وہ مجھے یقین دلاتی کہ وہ اداس اور پریشان نہیں ہے مگر میں اسے قید جیسی زندگی گزارتے دیکھ کر اداس ہو جاتا۔ دل ہی دل میں غصے سے کھولتا اور طرح طرح کے خطرناک منصوبے بناتا رہتا۔پھر اس نے مجھ سے خط لکھوانا شروع کر دیئے۔وہ بولتی جاتی اور میں لکھتا جاتا۔ گرمیوں کی سخر دوپہروں میں اور بعض اوقات رات کو لالٹین کی روشنی میں ہم پہروں اکٹھے بیٹھ کر اس کے نام چٹھیاں لکھتے۔ یہ بڑی انوکھی، دلچسپ اور خوبصورت باتیں ہوتیں جو میں نے کہیں پڑھی سنی نہیں تھیں۔ اس کی بے وفائیوں، بے خبریوں اور سنگدلیوں کی شکایتیں اور شکوے ہوتے اس کے فراق میں اپلوں کی طرح سلگنے، پانی کے بغیر مچھلی کی طرح تڑپنے اور صابن کی گاچی کی طرح کھرنے کا ذکر ہوتا۔ وہ اسے بار بار تاکید کرتی کہ وہ جلد از جلد آئے اور اسے بھیڑیوں کے خوف اور قید کی سی زندگی سے رہائی دلائے۔ لکھ لکھ کر میرے ہاتھ تھک جاتے مگر اس کی باتیں ختم نہ ہوتیں۔ میں جب تک لکھتا رہتا وہ سامنے بیٹھ کر پنکھا کرتی رہتی۔ پھر خط کو تہ کر کے اپنے پاس رکھ لیتی اور اگلے روز شیدو کے آنے اور خط لے جانے کا انتظار کرنے لگتی۔کبھی کبھی مجھے اس پر،جسے میں نے اس وقت تک دیکھا ہوا نہیں تھا،غصہ آتا۔ آخر وہ اس کے کسی خط کا جواب کیوں نہیں بھیجتا تھا مگر پھر سوچتا کیا پتہ جواب آتا ہو، مگر وہ مجھے بتاتی نہ ہو اسے پڑھنا تو آتا ہی تھا اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ مجھ سے اس کا نام اور پتہ اور اس کے بارے میں بہت سی دوسری باتیں چھپاتی تھی۔ شاید اسے ایسا ہی کرنا چاہیے تھا یا شاید اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میری سمجھ میں کچھ نہ آتا۔اس کے گھر والوں کا ہمیشہ سے اصرار تھا کہ گھر کی بات ہے۔ قرض لئے بغیر فرض ادا ہو جائے گا۔ اسے اس کے ننھیال میں بیاہا جائے مگر اسے اپنے ماموں زاد سے چڑ تھی۔ کہا کرتی، ’’ہے تو وہ میرے ماموں کا بیٹا مگر خدا معاف کرے شکل سے بالکل بھیڈ کٹ لگتا ہے۔‘‘میرے گھر والوں نے اس کے ابا کی پھٹی پرانی پگڑی پاؤں سے اٹھا کر اسے لوٹاتے ہوئے تسلی دی تھی مگر ساتھ ہی ہدایت بھی کی تھی کہ وہ جلد از جلد کوئی مستقل انتظام کر لے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا اس کے والدین کا اصرار کہ وہ ننھیال میں شادی کرنے پر رضامند ہو جائے، بڑھتا جا رہا تھا مگر وہ اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔پھر ایک دن میری چھٹیوں کا حساب کر کے وہ نہایت پریشان ہوئی کہنے لگی،’’تم چلے جاؤ گے تو میں ایک دن بھی اس کال کوٹھڑی میں زندہ نہیں رہ سکوں گی۔‘‘مجھ سے اکثر اپنی سہیلیوں، ان کی مصروفیتوں اور کپڑوں گہنوں کے بارے میں پوچھتی۔ شیدو آتی تو اس سے دیر تک سرگوشیاں کرتی۔ گاؤں کے تالابوں، ٹیلوں، فصلوں، کھیتوں اور دھوپ میں چرتے ہوئے مویشیوں کے بارے میں پوچھتی۔ بیٹھی بیٹھی اچانک مجھ سے پوچھ لیتی،’’جلاہوں کےگھر کےسامنے والی گلباسی پر پھول لگتے ہیں؟‘‘’’مسجد کی منڈیر پر کبوتر بیٹھتے ہیں؟‘‘’’پنگھٹ کے کنوئیں کی چرخی سے گیڑتے ہوئے روں روں کی آواز سنائی دیتی ہے؟‘‘کبھی کبھی مجھے وہ چٹھیاں زبانی سناتی جو اس نے مجھ سے لکھوا کر وقتاً فوقتاً شیدو مہترانی کے ہاتھ اسے بھجوائی ہوتیں۔ میں حیران ہوتا اس کی یادداشت اور حافظے کی داد دیتا۔ وہ چٹھی کا مضمون سناتی اور مجھے یاد آتا کہ میں نے بالکل یہی کچھ لکھا تھا مگر لکھتے وقت میرے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ اسے وہ سب باتیں ازبر ہو جاتی ہوں گی۔پھر ایک رات اس کی ماں ملنے آئی تو دونوں ماں بیٹی دیر تک باتیں کرتی رہیں اور اگلے روز مجھے یہ جان کر بے حد حیرت ہوئی کہ وہ اپنے ماموں زاد سے شادی کرنے پر رضامند ہو گئی تھی۔ میں نے پوچھا تو رو دی۔ کہنے لگی، ’’کیا کرتی؟‘‘طالب دعا ۔۔۔(محمّد عنصر عبّاس)(03336700515)’’ اور وہ‘‘ میں نے پوچھا، ’’جسے ہم نے اتنے خط لکھے۔‘‘کہنے لگی، ’’اس کا ذکر اور انتظار اب فضول ہے۔ وعدہ کرو تم بھی اب اس کا ذکر کبھی نہیں کرو گے۔‘‘میں نے وعدہ کر لیا مگر میں حیران تھا اور پریشان بھی۔ اب کسی روز چپکے سے اس کا ماموں زاد جو اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ آئے گا اور اسے لے جائے گا۔ شہنائی بجے گی نہ ڈھولک۔ اسے مہندی لگائی جائے گی نہ اس کی سہیلیاں گیت گائیں گی اور سب سے بڑھ کر وہ صدمہ جو ایک نہ ایک دن پورے گاؤں کو مل کر سہنا تھا اب مجھ اکیلے کو برداشت کرنا ہو گا۔اور پھر ایک راتجب چاند ڈوب چکا تھا۔ ہوا بند تھی اور باہکوں سے ریوڑوں کی رکھوالی کرنے والوں کی گھگھیائی ہوئی آوازیں آ رہی تھیں، گلی میں آہٹ ہوئی اور پانچ چھ مسلح گھوڑ سوار گھر کے دروازے کے سامنے آ کر رکے۔ پچھلے کئی دنوں سے مختلف اطراف سے ڈاکے پڑنے کی خبریں آ رہی تھیں۔ ہمارے اوسان خطا ہو گئے مگر ابا نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ پتہ چلا کہ بارات تھی۔پورے چالیس روز بعد خوفناک، طویل اور باگھ بگھیلی رات ختم ہوئی تھی یا شاید شروع ہوئی تھی۔تھوڑی دیر میں اس کے ماں باپ، نمبردار اور مولوی صاحب بھی آ گئے مجھے چھت پر نگرانی کے لئے بھیج دیا گیا۔جب نکاح ہو رہا تھا، اچانک میرا جی چاہا سب سے اونچی منڈیر پر کھڑے ہو کر ہوکا دوں۔ ’’گاؤں والو۔۔ جاگو۔۔ گاؤں لٹ گیا۔‘‘رخصت ہونے سے پہلے اس نے مجھے اندر بلوایا۔گلے لگا کر دیر تک روتی رہی۔ پھر جاتے ہوئے سسکی روک کر آہستہ سے بولی۔’’تمہارے کپڑوں کے ٹرنک میں ایک پوٹلی رکھی ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔‘‘دوسرے روز صبح ہوئی۔چڑیاں چہچہائیں۔کوے بچھڑے ہوؤں کے سندیسے لے کر منڈیروں پر آ بیٹھےجلاہوں کے گھر کے سامنے والی گلباسی پر پھول کھلےپنگھٹ کے کنوئیں کی چرخی سے کرلانے کی آواز گونجی۔اور سیڑھیوں کے درمیان بیٹھ کر اپنے نام اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے خطوط پڑھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔طالب دعا ۔۔۔(محمّد عنصر عبّاس)(03336700515)
وہ مجھے یقین دلاتی کہ وہ اداس اور پریشان نہیں ہے مگر میں اسے قید جیسی زندگی گزارتے دیکھ کر اداس ہو جاتا۔ دل ہی دل میں غصے سے کھولتا اور طرح طرح کے خطرناک منصوبے بناتا رہتا۔
پھر اس نے مجھ سے خط لکھوانا شروع کر دیئے۔
وہ بولتی جاتی اور میں لکھتا جاتا۔ گرمیوں کی سخر دوپہروں میں اور بعض اوقات رات کو لالٹین کی روشنی میں ہم پہروں اکٹھے بیٹھ کر اس کے نام چٹھیاں لکھتے۔ یہ بڑی انوکھی، دلچسپ اور خوبصورت باتیں ہوتیں جو میں نے کہیں پڑھی سنی نہیں تھیں۔ اس کی بے وفائیوں، بے خبریوں اور سنگدلیوں کی شکایتیں اور شکوے ہوتے اس کے فراق میں اپلوں کی طرح سلگنے، پانی کے بغیر مچھلی کی طرح تڑپنے اور صابن کی گاچی کی طرح کھرنے کا ذکر ہوتا۔ وہ اسے بار بار تاکید کرتی کہ وہ جلد از جلد آئے اور اسے بھیڑیوں کے خوف اور قید کی سی زندگی سے رہائی دلائے۔ لکھ لکھ کر میرے ہاتھ تھک جاتے مگر اس کی باتیں ختم نہ ہوتیں۔ میں جب تک لکھتا رہتا وہ سامنے بیٹھ کر پنکھا کرتی رہتی۔ پھر خط کو تہ کر کے اپنے پاس رکھ لیتی اور اگلے روز شیدو کے آنے اور خط لے جانے کا انتظار کرنے لگتی۔
کبھی کبھی مجھے اس پر،جسے میں نے اس وقت تک دیکھا ہوا نہیں تھا،غصہ آتا۔ آخر وہ اس کے کسی خط کا جواب کیوں نہیں بھیجتا تھا مگر پھر سوچتا کیا پتہ جواب آتا ہو، مگر وہ مجھے بتاتی نہ ہو اسے پڑھنا تو آتا ہی تھا اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ مجھ سے اس کا نام اور پتہ اور اس کے بارے میں بہت سی دوسری باتیں چھپاتی تھی۔ شاید اسے ایسا ہی کرنا چاہیے تھا یا شاید اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میری سمجھ میں کچھ نہ آتا۔
اس کے گھر والوں کا ہمیشہ سے اصرار تھا کہ گھر کی بات ہے۔ قرض لئے بغیر فرض ادا ہو جائے گا۔ اسے اس کے ننھیال میں بیاہا جائے مگر اسے اپنے ماموں زاد سے چڑ تھی۔ کہا کرتی، ’’ہے تو وہ میرے ماموں کا بیٹا مگر خدا معاف کرے شکل سے بالکل بھیڈ کٹ لگتا ہے۔‘‘
میرے گھر والوں نے اس کے ابا کی پھٹی پرانی پگڑی پاؤں سے اٹھا کر اسے لوٹاتے ہوئے تسلی دی تھی مگر ساتھ ہی ہدایت بھی کی تھی کہ وہ جلد از جلد کوئی مستقل انتظام کر لے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا اس کے والدین کا اصرار کہ وہ ننھیال میں شادی کرنے پر رضامند ہو جائے، بڑھتا جا رہا تھا مگر وہ اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔
پھر ایک دن میری چھٹیوں کا حساب کر کے وہ نہایت پریشان ہوئی کہنے لگی،’’تم چلے جاؤ گے تو میں ایک دن بھی اس کال کوٹھڑی میں زندہ نہیں رہ سکوں گی۔‘‘
مجھ سے اکثر اپنی سہیلیوں، ان کی مصروفیتوں اور کپڑوں گہنوں کے بارے میں پوچھتی۔ شیدو آتی تو اس سے دیر تک سرگوشیاں کرتی۔ گاؤں کے تالابوں، ٹیلوں، فصلوں، کھیتوں اور دھوپ میں چرتے ہوئے مویشیوں کے بارے میں پوچھتی۔ بیٹھی بیٹھی اچانک مجھ سے پوچھ لیتی،’’جلاہوں کےگھر کےسامنے والی گلباسی پر پھول لگتے ہیں؟‘‘
’’مسجد کی منڈیر پر کبوتر بیٹھتے ہیں؟‘‘
’’پنگھٹ کے کنوئیں کی چرخی سے گیڑتے ہوئے روں روں کی آواز سنائی دیتی ہے؟‘‘
کبھی کبھی مجھے وہ چٹھیاں زبانی سناتی جو اس نے مجھ سے لکھوا کر وقتاً فوقتاً شیدو مہترانی کے ہاتھ اسے بھجوائی ہوتیں۔ میں حیران ہوتا اس کی یادداشت اور حافظے کی داد دیتا۔ وہ چٹھی کا مضمون سناتی اور مجھے یاد آتا کہ میں نے بالکل یہی کچھ لکھا تھا مگر لکھتے وقت میرے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ اسے وہ سب باتیں ازبر ہو جاتی ہوں گی۔
پھر ایک رات اس کی ماں ملنے آئی تو دونوں ماں بیٹی دیر تک باتیں کرتی رہیں اور اگلے روز مجھے یہ جان کر بے حد حیرت ہوئی کہ وہ اپنے ماموں زاد سے شادی کرنے پر رضامند ہو گئی تھی۔ میں نے پوچھا تو رو دی۔ کہنے لگی، ’’کیا کرتی؟‘‘
طالب دعا ۔۔۔
(محمّد عنصر عبّاس)
(03336700515)’’ اور وہ‘‘ میں نے پوچھا، ’’جسے ہم نے اتنے خط لکھے۔‘‘
کہنے لگی، ’’اس کا ذکر اور انتظار اب فضول ہے۔ وعدہ کرو تم بھی اب اس کا ذکر کبھی نہیں کرو گے۔‘‘
میں نے وعدہ کر لیا مگر میں حیران تھا اور پریشان بھی۔ اب کسی روز چپکے سے اس کا ماموں زاد جو اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ آئے گا اور اسے لے جائے گا۔ شہنائی بجے گی نہ ڈھولک۔ اسے مہندی لگائی جائے گی نہ اس کی سہیلیاں گیت گائیں گی اور سب سے بڑھ کر وہ صدمہ جو ایک نہ ایک دن پورے گاؤں کو مل کر سہنا تھا اب مجھ اکیلے کو برداشت کرنا ہو گا۔
اور پھر ایک رات
جب چاند ڈوب چکا تھا۔ ہوا بند تھی اور باہکوں سے ریوڑوں کی رکھوالی کرنے والوں کی گھگھیائی ہوئی آوازیں آ رہی تھیں، گلی میں آہٹ ہوئی اور پانچ چھ مسلح گھوڑ سوار گھر کے دروازے کے سامنے آ کر رکے۔ پچھلے کئی دنوں سے مختلف اطراف سے ڈاکے پڑنے کی خبریں آ رہی تھیں۔ ہمارے اوسان خطا ہو گئے مگر ابا نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ پتہ چلا کہ بارات تھی۔
پورے چالیس روز بعد خوفناک، طویل اور باگھ بگھیلی رات ختم ہوئی تھی یا شاید شروع ہوئی تھی۔
تھوڑی دیر میں اس کے ماں باپ، نمبردار اور مولوی صاحب بھی آ گئے مجھے چھت پر نگرانی کے لئے بھیج دیا گیا۔
جب نکاح ہو رہا تھا، اچانک میرا جی چاہا سب سے اونچی منڈیر پر کھڑے ہو کر ہوکا دوں۔ ’’گاؤں والو۔۔ جاگو۔۔ گاؤں لٹ گیا۔‘‘
رخصت ہونے سے پہلے اس نے مجھے اندر بلوایا۔
گلے لگا کر دیر تک روتی رہی۔ پھر جاتے ہوئے سسکی روک کر آہستہ سے بولی۔
’’تمہارے کپڑوں کے ٹرنک میں ایک پوٹلی رکھی ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔‘‘
دوسرے روز صبح ہوئی۔
چڑیاں چہچہائیں۔
کوے بچھڑے ہوؤں کے سندیسے لے کر منڈیروں پر آ بیٹھے
جلاہوں کے گھر کے سامنے والی گلباسی پر پھول کھلے
پنگھٹ کے کنوئیں کی چرخی سے کرلانے کی آواز گونجی۔
اور سیڑھیوں کے درمیان بیٹھ کر اپنے نام اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے خطوط پڑھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
طالب دعا ۔۔۔
(محمّد عنصر عبّاس)
(03336700515)