابل سب مردوں کو قتل کر
دیا جائے، لیکن خالد نے صلح بر قرار رکھی اوربنو حنیفہ نے نئے سرے سے بیعت اسلام کی۔جنگ
یمامہ میں یمامہ کے ۲۱ ہزار آدمی مارے گئے، جبکہ مسلمان شہدا کی
تعداد ۱۲ سو تھی،ان میں۳۶۰ مدینہ میں رہنے والے مہاجرین وانصار اور ۳۰۰ دوسرے شہروں کے مہاجرین تھے۔ابو بکر نے کثیر تعداد میں حفاظ کے شہید
ہوجانے کے بعد قرآن مجید جمع کرنے کا حکم جاری کیا۔اس معرکے سے فارغ ہونے کے بعد
خالد نے مجاعہ کی بیٹی سے شادی کی تو ابو بکر بہت ناراض ہوئے ۔ اب جنوبی قبائل کی بغاوت فرو کرنے کی باری تھی۔نصف عرب پر محیط یہ لق
و دق صحرا بحرین ،عمان ،مہرہ، حضرموت، کندہ اور یمن کے صوبوں پر مشتمل ہے اور ربع
الخالی کے نام سے مشہور ہے۔یہاں ایران کا بہت اثر تھا ،خسرو کے عامل بدھان کے قبول
اسلام تک یمن ایران کی عمل داری میں تھا۔ ابھی خالد یمامہ میں تھے کہ ما تحت سپہ
سالاروں کو ان قبائل کی طرف بھیج دیا ۔بحرین نزدیک تھا ،اس لیے یہاں سے آغاز کیا گیا۔یہاں
کا عیسائی بادشاہ منذر بن ساوی ۹ھ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے قاصد
علا بن حضرمی کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا تھا ۔ اتفاق سے جب آں حضرت نے وفات پائی اسی
ماہ منذر کا انتقال بھی ہو گیا۔ بحرین والے مرتد ہو گئے ،صرف نبی صلی ﷲ علیہ وسلم
کے تربیت یافتہ جارود بن معلی اسلام پربرقرار رہے۔انھوں نے اپنے قبیلے عبد القیس
کو پھر سے اسلام پر آمادہ کر لیا، لیکن بحرین کے دوسرے قبائل حطم بن ضبیعہ کی
سربراہی میں ارتداد پر قائم رہے ۔اس نے ہجر اور قطیف میں مقیم غیر ملکیوں اور غیر
مسلموں کوساتھ ملا کر بنو عبد القیس کا محاصرہ کر لیا۔بھوک اور پیاس سے جاں بلب
ہونے کے باوجودبنو عبد القیس پھر مرتد نہ ہوئے۔ابو بکر نے علا بن حضرمی کو بحرین
کے مرتدین کے مقابلے کے لیے بھیجا ، وہ یمامہ کے پاس سے گزرے تو نئے سرے سے مسلمان
ہونے والے بنو حنیفہ کی کثیر جمعیت ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ قیس بن عاصم نے جو زکوٰۃ کا انکار کرنے میں پیش پیش تھے، اپنے قبیلے
سے زکوٰۃ اکٹھی کر کے علا کو پیش کی۔علا محاذ جنگ پر پہنچے تو انھوں نے مرتدین کی
بھار ی تعداد دیکھتے ہوئے اسلامی لشکر کے گرد خندق کھدوائی اور پڑاؤ ڈال دیا کبھی
کبھار وہ خندق عبو ر کر کے مرتدین پر حملہ کرتے اور پھر واپس آ جاتے۔ایک ماہ اسی
طرح گزر گیا ،ایک رات جب مشرکین شراب میں دھت غوغا کرر ہے تھے علا پیش قدمی کر کے
ان کے علاقے میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کر دیا۔بے شمار قتل ہوئے اور ہزاروں
کوقیدی بنا لیا گیا،قیس بن عاصم نے حطم کا کام تمام کیا۔کچھ فرار ہو کر چند میل
دور خلیج فارس میں واقع جزیرۂ دارین جا پہنچے ۔مسلمانوں کے پاس کشتیاں نہ تھیں
،انھوں نے گھوڑوں ،خچروں اور اونٹوں ہی کو سمندر میں ڈال دیااور دارین پہنچ گئے
۔مفروروں کا قلع قمع کرنے کے بعد واپس بحرین آئے تو علا نے ابوبکر کو فتح کی خوش
خبری بھیجی۔ رسو ل ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں عمان پر ایران کی طرف سے جیفر
نامی عامل مقر ر تھا ۔آپ نے اس کی طرف عمرو بن عاص کو اسلام کا پیغام دے کر بھیجا،
اسے زکوٰۃ مدینہ بھیجنے پر اعتراض تھا ۔عمرو نے زکوٰۃ اسی کے علاقے میں خرچ کرنے کی
تجویز پیش کی تو وہ مسلمان ہوا۔ آپ کی وفات کے بعد مدعی نبوت لقیط بن مالک کی تحریک
پر اہل عمان مرتد ہوئے تو جیفر پہاڑوں پر بھاگ گیا۔ ابو بکر نے حمیر سے حذیفہ بن محصن کو عمان بھیجا ۔آپ کی ہدایت پر یمامہ
سے عکرمہ بن ابو جہل اور شرحبیل بن حسنہ بھی آ گئے۔جیفر اور اس کے بھائی عباد کو پیغام
بھیجا گیا کہ آ کر اسلامی لشکر سے مل جائیں۔دبا کے مقام پر شدیدلڑائی ہوئی ،ابتدا
میں لقیط کا پلہ بھاری تھا، لیکن عبد القیس اور دوسرے قبائل کی طرف سے کمک پہنچی
تو جنگ کا پانسا پلٹ گیا ،غنیم کے ۱۰ ہزار آدمی مارے گئے،بہت سے قید ہوئے
اور کثیر ما ل غنیمت ہاتھ آیا۔ عکرمہ بھاری جمعیت لے کر مہرہ پہنچے ،وہاں دو حریفوں میں اقتدار کی
کشمکش چل رہی تھی ۔انھوں نے کمزور فریق کو اسلام کی دعوت دی پھران نو مسلموں کو
اپنے ساتھ ملاکر طاقت ور گروہ پر حملہ کر دیا۔ گھمسان کا رن پڑا اور مسلمانوں کو
فتح حاصل ہوئی۔عکرمہ نے فتح کی خوش خبری اور خمس بھیجنے کے ساتھ حلیف جماعت کے
سربراہ کو بھی ابو بکر کی خدمت میں مدینہ روانہ کیا۔ اب وہ ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے
یمن کی طرف بڑھے۔ یمن کی بغاوت کا پہلا سبب وہاں کسی مرکزی حکومت کا موجود نہ ہونا
تھا۔بازان کے بیٹے شہر اور دوسرے عمال میں منقسم حکومت مدعی نبوت اسو دعنسی کے
جانشینوں کی سازشوں کے سامنے نہ ٹھہر سکتی تھی۔آں حضرت صلیﷲ علیہ وسلم کی وفات کے
بعد اٹھنے والی ارتداد کی لہر نے بھی اثر دکھایا ۔اس بغاوت کا دوسرا سبب نسلی تھا
،ابو بکر نے شہر بن بازان کے قتل کے بعد ایرانی النسل فیروز کو صنعا کا حاکم مقرر
کیا، اس لیے عربی النسل قیس حمیری اس کا مخالف ہو گیا۔دوسری طرف مدینہ سے یمن کو
جانے والے راستے پر آبادعک اور اشعر قبائل نے مسلمانوں کے لیے یہ راستہ مسدود کر دیا
تھا۔ طائف کے حاکم طاہر بن ابو ہالہ نے ابو بکر کی اجازت سے ان قبائل سے ایک خوں ریز
جنگ کے بعد اس طریق الاخابث کو مسلمانوں کے لیے وا کردیا۔ قیس نے یمن میں مقیم ایرانی نسل کے باشندوں کے خلاف جنھیں انبا کہا
جاتا تھاعرب قبائل کو ابھارا۔ ذو الکلاع حمیری نے اس کاساتھ نہ دیا تو اس نے اسود
عنسی کے قتل میں شامل باقی عرب سرداروں سے رابطے کیے ا ور انتہائی خفیہ طور پرفوج
ترتیب دے کر صنعا پر حملہ کر ادیا۔خودوہ صنعا میں رہا ،اس نے فیروزاور اس کے دو
ساتھیوں داذویہ اور جشنس کو قتل کے ارادے سے اپنے گھر بلایا،داذویہ کے قتل میں وہ
کامیاب ہوگیا، لیکن فیروز اورجشنس بھاگ نکلے ۔فیروز کے جانے کے بعد حکومت اس کے
ہاتھ آ گئی۔اس نے اپنے مطیع ہوجانے والے انباکو کچھ نہ کہا، لیکن باقیوں کو عدن کی
بندر گاہ یا خشکی کے راستے واپس خلیج فارس بھیج دیا۔اقتدار سے محروم ہونے کے بعد فیروز
نے اسلام پر قائم قبیلوں کو ساتھ ملا کر صنعا پر کامیاب حملہ کیااورخلیفۂ اول کی
طرف سے اپنی امارت پھر سنبھال لی۔ دارالحکومت سے باہر یمن ابھی پر سکون نہ ہوا
تھا۔بغاوت یمن کی تیسری وجہ یمن و حجاز کا دیرینہ عناد تھا۔ اسے زبید قبیلے کے
عمرو بن معدی کرب نے خوب انگیخت کیا جو شاعر ہونے کے ساتھ جنگجو بھی تھا۔اس نے قیس
بن عبد یغوث کو اپنے ساتھ ملا لیا اور نجران کے عیسائیوں کے سو اتمام قبائل کو
آمادۂ بغاوت کر لیا۔ اس اثنا میں عکرمہ یمن پہنچ چکے تھے ،دوسری طرف سے مہاجر بن امیہ
ابوبکر کا عطا کردہ علم تھامے پہنچ گئے،وہ مکہ ،طائف اور نجران سے سینکڑوں جنگی لیاقت
رکھنے والے افراد کو ساتھ لائے تھے ۔ادھر سے فروہ بن مسیک ان سے مل گئے۔ ﷲ کی مدد
ایسی آئی کہ قیس اور عمرو میں پھوٹ پڑ گئی اور عمرو مسلمانوں کے ساتھ آ ملے ۔انھوں
نے قیس کو پکڑ کر مہاجر کے سامنے پیش کر دیا،مہاجر نے دونوں کو گرفتار کر کے ابو
بکر کی خدمت میں بھیج دیا" ابوبکر نے داذویہ کے قصاص میں قیس کو قتل کرنا چاہا، لیکن کوئی شہادت
نہ ملی ،جبکہ عمرو نے مملکت اسلامیہ کا نیک شہری بن کر زندگی گزارنے کا وعدہ کیا
تو دونوں چھوٹ کر اپنے قبیلوں میں واپس پہنچ گئے ۔ عمرونے مسلمان ہونے کے بعد
اسلام کے لیے قابل قدر خدمات سر انجام دیں۔ابوبکر نے اقتدار کی کشمکش میں یمنی
عربوں کے مقابلے میں ایرانی نسل کے فیروز اور شہر کو اس لیے ترجیح دی کہ وہ قبول
اسلام میں سبقت کرنے والے تھے مزید یہ کہ شہر بن بازان خود رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم
کی طرف سے تقرری حاصل کر چکے تھے۔ اسود عنسی نے دعواے نبوت کیا تو کندہ کے لوگوں نے اس کا ساتھ دیا۔اسی
دوران میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ارتداد کے شعلے بھڑک اٹھے ۔آپ کے
مقرر کردہ کندہ کے عامل زیاد بن لبیدنے اس فتنے کو فرو کرنے کے لیے مسلما ن قبائل
کو ساتھ ملایا اور قبیلۂ عمرو بن ربیعہ پر حملہ کر دیا ۔انھوں نے مردوں کو قتل
کرنے کے بعدعورتوں کو قیدی بنا لیا ۔ واپسی میں وہ کندہ کے رئیس اشعث بن قیس کے قبیلے
کے پاس سے گزرے تو عورتوں نے اشعث کو دہائی د ی،تیری خالاؤں کی عزتیں خطرے میں ہیں۔ باجودیکہ اشعث آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام
قبول کر چکا تھا اور ابو بکر کی بہن ا م فروہ سے اس کی منگنی ہو چکی تھی،اس موقع
پر اس کی قبائلی عصبیت بیدار ہو گئی۔ اس نے اپنی قوم کو بھڑکا کر زیاد کی فوج پر ہلا بول دیا اور اپنی
عورتوں کو چھڑا لیا۔جب اس نے کندہ اور حضرموت میں بغاوت کی آگ بھڑکانی شروع کی تو
صنعا سے مہاجر اور عدن سے عکرمہ زیاد کی مدد کو پہنچ گئے۔ اشعث کو شکست ہوئی تو وہ
بھاگ کر قلعۂ نجیر میں بند ہو گیا۔قلعے کے تین رستوں پر یہ تینوں مسلمان جرنیل بیٹھ
گئے تو قلعہ کی رسدمکمل بند ہو گئی۔بالآخر۶ سو قلعہ بند اپنے پیشانی کے بال کاٹ کر قلعے سے نکلے اور مسلمانوں
سے لڑنے کی کوشش کی، لیکن بھاری اسلامی فوج کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔تب اشعث کو
اپنی جان بچانے کی سوجھی ،اس نے اپنے ۹ اہل خانہ کی جاں بخشی کے بدلے قلعے کے دروازے کھول دیے،اپنا نام
لکھنا وہ بھول گیا ۔مسلمانوں نے اندر داخل ہو کرلڑائی میں حصہ لینے والے ہر شخص کو
قتل کر دیااور ایک ہزار کے لگ بھگ عورتوں کو قیدی بنا لیا۔ مال خمس اور قیدیوں کے
ساتھ اشعث مدینے پہنچا تو ابو بکر نے اس کو قتل کرنا چاہا،اس نے اسلام پر قائم
رہنے کا وعدہ کیا تو اس کی جان بچی اور ابو بکر کی بہن اس کے ساتھ رخصت ہو گئیں۔۱۲ھ (۶۳۳ء) میں ردہ کی تحریک دبا دی گئی،صرف ربیعہ بن بجیرسے جنگ ۱۳ھ میں ہوئی۔ ظہور اسلام سے قبل عرب تجارتی اغراض سے ایران ،عراق اور شام جاتے
رہتے تھے۔ان میں بہت سے نقل مکانی کر کے ان ممالک کے سرحدی اور صحرائی علاقوں میں
بس چکے تھے۔ان میں سے شام میں مقیم ر ومیوں میں گھل مل گئے، جبکہ عراق کی سرحدوں
پر بسنے والے الگ تھلگ رہے ۔ ایران میں خانہ جنگی اور طوائف الملوکی شروع ہوئی تو
لخمی آگے بڑھے اور انھوں نے دریاے فرات کے کنارے انبار اورحیرہ کے شہر آباد کر کے
مملکت حیرہ کی بنیاد رکھی، اس مملکت میں وہ عرب بھی آباد ہوئے جو بخت نصر قیدی بنا
کر عراق لایا تھا ۔ تیسری صدی کے وسط میں جذیمۃالابرش نے حیرہ سے عین التمر اور
صحراے شام تک کے علاقے پر قبضہ کر کے خود مختار حکومت قائم کر لی۔ شام کی سرحد
پرآباد عرب قبیلے غسان کی سلطنت قائم تھی،چھٹی صدی میں اسے عروج حاصل ہوا۔ کہا جا
سکتا ہے کہ عرب کی حدود جنوب میں خلیج فارس اور خلیج عدن تک اور شمال میں موصل اورآرمینیا
تک پھیلی ہوئی تھیں ۔ عراق و شام ایران و روم کی کشمکش میں پس رہے تھے،کبھی ایرانی
ان پر غالب آ جاتے کبھی رومی ۔ان دونوں بڑی طاقتوں (Super Powers)نے اپنی اپنی سرحدوں پر آباد عرب صحرا
نشینوں کو ڈھال(Buffer Zone)کے طور پر استعمال کیا تاکہ ان کا باہم جنگ و
جدال ختم ہو۔ بعثت نبوی کے وقت بھی ان کی لڑائیاں جاری تھیں۔آپ نے محسوس فرما لیا
تھا کہ عرب قبائل میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب قبائل حلقۂ اسلام میں
آجائیں، اس لیے آپ نے شام کو جانے والی شاہراہ پر لشکر کشی کی۔اسی نکتے پر ابو بکر
نے عمل کیااور وہ اسامہ کا لشکر بھیجنے پر مصر رہے۔خلافت ابو بکر کا پہلا سال مرتدین
سے نمٹنے میں گزرا جب وہ اس میں کامیاب ہوئے توان بڑی طاقتوں (Super Powers)کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی پہلی توجہ
روم پر تھی، (Muhammad Anser)(03336700515) کیونکہ روم پر حملے کاآغاز خود نبی صلی ﷲ علیہ وسلم غزوۂ تبوک میں
شرکت کر کے فرما چکے تھے پھر ایران کی مسافت کچھ زیادہ تھی اور ایران سے ملحقہ
قبائل میں ارتداد کا فتنہ ابھی ابھی فرو ہوا تھا۔ وہ اسی سوچ میں تھے کہ بکر بن
وائل کے مثنیٰ بن حارثہ شیبانی جو علا بن حضرمی کے ساتھ مل کر مرتدین سے جنگ کر
چکے تھے ،چند افراد کے ساتھ عراق پہنچے اوروہاں آباد عربوں کو ایران کی غلامی چھوڑ
کر اسلامی حکومت کی حمایت کرنے پر آمادہ کیا ۔پھر وہ مدینہ آئے اور ابوبکر کو اطمینان
دلایاکہ شام کے بجائے عراق کو فتح کرنا سہل تر ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی
حکام وہاں کے کسانوں کی ساری فصل لو ٹ کر لے جاتے ہیں، اس لیے وہ ان کے خلاف نفرت
سے بھرے ہوئے ہیں۔ابو بکر فوج کشی پرتیار ہوگئے، لیکن انھوں نے مدینہ کے اہل رائے
سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا۔ شوریٰ کے فیصلے کے مطابق خالد بن ولید کویمامہ سے بلایا
گیا اور اس بارے میں ان کی رائے طلب کی گئی ۔انھوں نے تر ت مشورہ دیا کہ اگر مثنیٰ
کے پلان کے مطابق فوراً ایران میں پیش قدمی نہ کی گئی تو الٹا ایرانی بحرین اور
ملحقہ علاقوں پر تسلط جمانے کی کوشش کر کے اسلامی خلافت کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔چنانچہ
ابو بکر نے مثنیٰ کو عرب قبائل سے رابطے کرنے کے لیے واپس بھیجنے اور مدینہ سے جلد
اسلامی لشکر بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔کچھ دوسری روایات کے مطابق مثنیٰ مدینہ آئے نہ
عراق پریورش کی پیش بندی ہوئی، بلکہ مثنیٰ اکیلے ہی لشکر لے کرعراق میں گھس گئے اور جب ہرمز کی فوجوں سے
ان کا سامنا ہوا تو ابو بکر نے خالد بن ولیداورعیا ض بن غنم کو ان کی مدد کے لیے
بھیجا۔انھوں نے غریب کاشت کاروں سے اچھا سلوک کرنے کی بطور خاص ہدایت کی ۔ خالد کے
ساتھ صرف ۲ ہزار سپاہی تھے ،ان کے بیش تر ساتھی یمامہ کی
جنگ میں کام آ چکے تھے ۔انھوں نے دار الخلافہ سے کمک مانگی تو ابو بکر نے فرد واحد
قعقاع بن عمرو تمیمی کو بھیج دیا اور کہا: ’’جس لشکر میں قعقاع شامل ہو، وہ شکست
نہیں کھا سکتا ۔‘‘ انھوں نے ان مقامی افراد کو بھرتی کرنے کا حکم بھی بھیجا جو
مرتد نہیں ہوئے اور مرتدین کے خلاف جنگوں میں شریک رہے۔ خالد نے مضر اور ربیعہ کے قبیلوں سے۸ ہزار مسلمان اپنے لشکر میں شامل کیے اور عراق روانہ ہوئے، مثنیٰ کے
ساتھ ۲ ہزار افراد پہلے سے تھے ۔ خالد نے ہرمز پر
حملہ کرنے سے پہلے وہاں کی حکومت ایران کے مقرر کردہ حاکم ہرمز کو خط لکھا:
’’اسلام قبول کرلو یا ذمی بن کر اسلامی سلطنت میں شامل ہو جاؤ۔ ‘‘پھر انھو ں نے
لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا اورہر حصے کوا لگ راستے سے حفیر پہنچنے کی ہدایت کی۔ادھر
ہرمز تیزی سے اپنی فوج لے کر حفیر پہنچااور پانی پر ڈیرے ڈال دیے ۔ فوجیں آمنے
سامنے آئیں تو ہرمز نے خالد کو دوبدو مقابلے کے لیے للکارا،جب وہ آگے پہنچے تو ایک
دستے نے ان پر حملہ کردیا، لیکن قعقاع نے بر وقت کارروائی کر کے خالد کوبچا لیا ۔
اسی دور ان میں خالد ہر مز کی گردن اڑا چکے تھے ،سپہ سالار کی موت سے ایرانیوں کی
ہمت جواب دے گئی اور وہ جم کر مقابلہ نہ کر سکے ۔کثیر مال غنیمت کا پانچواں حصہ
،ہرمز کی ایک لاکھ درہم مالیت کی ٹوپی اورایک ہاتھی خلیفۂ اول کی خدمت میں مدینہ
بھیجے گئے۔ اس جنگ کاظمہ میں ایک ایرانی شہزادی کا قلعہ بھی فتح ہوا۔ #مطالعۂ مزید: الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)،الصدیق ابو بکر (محمد حسین
ہیکل) ،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (پنجاب یونیورسٹی) جاری ہے...x
حضرت ابو بکر عام الفیل کے اڑھائی برس بعد ۵۷۲ء میں پیدا ہوئے۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے اڑھائی سال چھوٹے تھے۔ ان
کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو تیم بن مرہ سے تھا۔ ابو بکر کا شجرۂ نسب اس طرح ہے: عبد
ﷲ بن عثمان بن عامر بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ۔ مرہ ہی پر ان کا شجرہ نبی
صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرے سے جاملتا ہے۔ کلاب بن مرہ آپ کے جبکہ تیم بن مرہ ابو
بکر کے جد تھے۔ عبدﷲ اپنی کنیت ابو بکر اور ان کے والد عثمان اپنے نام کے بجائے
اپنی کنیت ابو قحافہ سے مشہور ہیں۔
’’تم ﷲ کی طرف سے دوزخ سے آزاد (عتیق ﷲ) ہو۔‘‘ (ترمذی، رقم ۳۶۷۹) ہمیشہ سچ بولنے اورواقعۂ معراج کی فی الفور تصدیق
کرنے کی وجہ سے صدیق کا لقب ملا۔ ان کی رافت و شفقت کی وجہ سے ان کو اواہ بھی کہا
جاتا۔
آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہونے کی درج ذیل وجوہات بیان کی جاتی
ہیں:
عربی زبان میں ’’البکر‘‘ جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ جس کے پاس اونٹوں کی
کثرت ہوتی یا جو اونٹوں کی دیکھ بھال اور دیگر معاملات میں بہت ماہر ہوتا عرب لوگ
اسے ’’ابوبکر‘‘ کہتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ بھی بہت بڑا اور مالدار تھا نیز
اونٹوں کے تمام معاملات میں بھی آپ مہارت رکھتے تھے اس لئے آپ بھی ’’ابوبکر‘‘ کے
نام سے مشہور ہوگئے۔
سیرت حلبیہ میں ہے کہ کُنِيَ بِاَبِی بَکْرٍ لِاِبْتِکَارِهِ
الْخِصَالِ الْحَمِيْدَةِ ’’آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر اس لئے ہے کہ آپ شروع
ہی سے خصائل حمیدہ رکھتے تھے‘‘۔
عتیق
(03336700515)
مَنْ اَرَادَ اَنْ يَنْظُرَ الی عَتيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ
اِلیٰ اَبی بَکْر.
’’جو دوزخ سے آزاد شخص کو دیکھنا چاہے، وہ ابوبکر کو دیکھ لے‘‘۔
آپ رضی اللہ عنہ کے لقب ’’صدیق‘‘ کے حوالے سے حضرت سیدہ حبشیہ رضی
اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنا:
يَا اَبَابَکْرٍ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ سَمَّاکَ الصِّدِّيْق
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب
حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی
گئی تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری صبح لوگوں کے سامنے اس مکمل واقعہ کو
بیان فرمایا، مشرکین دوڑتے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے
اور کہنے لگے:
هَلْ لَکَ اِلٰی صَاحِبِکَ يَزْعُمُ اَسْرٰی بِهِ اللَّيْلَةَ اِلَی
بَيْتِ الْمَقْدَس؟
لَئِنْ کَانَ قَالَ ذٰلِکَ لَقَدْ صَدَق.
’’اگر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقینا سچ
فرمایا ہے اور میں ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتا ہوں‘‘۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
نَعَمْ! اِنِّیْ لَاُصَدِّقُهُ فِيْمَا هُوَ اَبْعَدُ مِنْ ذٰلِکَ
اُصَدِّقُهُ بِخَبْرِ السَّمَاءِ فِیْ غَدْوَةٍ اَوْ رَوْحَة.
’’جی ہاں! میں تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی
صبح و شام تصدیق کرتا ہوں اور یقینا وہ تو اس بات سے بھی زیادہ حیران کن اور تعجب
والی بات ہے‘‘۔
پس اس واقعہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ صدیق مشہور ہوگئے۔
🌌🌺والدین کریمین🌺🌌
آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام سلمی بنت صخر بن عامر بن کعب
بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔ کنیت ’’ام الخیر‘‘ ہے۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کے والد کے چچا کی بیٹی ہیں۔ ابتدائے اسلام میں ہی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
ہاتھ پر بیعت کرکے مشرف بہ اسلام ہوگئیں تھیں۔ مدینہ منورہ میں جمادی الثانی 13ہجری
میں وفات پائی۔/
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح قریش کے مشہور شخص
عبدالعزی کی بیٹی ام قتیلہ سے ہوا۔ اس سے آپ رضی اللہ عنہ کے ایک بڑے بیٹے حضرت سیدنا
عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی حضرت سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل
ہے جو اس گھرانے کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت ابو بکر
صدیق رضی اللہ عنہ خود بھی صحابی، ان کے والد حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ بھی
صحابی، آپ کے تینوں بیٹے (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ
اور حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ) بھی صحابی، آپ رضی اللہ عنہ کے پوتے بھی
صحابی، آپکی بیٹیاں (حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت سیدہ اسمائ رضی اللہ
عنہا اور حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت ابی بکر) بھی صحابیات اور آپ کے
نواسے بھی صحابی ہوئے۔
ابوقحافہ عثمان بن عمر رضی اللہ عنہ
جاری ہے.............
قـســــــط نمــــــــبر 2
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی لاڈلی شہزادی حضرت سیدہ
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 8 بعثت نبوی، شوال المکرم میں اپنے محبوب آق صلیٰ
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے (یعنی حضرت اسماء بنت
ابی بکر کے بیٹے) حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے بھتیجے بھی ہیں، کیونکہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی اور
حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی دادی (یعنی حضرت سیدنا زبیر بن عوام کی
والدہ) حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی
حضرت سیدہ ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے۔ جبکہ آپ رضی
اللہ عنہم کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین
العابدین بن حسین بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم ہے۔ یوں آپ رضی اللہ عنہ والدہ کی
طرف سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور والد کی طرف سے حضرت سیدنا علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جاملتے ہیں۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پوتی حضرت سیدہ حفصہ بنت
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہا، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔
یوں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اس حوالے سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کے داماد محترم ہوئے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ
اچھی خصلتیں تین سوساٹھ ہیں اور اللہ جب کسی سے بھلائی کا ارادہ
فرماتا ہے تو اس کی ذات میں ایک خصلت پیدا فرمادیتا ہے اور اسی کے سبب اسے جنت میں
بھی داخل فرمادیتا ہے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول
اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا میرے اندر بھی ان میں سے کوئی خصلت موجود ہے؟
ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! تمہارے اندر تو یہ ساری خصلتیں موجود ہیں۔
حضرت سیدنا یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی طرف چند لشکر بھیجے۔ ان میں حضرت سیدنا یزید
بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا لشکر بھی تھا۔ انہیں ملک شام کے چوتھائی حصے کا امیر
مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی روانگی کے وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں
چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھے۔ حضرت سیدنا
یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
’’اے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ! یا تو آپ رضی اللہ
عنہ سوار ہوجائیں یا میں اپنے گھوڑے سے اتر جاتا ہوں‘‘۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد
فرمایا:
مَااَنْتَ بِنَازِلٍ وَلَا اَنَا بِرَاکِبٍ اِنِّی اَحْتَسِبُ خُطَيَ
هَذِهِ فِی سَبِيلِ اللّٰهِ.
’’نہ تو تم اپنے گھوڑے سے اترو گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا بلکہ میں
تو اپنے ان قدموں کو راہ خدا میں شمار کرتا ہوں۔‘‘
(موطا امام مالک، کتاب الجهاد، الرقم: 1004)
حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رات کے وقت مدینہ منورہ کے
کسی محلے میں رہنے والی ایک نابینا بوڑھی عورت کے گھریلو کام کاج کردیا کرتے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ اس کے لئے پانی بھر لاتے اور اس کے تمام کام سرانجام دیتے۔ حسب
معمول ایک مرتبہ بڑھیا کے گھر آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سارے کام ان سے
پہلے ہی کوئی کرگیا تھا۔ بہر حال دوسرے دن تھوڑا جلدی آئے تو بھی وہی صورت حال تھی
کہ سب کام پہلے ہی ہوچکے تھے۔
🌌🌸اہل بیت پر شفقت🌸🌌
حضرت سیدنا عبدالرحمن اصبہائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا
حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب چھوٹے سے تھے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ اس وقت آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر رونق
افروز تھے۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے چونکہ ہمیشہ منبر پر اپنے نانا جان صلیٰ
اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو بیٹھے دیکھا تھا اس لئے ایک نئے شخص کو دیکھ کر اپنی
ننھی سوچ کے مطابق کہنے لگے: آپ میرے بابا جان کی جگہ سے نیچے اترو۔ حضرت سیدنا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ گوارا نہ فرمایا کہ شہزادہ اہل بیت کی دل شکنی ہو،
لہذا آپ رضی اللہ عنہ فوراً نیچے تشریف لے آئے اور فرمایا: اے حسن رضی اللہ عنہ!
تو نے سچ کہا یہ تیرے بابا جان ہی کی جگہ ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا
حسن رضی اللہ عنہ کو فرط محبت سے اٹھاکر اپنی گود میں بٹھالیا۔ اس موقع پر انہیں
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیتے ہوئے وہ انمول ایام یاد آگئے، ضبط کا
بندھن ٹوٹ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ زاروقطار رو پڑے۔
(03336700515)
’’آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی
اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول ( صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور
پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن
کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ
خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے
نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہوگیا ہے
اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں، یہی ﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بے شک ﷲ
(والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے۔‘‘
(تفسير روح المعانی، تفسير سورة المجادله)
غزوہ بدر میں آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی
اللہ عنہ اسلام قبول کرنے سے پہلے مشرکین کے ساتھ اسلام کے خلاف جنگیں لڑتے تھے۔
جب وہ اسلام لے آئے تو ایک روز حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے:
ابا جان! میدان بدر میں ایک موقع پر آپ میری تلوار کی زد میں آئے لیکن میں نے آپ
کو باپ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ یہ سن کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غیرت ایمانی
سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
لٰکِنَّکَ لَو اَهْدَفْتَ لِیْ لَمْ اَنْصَرِفْ عَنْکَ.
’’لیکن اگر تو میرا ہدف بنتا تو میں تجھ سے اعراض نہ کرتا‘‘۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہر معاملہ آقا صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی محبت کی خاطر ہوتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ اس معاملے میں اپنے والدین
اور اولاد وغیرہ کا بھی لحاظ نہ فرماتے تھے۔ ایک دفعہ آپ رضی اللہ عنہ حضور نبی
اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی
بیٹی حضر ت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بلند آواز سنائی دی۔ آپ رضی اللہ
عنہ یہ کہتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ
اٹھاکر آگے بڑھے:
کَيْفَ رَاَيْتِنِی اَنْقَذْتُکِ مِنَ الرَّجُلِ.
’’دیکھا! میں نے تمہیں ان سے کس طرح بچایا‘‘۔
اَدْخِلَانِی فِی سِلْمِکُمَا کَمَا اَدْخَلْتُمَانِی فِی
حَرْبِکُمَا.
’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! جس طرح آپ نے مجھے اپنی
ناراضگی میں شریک کیا تھا، اسی طرح مجھے اپنی صلح (خوشی) میں بھی شریک فرمالیجئے۔‘‘
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا
🌺بطورِ امیرالمومنین ذریعہ معاش🌺
امام عالی مقام سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت ام المومنین حضرت سیدہ
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: دیکھو! یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں
اور یہ بڑا پیالہ جس میں کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں یہ سب
بیت المال سے لیا گیا ہے۔ ہم ان سے اسی وقت تک نفع اٹھاسکتے ہیں جب تک میں
مسلمانوں کے امور خلافت انجام دیتا رہوں گا۔ جس وقت میں وفات پاجائوں تو یہ تمام
سامان حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دے دینا۔ چنانچہ جب آپ رضی اللہ عنہ
کا انتقال ہوگیا تو ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ تمام چیزیں
حسب وصیت واپس کردیں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چیزیں واپس پاکر فرمایا:
’’اے ابوبکر! اللہ آپ پر رحم فرمائے کہ آپ نے تو اپنے بعد میں آنے
والوں کو تھکادیا ہے‘‘۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ اور بارگاہِ رسالت مآب
صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل تھی۔ قرآن مجید کی تقریباً
32 آیات آپ کے متعلق ہیں جن سے آپ کی شان کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں
نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ
تعالیٰ روز قیامت انہیں عطا فرمائے گا۔
🌹سیدنا ابو بکر کے والد:
ابو قحافہ عثمان بن عمرو شرفائے مکہ میں سے تھے اور نہایت معمر تھے
ابتداء جیسا کہ بوڑھوں کا قاعدہ ہے وہ اسلام کی تحریک کو بازیچہء اطفال سمجھتے تھے
چنانچہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب امام کائنات صلی اللہ علیہ
وسلم نے ہجرت فرمائی تو میں امام کائنات کی تلاش میں ابو بکر کے گھر آیا اور وہاں
ابوقحافہ موجود تھے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک طرف سے گزرتے ہوئے دیکھ
کر نہایت برہمی سے کہا کہ ان بچوں نےمیرے لڑکے کو بھی خراب کر دیا ہے۔
ابو قحافہ فتح مکہ تک اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے فتح مکہ کے بعد
جب رسول اللہ مسجد میں تشریف فرماتھے اور وہ اپنے فرزند سعید سیدنا ابو بکر کے
ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور امام کائنات نے ان کی ضعف پیری کو دیکھ کر
فرمایا کہ انہیں کیوں تکلیف دی ہے میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا اس کے بعد امام
کائنات نے نہایت شفقت سے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کلمات طیبات تلقین کر کے
مشرف بہ اسلام فرمایا سیدنا ابو قحافہ نے بڑی عمر پائی۔ امام کائنات کے بعد اپنے
فرزند ارجمند سیدنا ابو بکر کے بعد بھی کچھ دنوں تک زندہ رہے آخر عمر میں بہت ضعیف
ہوگئے تھے اور آنکھوں کی بصارت چلی گئی تھی۔ 14ھ میں 97 برس کی عمر میں وفات پائی۔
🔲🌻ابتدائی زندگی🌻🔲
جب تم صداقت شعار ہستی کے دکھ درد کو یا د کرنے لگو تو اپنے بھائی
ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارناموں کو یاد کرلینا۔
(Muhammad Anser)
مکہ میں ابتداً جن لوگوں نے داعی توحید کو لبیک کہا ان میں کثیر
تعداد غلاموں اور لونڈیوں کی تھی جو اپنے مشرک آقاؤں کے پنجہء ظلم و ستم میں
گرفتار ہونے بندگانِ توحید کو ان کے جفاکار مالکوں سے خرید کر آزاد کردیا۔
اس تشفی آمیز فقرہ سے سیدنا ابو بکر صدیق کو اطمینان ہو گیا اور ان
مضطرب دل امداد غیبی کے تیقن پر لازوال جرأت و استقلال سے مملو ہوگیا خدا کی قدرت
کہ کفارجو تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچے تھے ان کو مطلق محسوس نہ ہوا کہ ان کا
گوہر مقصود اسی کان میں پنہاں ہے اور وہ ناکام واپس چلے گئے۔ فرمایا امام کائنات
نے (من کان للہ کان اللہ لہ۔۔۔) اسی طرح یہ مختصر قافلہ دشمنوں کی گھاٹیوں سے بچتا
ہوا بارہویں ربیع الاول سنہ نبوت کے چودہویں سال مدینہ کے قریب پہنچا اور انصار کو
امام کائنات کی روانگی کا حال معلوم ہو چکاتھا وہ نہایت بے چینی سے آپ کا انتظار
کر رہے تھے امام کائنات شہر کے قریب پہنچے تو انصار مدینہ استقبال کے لیے نکلے اور
ہادی برحق کو حلقہ میں لے کر شہر قبا کی طرف بڑھے امام کائنات نے اس قافلے کو داہنی
طرف مڑنے کا حکم دیا اور بنی عمرو بن عوف میں قیام پذیر ہوئے اور یہاں انصار جوق
در جوق زیارت کےلیے آنے لگے اور رحمت کائنات خاموشی کے ساتھ تشریف فرماتھے اور سیدنا
ابوبکر کھڑے ہو کر لوگوں کا استقبال کر رہے تھے بہت سے انصار جوپہلے رحمت کائنات کی
زیارت سے مشرف نہیں ہوئے تھے وہ غلطی سے سیدنا ابو بکر کے گرد جمع ہونے لگے یہاں
تک کہ جب آفتاب نبوت سامنے آنے لگا اور جانثار خادم نے بڑھ کر اپنی چادر سے
آقائے نامدار پر سایہ کیا تو اس وقت خادم اور مخدوم میں امتیاز ہو گیا اور لوگوں
نے رسالت مآب کو پہنچانا۔
ایک المناک سانحہ پر سیدنا صدیق کی ثابت قدمی:
جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدنا
ابوبکر صدیق مدینہ کی مشرقی جانب سُخ نام گاؤں میں مقیم تھے یہ جگہ اب مدینہ کے
ائیرپورٹ کے قرب وجوار میں بنتی ہے جیسے ہی ان کو اس عظیم سانحے کی اطلاع ملی تو
فوراً گھوڑے پر سوار ہوکر سُخ سے مدینہ منورہ تشریف لائے اور گھوڑے سے اترتے ہی
مسجد بنوی میں داخل ہوئے لوگوں سے گفتگو نہیں کی سیدھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا
کے حجرے میں پہنچے جہاں رسول اللہ کا جسد اطہر یمنی کپڑے سے ڈھکا ہواتھا سیدنا
ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور جھک کر آپ کے
سر مبارک کا بوسہ لیا اور فرط غم سے رونے لگے پھر فرمایا:
بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ لاَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ
مَوْتَتَيْنِ أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا
اللہ کے نبی! میرا باپ آپ پر قربان ہو! اللہ آپ کو دو مرتبہ موت نہیں
دے گا جوموت آپ کےلیے لکھی تھی وہ آچکی ہے۔
جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ
وہ فوت ہوگئے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ
تعالیٰ زندہ ہے۔
🌌🌺پہلا خطبہ خلافت:🌌
جبکہ آج ہمارے حکمرانوں کی تیاریاں عروج پر ہیں غریب عوام کا خون
چوسنے کےلیے ہر طرح کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور کروڑوں روپے کا سرمایہ رائیگاں کیا
جارہاہے حالانکہ یہ منصب حکومت امام کائنات اور صحابہ کرام کا تشکیل دیا ہوا ہے
آج اس منصب پر مسلط ہونے کے لیے ہر دنیا دار آدمی تیار ہے جو کہ دین اسلام سے
کورے نظر آتے ہیں جیسے کہ امیدواران الیکشن سے کچھ سوالات پوچھے جا رہے تھے اور
سوالات بھی ایسے کہ جن کے جوابات ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھنے والا بچہ بھی
بآسانی دے سکتا ہے کسی سے فجر کی نماز کی رکعتیں پوچھی جا رہی ہیں اور کسی سے
قرآن پاک کے پاروں کے متعلق پوچھا جا رہا ہے جوکہ انسانیت کےلیے اللہ نے ضابطہ حیات
اتارا ہے تو ان کے سوالوں کے جواب بھی نہیں آرہے تھے یہاں تک کہ ایک نام نہاد
مسلم بول پڑا کہ قرآنی سوالات کیوں کیے جا رہے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث
سے دوری نے انہیں جلاد بنادیا ہے کہ غریبوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھوک پیاس سے ان کے
سامنے تڑپتے رہیں اور انکے رونگٹے بھی کھڑے نہ ہوں اور انکی سیاست بھی ایک جھوٹ کا
حال ہے آج اپنے مفاد کی سیاست کی جاتی ہے اور عوام کو جھوٹ پے جھوٹ تحفۃ پیش کیا
جاتاہے۔ (الامان والحفیظ) اور ایک وہ بھی تو سیاسی لیڈر تھے۔
🌹جیسے حکمران ویسی رعایا:
ایک بدوی خاتون نے سیدنا صدیق سے پوچھا اے خلیفہ رسول جاہلیت کے بعد
اللہ نے ہمیں اسلام کیوجہ سے جو نعمت عطا کی ہے ہم اس پر کب تک قائم رہیں گے صدیق
نے فرمایا:
بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ
أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُؤُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ
فَيُطِيعُونَهُمْ
فَهُمْ أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ
(Muhammad Anser)
🌹اجتہاد اور صدیق:
سیدنا صدیق کے سامنے کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا جس کی اصل کتاب اللہ
اور سنت رسول اللہ سے نہ ملتی تو وہ اس میں اجتہاد کرتے اور کہا کرتے تھے:
أَقُولُ فِيهَا بِرَأْي فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ،
وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمَنَ الشَّيْطَانِ
میں اپنی رائے سے کہتا ہوں اگر یہ صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور
اگر غلط ہے تو یہ میری غلطی ہے اور شیطان کی طرف سے ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى جَعَلَ فِينَا مَنْ يَحْفَظُ عَنْ
نَبِيِّنَاصلى الله عليه وسلم
اللہ کا شکر ہے ہم میں ایسے لوگ موجو دہیں جنہوں نے رسول کی سنت کو
محفوظ کر رکھا ہے۔
🌹صدیق بطور خطیب:
سیدنا ابو بکر نے لشکر اسامہ کے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے
لوگو! ٹہرو میں تمہیں کچھ ہدایات دینا چاہتا ہوں۔ انہیں اچھی طرح یاد کرلو، نہ خیانت
کرنا، نہ مال غنیمت چرانا، نہ بد عہدی کرنا، نہ لاشوں کی بے حرمتی کرنا، نہ پھل
دار درخت کاٹنا، نہ بلاضرورت بکری گائے اور اونٹ ذبح کرنا۔(اب ذرا سوچئے جتنے
کاموں سے سیدنا صدیق نےمنع کیا ہے ان میں سے وہ کونسا ایسا کام ہے جو ہم اورہمارے
حکمران نہیں کرتے؟ پھر فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ وہ ان سب امور کی پابندی کر کے فتح
عزت وعظمت و کامیابی ان کا ثمرہ بنتی تھی اور ہم ان سب کاموں میں مخالفت کرتے ہیں
تو ذلت و رسوائی آج ہمارا مقدر بن چکی ہے) عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس سے گزروگے
جو گرجا گھروں میں عبادت میں مصروف ہوں گے۔ان سے تعرض نہ کرنا، تم ایسے لوگوں کے
پاس جا رہے ہوجو تمہارے لیے رنگ برنگے کھانے لائیں گے تم ہر کھانے سے پہلے بسم
اللہ پڑھنا تمہارا ایسے لوگوں سے مقابلہ ہوگا جنہوں نے اپنے سر درمیان سے مونڈ رکھے
ہونگے اور بقیہ بالوں کو پٹیوں کی مانند چھوڑ دیا ہوگا ایسے لوگوں کو تہ تیغ کر دینا،
اب اللہ کا نام لیکر روانہ ہو جاؤ۔پھر سیدنا ابوبکر نے سیدنا اسامہ کو نصیحت کرتے
ہوئے فرمایا:
اصنع ما أمرك به نبي الله صلى الله عليه و سلم ابدأ ببلاد قضاعة ثم
إيت آبل ولا تقصرن في شيء من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا تعجلن لما
خلفت عن عهده
🌹سیدنا صدیق کی اولو العزمی:"🌹
🌹سیدنا صدیق کا وقت رحلت:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر کی بیماری کی
ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے سخت سردی والے دن غسل کیا تو انہیں بخار ہوگیا جو
پندرہ دن تک جاری رہا بیماری کی شدت کے باعث آپ ان دنوں مسجد نہ جا سکتے تھے اس لیے
سیدنا عمر کو نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے۔ صحابہ کرام آپ کی تیمارداری کرنے آتے
تھے سب سے زیادہ خبر گیری سیدنا عثمان کرتے تھے۔
جب انکی بیماری شدید ہوگئی تو ان سے عرض کیا گیا ہم آپ کے لیے طبیب
بلائیں؟ تو فرمایا:
قَدْ رَآنِي فَقَالَ: إِنِّي فَعَّالٌ لِمَا أُرِيدُ
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین
بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
جاری ہے.....
قـســــــط نمــــــــبر 5
غار ثور مکہ معظمہ کی دائیں جانب تین میل کے فاصلے پر ثور پہاڑ میں واقع ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی تو تین دن تک یہاں قیام کیا۔ قرآن میں
ہجرت کا بیان کرتے ہوئے جس غار کا ذکر کیا
گیا ہے وہ یہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جناب حضرت ابوبکر صدیق بھی
تھے۔ اسی لیے انہیں یار غار کہتے ہیں۔ اس غار کا دہانہ اتنا تنگ ہے کہ لیٹ کر
بمشکل انسان اس میں داخل ہو سکتا ہے"
🔲🌻غار🌻🔲
انبیا کرام کے سوائے سورج کبھی ابوبکر سے بہتر آدمی پر طلوع نہیں
ہوا۔
آپ کو یہ اعزاز بھی تنہا حاصل ہے کہ آپ کی مسلسل چار نسلوں کو شرف
صحابیت حاصل ہوا۔ آپ کے والد گرامی حضرت ابی قحافہ آپ خود، آپ کے صاحبزادے عبد
الرحمن اور پوتے ابو عتیق محمد بھی شرف صحابیت سے مشرف ہوئے۔ رسالت مآب صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے ساری زندگی آپ پر کسی دوسرے کو فضیلت نہیں دی۔
حضرت معصب بن عمیر فرماتے ہیں "اس امرپر تمام امت کا اتفاق ہے
کہ حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے کیونکہ آپ نے بے خوف و نڈر ہوکر رسالت مآب صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کی اور اس میں کسی قسم کی کوئی جھجک سرزد نہیں ہوئی۔
جملہ صفات کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی وفا شعاری اور حضور علیہ
الصلوۃ والسلام کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آپ کو وہ مقام و مرتبہ عطا کیا جس پر ساکنانِ عرش بھی رشک
کرتے ہیں۔
اس میں ’’اذ یقول لصاحبہ‘‘ جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق) سے فرما
رہے تھے کے الفاظ قرآن مجید میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا بیانِ
فضیلت ہے اور یہ لقب کائناتِ صحابہ میں کسی اور کو عطا نہیں کیا گیا۔
💞یار غار ہونے کا شرف💞
’’بخدا مجھے اس دن سے قبل معلوم نہ تھا کہ کوئی خوشی سے بھی آنسو بہاتا
ہے میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس روز روتے دیکھا۔‘‘
(بخاری، الصحيح، کتاب : فضائل أصحاب النبي صلی الله عليه وآله وسلم،
باب : من فضائل أبی بکر الصديق، 3/1339، الرقم : 3462)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ سے جو محبت تھی وہ صرف اس وجہ سے نہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب
کچھ نچھاور کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے بلکہ یہ محبت اس وجہ سے بھی تھی کہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی ذاتی خصوصیات، اپنے اعلی اوصاف اپنے کردار اور
باکمال صلاحیتوں کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں بہت
اونچا مقام رکھتے تھے۔
(ترمذی، السنن، کتاب المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ،
باب مناقب ابی بکر صديق رضی الله عنه 5 : 606، رقم : 3656)
’’امام زہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم نے ابوبکر (صدیق
رضی اللہ عنہ) کے بارے میں بھی کچھ کلام کہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں (یا رسول
ﷲ!)۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ کلام پڑھو تاکہ میں بھی
سنوں۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ یوں گویا ہوئے : وہ غار میں دو میں سے دوسرے تھے۔ جب
وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر پہاڑ (جبل ثور) پر چڑھے تو دشمن نے اُن
کے ارد گرد چکر لگائے اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم ہے کہ وہ (یعنی حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ) رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب ہیں اور آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شخص کو اُن کے برابر شمار نہیں کرتے ہیں(یہ سن کر) رسول ﷲ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ
مبارک ظاہر ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حسان تم نے سچ
کہا، وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) بالکل ایسے ہی ہیں جیسے تم نے کہا ہے۔‘‘
(حاکم، المستدرک، 3 : 67، رقم : 4413)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کو اپنا ساتھی، دوست، نائب اور وزیر قرار دینا
(بخاری، الصحيح، کتاب : المناقب، باب : قول النبی : لو کنت متخذا
خليلا، 3/1338، رقم : 3456)
(بخاری، الصحيح، کتاب : الأذان، باب : أَهْلُ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ
أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ، 1 : 240، رقم : 648)
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ
(ترمذی، السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم،
باب : فی مناقب ابی بکر وعمر رضی اﷲ عنهما کليهما، 5 : 614، رقم : 3673)
روزِ آخرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ:
’’اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم عتیق یعنی ﷲ تعالیٰ کی طرف سے
آگ سے آزاد ہو۔ پس اُس دن سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ’’عتیق‘‘ رکھ دیا گیا۔‘‘
(ترمذی، السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم،
باب : فی مناقب ابی بکر وعمر رضی اﷲ عنهما کليهما، 5 : 616، رقم : 3679)
(Muhammad Anser)
(ابو داؤد، السنن، کتاب السنة، باب الخلفاء، 4 : 213، رقم : 4652)
المختصر یہ کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جو مقام و مرتبہ اللہ
اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں نصیب ہوا۔ اس کی وجہ آپ رضی
اللہ عنہ کا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ اقدس کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت
اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں انتہا درجے کی ایسی تعظیم و تکریم ہے
جس کا رنگ آپکے جملہ اعمال اور ارادوں پر چڑھا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ کے اخلاص اور
وفا شعاری نے قیامت تک آنے والے ہر اس کارکن کو سلیقہ محبت اور قرینہ ادب سکھا دیا
جو مشن مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ کے لئے کوشاں ہے اور روزِ قیامت
آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی سنگت و معیت کا خواہاں ہے۔
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے,دلِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سوزِ صدیق رضی
اللہ عنہ دے
جاری ہے...
قـســــــط نمــــــــبر 7
(03336700515)
اس سوال کو سن کر تمام خاندان والے غصے سے اپنے اپنے گھروں کو چل دیے
کہ جس کی وجہ سے یہ حال ہوا، اب بھی اسی کا ذکر کر رہا ہے۔
اسی موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے آپ
رضی اللہ عنہ کی والدہ نے اسلام قبول کرلیا۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا "اگر تم میرے سامنے
آتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن سمجھ کر قتل کردیتا۔"
جاری ہے...
قـســــــط نمــــــــبر 8
ایک مرتبہ حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اُمت میں سب سے
افضل ہیں۔
(تایخ الخلفاء)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول
کیا۔ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے ایمان کو چھپاتے تھے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی
اللہ عنہ اپنے ایمان کو علی الاعلان ظاہر فرماتے تھے۔
حضرت ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ قیامت کے دن تین کُرسیاں خالص سونے کی بنا کر رکھی جائیں
گی اور ان کی شعاعوں سے لوگوں کی نگاہیں چندھیا جائیں گی۔ ایک کرسی پر حضرت ابراہیم
علیہ السلام جلوہ فرما ہوں گے دوسری میں بیٹھوں گا اور ایک خالی رہے گی۔ حضرت ابو
بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لایا جائے گا اور اس پر بٹھائیں گے۔ ایک اعلان کرنے والا
یہ اعلان کرے گا کہ “آج صدیق اللہ کے حبیب اور خلیل کے ساتھ بیٹھا ہے۔“
(شرف النبی امام ابو سعید نیشاپوری صفحہ 279)
#سبحان_اللہ ! روزِ محشر بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت
اور شان و شوکت کے پھریرے لہرا رہے ہوں گے۔ لوگ ان کے مقام و مرتبے کو دیکھ کر رشک
کر رہے ہوں۔ حورانِ جنت ان کی عظمت کے ترانے گا رہی ہوں گی۔
ترمذی شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ جس کسی نے بھی میرے ساتھ احسان کیا تھا میں نے ہر ایک کا احسان اتار دیا علاوہ
ابوبکر کے۔ انہوں نے میرے ساتھ ایسا احسان کیا ہے جس کا بدلہ قیامت کے دن ان کو
اللہ تعالٰی ہی عطا فرمائے گا۔ (ترمذی شریف)
#مسلمانو ! حضرت ابو صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام تمام صحابہ میں سب سے
افضل ہے کوئی صحابی ان سے بڑھ کر فضیلت والا نہیں۔ یوں تو آپ کے فضائل بے شمار ہیں
جن کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں مگر چار خوبیاں آپ میں ایسی ہیں جو کسی بھی
صحابی میں نہیں۔ حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق
رضی اللہ عنہ کو چار ایسی خوبیوں سے سرفراز فرمایا جن سے کسی کو سرفراز نہیں کیا۔
اول آپ کا نام صدیق رکھا اور کسی دوسرے کا نام صدیق نہیں۔ دوئم آپ حضور اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غارِ ثور میں رہے۔ سوئم آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
ہجرت میں رفیقِ سفر رہے۔ چہارم حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے
آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کرام کو نماز پڑھائیں تاکہ دوسرے لوگوں کے آپ امام اور
وہ آپ کے متقدی بنیں
آپ نے ہر معاملہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے میں پہل
کی ، اس لئے آپ کا لقب صدیق رکھا گیا۔
سنن دیلمی میں ، ام ہانی رضی
اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " يا
أبابكر، إن الله سماك الصديق ".
#ترجمہ:ائے ابو بکر اللہ تعالی نے تمہارا نام" صدیق "رکھا
ہے-
🌹واقعہ معراج کی تصدیق🌹
مستدرک علی الصحیحین اور تاریخ
الخلفاءمیں روایت ہے: عن عائشة رضي الله عنها قالت جاء المشركون إلى أبي بكر
فقالوا هل لك إلى صاحبك يزعم أنه أسري به الليلة إلى بيت المقدس قال أو قال ذلك؟
قالوا نعم فقال لقد صدق إني لأصدقه بأبعد من ذلك بخبر السماء غدوة وروحة فلذلك سمي الصديق
تفسیر قرطبی میں حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت
مذکور ہے : حضرت سیدناصدیق اکبر رضی اللہ
عنہ نے اپناسارا مال ومتاع راہ خدا میں خرچ کرنے کے بعد ایک پیوندزدہ عباء پہن کر
حاضربارگا ہ ہوئے جس میں گنڈیوں کی جگہ کانٹے لگے ہوئے تھے ، اسی لمحہ طائر سدرہ
جبریل امین پیغام ِخداوندی لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالی صدیق اکبر کو سلام
فرماتاہے ،آپ اُن سے دریافت کریں کہ وہ اس فقر کی حالت میں اپنے رب سے راضی ہیں کہ
نہیں"
حضور اکرم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے جب حضرت صدیق سے فرمایا تو
آپ بے اختیارروپڑے اور کہنے لگے میں اپنے رب سے ناراض کیسے ہوسکتا ہوں؟ بے شک میں
اپنے رب سے راضی ہوں ،اس کو تین بار دہراتے رہے ۔حضرت جبریل نے عرض کیا :حضور! بیشک
اللہ تعالی فرماتاہے ؛میں اُن سے راضی ہوچکا ہوں جس طرح وہ مجھ سے راضی ہے۔ اور
اللہ کے حکم سے تمام حاملین عرش بھی وہی لباس پہنے ہوئے ہیں جوآپ کے صدیق نے پہنا ۔
﴿ تفسیر قرطبی ،سورة الحدید
، آیت نمبر :10﴾
قریش کے مشہور قبیلہ قارہ کے سردار ابن دغنہ نے آپ کے اوصاف حسنہ کا
بایں الفاظ اعتراف کیا: إنك لتصل الرحم وتصدق الحديث وتكسب المعدوم وتحمل الكل
وتعين على نوائب الدهر وتقري الضيف.
#ترجمہ ؛ اے ابوبکر !بے شک آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے
ہیں ، کمزورں کا بوجہ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں مصیبت زدہ افراد کے کام آتے ہیں۔
عہدجاہلیت میں بھی آپ معزز ومکرم
(تاریخ الخلفاء ص،12)
شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔۔۔
قـســــــط نمــــــــبر 9
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ، سب سے پہلے کس نے اسلام
قبول کیا ؟ آپ نے فرمایا ، کیا تم نے حضرت
حسان کے یہ اشعار نہیں سنے:
إذا تذكرت شجواً من أخي ثقةٍ ... فاذكر أخاك أبا بكرٍ بما فعلا
آخری مصرع میں آپ کی اسلام میں اولیت کی زبردست شہادت ہے او رسرکار
دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسے بیان کرنے اور آپ کے سماعت فرمانے سے
اس کی ثقاہت واہمیت محتاج بیان نہیں۔اس کے علاوہ مزید دو اشعار درج ذیل ہیں:
والثاني اثنين في الغار المنيف وقد ... طاف العدو به إذ صعدوا الجبلا
حافظ ابن عساکر بیان کرتے ہیں ، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
حسان رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا: هل قلت فی ابی بکر شيئا؟
کنزالعمال میں ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قل وانا
اسمع صدیق کی منقبت کہو میں سننا چاہتا
ہوں ،حضرت حسان بن ثابت منقبت سناچکے توحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خوش
ہوگئے ،اورمسکراہٹ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ۔
#ترجمه :اللہ تعالی نے مجھے تم سب کی طرف مبعوث فرمایا تو سب نے میری
تکذیب کی ، جب کہ ابوبکر نے میری تصدیق کی ۔
آپ کے ایمان کی اولیت کا اس حدیث سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے جسے
خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم
سے روایت کیا ، آپ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق
کو فرمایا:
ياابابکر ان الله اعطانی ثواب من آمن لی منذخلق آدم الی ان بعثنی ،
وان الله اعطاک يا ابابکر ثواب من آمن بی منذ بعثنی الی ان تقوم الساعة
حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ
گلزار اولیاء میں رقمطراز ہیں:افضل البشر
بعد ازانبياء سيد نا ابوبکر الصديق رضی الله تعالی عنه-
آپ کے بچپن سے متعلق تاریخ الخلفاء میں ہے کہ ایک بار صحابہ کرام میں
سے کسی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے جاہلیت میں
شراب پی ہے ۔آپ نے فرمایا خدا کی پناہ میں نے کبھی شراب نہیں پی ۔لوگوں نے کہا کیوں
؟فرمایا میں اپنی عزت و آبرو کو بچاتا تھا اور مروت کی حفاظت کرتا تھا ۔اس لئے کہ
جو شخص شراب پیتا ہے اس کی عزت و ناموس اور مروت جاتی رہتی ہے ۔جب اس بات کی خبر
حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے دو بار فرمایا سچ کہا ابو
بکر نے سچ کہا ۔
قـســــــط نمــــــــبر 11
’’میں نے جس کسی کو اسلام کی دعوت دی، اس نے کچھ نہ کچھ ہچکچاہٹ اور پس
وپیش ضرور دکھائی سوائے ابو بکر بن ابوقحافہ کے۔ جب میں نے ان کو اسلام کی طرف بلایا،
انھوں نے تامل کیے بغیر میری آواز پر لبیک کہا۔‘‘ (ابن ہشام) اسلام قبول کرنے کے
بعد انھوں نے اس کی ترویج میں نمایاں حصہ لیا، لوگوں کو انفرادا ی طور پر اور علانیہ
اسلام کی طرف بلایا۔ عثمان بن عفان، عبد الرحمان بن عوف، طلحہ بن عبید ﷲ، سعد بن
ابی وقاص، زبیر بن عوام اور ابو عبیدہ بن جراح ابوبکر کی کوششوں ہی سے مسلمان
ہوئے۔ ابو بکر نے نبی رحمت صلی ﷲ علیہ وسلم کی ذاتی نصرت و حمایت بھی کی۔ ایک باربیت
ﷲ میں قریش آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم پر جھپٹ پڑے اور کہا: تم نے ہمیں برے انجام کی
دھمکی دی ہے اور ہمارے معبودوں کے متعلق بری باتیں کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ان
میں سے ایک نے آپ کی چادر کے دونوں پلو پکڑ کر کھینچ لیے (اور گلا گھونٹنے لگا)۔
ابوبکر آپ کا دفاع کرنے کھڑے ہو گئے۔
’’چاہتا ہوں، کہیں الگ جا کر عبادت کروں۔‘‘ ابن دغنہ نے کہا: ’’تم جیسا
شخص نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ ان کو واپس لے آیا اور قریش کو اپنی
ضمانت دے کر لوٹا۔ ابو بکر جب تک مکہ میں مقیم رہے، حمزہ اور عمر کے ساتھ مل کر قریش
کو ایذارسانی سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ ظن غالب ہے کہ انھوں نے بنو ہاشم کا
مقاطعہ ختم کرانے کی دوڑ دھوپ کی جس کا نتیجہ قدرے دیر بعد ہوا اور کفار ہی کے کچھ
انصاف پسندوں نے یہ بائیکاٹ ختم کرایا۔
قـســــــط نمــــــــبر 12
ایک بار حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی ﷲ عنہ سے دریافت
فرمایا: ’’تو نے ابو بکر کے بارے میں بھی کوئی شعر کہا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا:
’’ہاں۔‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’کہو، میں سن رہا ہوں۔‘‘ انھوں نے یہ دو شعر پڑھے:
وثانی اثنین فی الغار المنیف وقد
وکان حب رسول ﷲ قد علموا
رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کھل کر مسکرائے حتیٰ کہ آپ کی ڈاڑھیں نمایاں
ہو گئیں۔ پھر فرمایا: ’’تو نے سچ کہا حسان، ابو بکر ایسے ہی ہیں جس طرح تو نے
کہا۔‘‘ یہ واقعہ ہے کہ آپ کو عورتوں میں عائشہ اور مردوں میں ابوبکر سب سے زیادہ
محبوب تھے۔ عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ میں نے (غزوۂ ذات سلاسل کے موقع پر) آں
حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’آپ کو کون سا انسان سب سے بڑھ کر محبوب ہے؟‘‘ آپ
نے فرمایا: ’’عائشہ۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’مردوں میں سے کون؟ آپ نے ارشاد فرمایا:
’’ان کے والد (ابوبکر)۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’ان کے بعد؟‘‘ جواب فرمایا:
’’عمر۔‘‘ (مسلم،رقم ۶۱۷۷) آپ کا ارشادہے: ’’سنو، میں ہر دوست کی
دوستی سے بے نیاز ہوں، اگر میں نے دوست بنانا ہوتا تو لازماً ابوبکر کو دوست
بناتا۔ تمھارا ساتھی رسول تو ﷲ کا دوست ہے۔‘‘ (مسلم، رقم۶۱۷۶) ’’ابو بکرمیرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔‘‘ (بخاری، رقم۳۶۵۶) فرمان نبوی ہے: ’’میری امت میں امت پر سب سے
بڑھ کررحم کھانے والے ابو بکر ہیں۔‘‘ (مسند احمد، مسند انس بن مالک) ایک عورت نبی
صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کسی شے کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے اسے حکم
فرمایا: ’’میرے پاس پھر آنا۔‘‘ اس نے کہا: ’’یا رسول ﷲ، آپ کا کیا ارشاد ہے، اگر میں
دوبارہ آئی اور آپ کو نہ پایا؟‘‘ یہ آپ کی وفات کا کنایہ تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’اگر
تو نے مجھے نہ پایا تو ابو بکر کے پاس چلی جانا۔‘‘