اخلاق اور حضرت علی
از: محمد شمیم اختر قاسمی، شعبہ سنی دینیات، اے ایم یو، علی گڑھ
قـســــــط نمــــــــبر 1
Muhammad Anser
03336700515
ولادت سے وفات تک:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن ابی طالب فاطمہ بنت اسد کے بطن سے ایک روایت کے مطابق اندرون خانہ کعبہ چھٹی صدی عیسوی میں پیدا ہوئے۔ صغرسنی میں بعض وجوہ کی بنا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں آگئے اور دربار نبوت سے آخر تک جڑے رہے۔ دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بتوں کی پوجا کبھی نہیں کی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھ سے پہلے کسی نے خدا کی عبادت نہیں کی۔ابتدائی عمر سے ہی حضور سے از حد زیادہ محبت کرتے تھے۔ جب کوہ صفا پر چڑھ کر حضور نے اعلان نبوت کیاتو آپکی آواز پر کسی نے بھی کان نہیں دھرا، مگر حضرت علی جو اس وقت عمر میں صرف ۱۵/ سال کے تھے، کہا: ”گوکہ میں عمر میں چھوٹا ہوں اور مجھے آشوب چشم کا عارضہ ہے، اورمیری ٹانگیں پتلی ہیں، تاہم آپ کا باور دست و بازو بنوں گا۔ جس وقت آپ کی عمر ۲۲ سال کی تھی آپ اپنی جان کی بازی لگاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر پوری رات لیٹے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لیے نکل گئے۔ اس کے تین دن بعد خود بھی حضور سے جاملے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مظاہرہ کیا اور جو کارہائے نمایاں انجام دئیے وہ آپ کی زندگی کا اہم باب ہے۔ سوائے ایک جنگ کے آپ نے ہر جنگ میں شرکت کی اور داد شجاعت دیا۔ غزوئہ تبوک کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنگ میں شرکت سے روک دیا اور اہل بیت کی حفاظت ونگرانی کے لیے مدینہ ہی میں رہنے کا حکم دیا تو اس کا آپ کو بہت قلق ہوا، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر ان کے اعزاز کو بلند کیا کہ ”علی تم اسے پسند نہیں کرتے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ مقام اور درجہ ہو جو ہارون کا موسیٰ کے نزدیک تھا۔ حضرت علی کی اہمیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کتنی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم اہم اور مشکل ترین امور کی انجام دہی کے لیے حضرت علی کو مامور فرماتے۔ جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے، دامے، درمے، قدمے، سخنے ہر لحاظ سے حضور کی فرماں برداری اور اطاعت کرتے رہے۔ اسی جاں نثاری کو دیکھ کر حضور نے غدیر خم کے خطبہ میں فرمایا کہ: ”جو علی کا دشمن ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور جو علی کا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلیفہ سوم کے زمانے تک میں بھی اہم کارنامے اور خدمات انجام دیں اور جنگی معرکے سرکیے۔ اور جب خود خلیفہ بنے تو باوجود پورے ملک میں بدامنی اور خلفشاری کے حالات پر قابوپائے، مگر دشمنوں نے آپ کو زیادہ دن حکومت کرنے نہیں دیا اور آپ کو قتل کردیا۔ آپ کا انتقال ۴۰ھء میں ہوا۔ کل ۴/سال نو مہینے حکومت کرسکے۔ آپ کی تعلیمات، خطبات، وصایا، انشاپردازی اور اخلاقی اقدارکا شاہکار مجموعہ نہج البلاغہ ہے، جسے شریف رضی نے جمع کیا ہے۔ پیش نظر مضمون میں حضرت علی کے بعض اہم اخلاقی قدروں پر روشنی ڈالی گئی
ہے جو انسانوں کے لیے مینارئہ نور ہیں۔
قـســــــط نمــــــــبر 2
Muhammad Anser
03336700515
نبی کے اخلاق کا اثر
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ آپ خلق خدا کو ادب و احترام اور اخلاقی اقدار و تہذیب کی تعلیم دیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا: ”انا بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ (میں اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں) اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی اس خوبی کو قرآن کریم میں اس انداز میں بیان کیا ہے: ”انک لعلی خلق عظیم“ (اے نبی ! آپ اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں) جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دارفانی سے رخصت فرماگئے، تو کچھ لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ معلوم کرنا چاہا کہ آپ کا اخلاق کیساتھا، تو انھوں نے جواب دیا : ”کان خلقہ القرآن“ یعنی جو کچھ قرآن میں بیان کیاگیا ہے وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق تھا۔ اسی پس منظر میں حضرت علی کرم اللہ وجہ کے اخلاق و کردار اور ان کی تعلیمات کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔ چوں کہ آپ درِ رسالت سے ابتدائی عمر سے آخر تک جڑے رہے، اس لیے ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے جو طرز عمل اور اخلاق و کردار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اسی کو حضرت علی نے اپنی زندگی میں نافذ کیا۔ چنانچہ علامہ سید ابوالحسن ندوی اس نکتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی اورنسبی تعلق، ایک عمر کی رفاقت اور روز مرہ کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کی وجہ سے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو آپ کے مزاج افتاد طبع سے اور ذات نبوی کی خاص صفات و کمالات سے گہری مناسبت ہوگئی تھی، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا تھا، وہ آپ کے میلان
طبع اور مزاج کے رخ کو بہت باریک
قـســــــط نمــــــــبر 3
Muhammad Anser
03336700515
امام علی علیه السلام کی زندگی کے اهم
واقعات
حجة الوداع
جب نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو حضیرة القدس ”جنت “میں منتقل ھونے کا یقین ھو گیا توآپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے بیت اللہ الحرام کا حج اور امت کے لئے ایک سیدھے راستہ کا معین کرنا لازم سمجھا،آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ۱۰ سن ھ میں آخری حج کر نے کی غرض سے نکلے اور آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے امت کے لئے اپنے اس دنیا سے آخرت کی طرف عنقریب کو چ کرنے کے سلسلہ میں یوں اعلان فرمایا :”اِنِّی لَا اَدْرِي لَعَلِّي لَااَلْقَاکُمْ بَعْدَ عَامِیْ ھٰذَا بِھٰذا الْمَوْقِفِ اَبَداً۔۔“”مجھے نھیں معلوم کہ میں اس سال کے بعداس جگہ تمھیں دیکھ سکوں گا “۔
حجاج خوف و گھبراہٹ کے ساتھ چل پڑے وہ بڑے ھی رنجیدہ تھے اور یہ کہتے جا رھے تھے : نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنی موت کی خبر دے رھے ھیں ،نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان کے لئے ھدایت کا ایسا راستہ معین فرمادیا تھا جس سے وہ فتنوں سے دور رھیںاور یہ فرماکر ان کی اچھی زندگی گذرنے کی ضمانت لے رھے تھے : ”ایھا النَّاسُ، اِنِّیْ تَرَکْتُ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ،کِتَابَ اللّٰہِ وَعِتْرَتِيْ اَھْلَ بَیْتِي ۔۔۔“ ۔
”اے لوگو! میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رھا ھوں ،کتاب خدا اور میری عترت میرے اھل بیت(ع) ھیں ۔۔۔“۔
کتاب اللہ سے متمسک رھنا ،اس میں بیان شدہ احکام پر عمل کرنااور اھل بیت نبوت سے محبت دوستی کرناکہ اسی میں امت کی گمرا ھی سے نجات ھے حج کے اعمال تمام کرنے کے بعد نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جس میںآپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اسلامی تعلیمات اوراس کے احکام بیان فرمائے اورآخرمیں فرمایا :”لاترجعوا بعدی کفّاراً مُضَلِّلِیْنَ یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ اِنِّي خَلَّفْتُ فِیْکُم ْ مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِہِ لَنْ تَضِلُّوْا:کِتَابَ اللّٰہِ وَعِتْرَتيْ اَھْلَ بَیْتِي،اَ لَاھَلْ بَلَّغْتُ؟“۔
”میرے بعد کا فر نہ ھو جانا ،لوگوں کو گمراہ نہ کرنا ،ایک دوسرے سے جنگ نہ کرنا ،میں تمھارے درمیان وہ چیزیں چھوڑ کر جا رھا ھوں اگر تم اُن سے متمسک رھوگے تو ھر گز گمراہ نہ ھو گے :اللہ کی کتاب اور میری عترت ،میرے اھل بیت(ع) ھیں ،آگاہ ھو جاؤ کیا میں نے(احکام الٰھی ) پھنچا دیا؟“
سب نے ایک ساتھ مل کر بلند آواز میں کھا : ھاں ۔
آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا :”اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ ۔۔اِنَّکُمْ مَسْؤُلُوْنَ فَلْیَبْلُغِ الشَّاھِدُ مِنْکُمُ الْغَائِبَ“۔[1]
”خدایا ! گواہ رھنا ۔۔تم حاضرین کی ذمہ داری یھے کہ اس پیغام کو غائبین تک پھنچادیں “۔ھم اس خطبہ کا کچھ حصہحیاة الامام امیر المومنین(ع) میں ذکر چکے ھیں ۔
قـســــــط نمــــــــبر 4
Muhammad Anser
03336700515
غدیر خم
حج کے ارکان بجالانے کے بعد نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ حج کے قافلے مدینہ کی طرف واپس آرھے تھے ،جب غدیر خم کے مقام پر پھنچے تو جبرئیل اللہ کے حکم سے نازل ھوئے کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے قافلہ کو اسی مقام پر روک کر حضرت علی(ع) کو اپنے بعد اس امت کا خلیفہ اور امام بنا دیجئے اور اس کے انجام دینے میں بالکل تاخیر نہ فرما ئیںچنانچہ اس وقت یہ آیت نازل ھو ئی :< یَااٴَیُّہَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس۔۔>۔[2]
”اے پیغمبر آپ اس حکم کو پھنچا دیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ھے، اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نھیں پھنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا “
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس امر کوبہت اھمیت دی اور پختہ ارادہ کے ساتھ اُس پر عمل کا فیصلہ کیا آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنے قافلہ کو اسی گرمی کی شدت سے مرجھائے ھوئے درختوں کے نیچے روک دیا اور دوسرے قافلوں کو بھی وھاں ٹھھر کر اپنے خطبہ سننے کی تلقین فرما ئی ،آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے نماز ادا کرنے کے بعد اونٹوں کی کجاووں سے منبر بنانے کا حکم دیاجب منبر بن کر تیار ھو گیا تو آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے منبر پر جا کر ایک خطبہ ارشاد فرمایاجس میں اعلان فرمایا کہ جس نے اسلام کی راہ میں مشکلیں برداشت کیں اور اس راستہ میں ان کے گمراہ ھونے کا خطرہ تھا میں نے ان کو اس خطرے سے نجات دلا ئی ،پھر اُن سے یہ فرمایا:میں دیکھوںگاکہ تم میرے بعد ثقلین کے ساتھ کیسا برتاؤ کر و گے ؟“۔
قوم میں سے ایک شخص نے پوچھا :یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ثقلین کیا ھے ؟
”ثقل اکبر :اللہ کی کتاب ھے جس کا ایک سرا اللہ عز و جل کے قبضہ قدرت میں ھے اور دوسرا سرا تمھارے ھاتھوں میں ھے تم اس سے متمسک رھن
x
x