جانباز قـســــــط نمــــــــبر 61-62-63-64-65

 
جانباز ( محمّد عنصر  عبّاس)
تحریر ابو شجاع ابو وقار
قسط نمبر 61
 
نبیل نے مجھے بتایا کہ اس لسٹ میں جن لوگوں کے نام ہیں ہم نے آدھے سے بھی کم لوگوں کو گرفتار کیا ہے. نبیل نے اپنے ہم عہدہ کرنل سے ہمارا تعارف کروایا اور نئی لسٹ کے مطابق گرفتار کرنے کی پلاننگ کرنے لگے. میں نے انکی گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارا یہاں کام ختم ہو گیا ہے لہذا ہمیں گیسٹ ہاؤس جانے کی اجازت دی جائے. اور بسواس کے زخمی ہاتھوں کی مرہم پٹی بھی کروا دی جائے. مبشر کے متعلق میں نے کرنل نبیل سے کہا کہ اسے دھوکے سے انوالو کر کے پھر بعد میں بلیک میل کیا جاتا رہا ہے لہذا ہو سکے تو اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے. وہاں سے فارغ ہو کر میں ساتھیوں کے ساتھ واپس گیسٹ ہاؤس آ گیا میں بسواس کے بتاے ہوئے مکتی باہنی کے لوگوں میں سے ان کے لیڈر لال میں زیادہ انٹرسٹیڈ تھا. اس کے بقول مراری لال ایک ٹریول ایجنسی میں مینجر تھا. سعودی عرب میں تمام ٹریول ایجنسیاں دوپہر سے رات گئے تک مصروف رہتی تھیں میں مزمل اور عمران قیصر اسی شام ٹریول ایجنسی پر جا پہنچے. مراری لال دفتر میں ہی تھا. ہم چاروں گاہک بن کر مراری سے ملے اور اس سے لندن کی ریٹرن ٹکٹ کی بات کی. اس نے کلکو لیٹر لے کر چاروں ٹکٹوں کا حساب لگا کر فی ٹکٹ کی جو قیمت اس نے بتائی وہ میں نے یہ کہہ کر رد کر دی کہ یہ قیمت بہت زیادہ ہے. میں نے کہا کہ ہمیں تو بسواس نے کہا تھا کہ میرا نام مراری کو بتاؤ گے تو وہ تم لوگوں کو باقییوں سے آدھی قیمت پر ٹکٹ دے دے گا. مراری لال بڑا ہوشیار اور پرانا گھاگ تھا بسواس کا نام سنتے ہی وہ چونک پڑا اور بولا تم لوگ بسواس کو کیسے جانتے ہو.
میں نے مراری کو سرگوشی میں کہا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں باغیوں کی دھرا دھر گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور سمجھو ہم سب بھی ایک ہی گشتی کے سوار ہیں. مراری نے بے یقینی اور یقین کی کیفیت میں سوال کیا کہ آپ لوگ کن کمپنیوں میں کام کرتے ہو. میں نے دھیمے لہجے میں کہا کہ مراری صاحب آپ نے تو ہماری انکوائری شروع کر دی. جیسے ہم ملازمت ڈھونڈنے آپ کے پاس آے ہیں. اگر بسواس کا نام لینے سے بھی آپ کی تسلی نہیں ہوئی تو ہم واپس چلے جاتے ہیں. بسواس نے چھاؤنی جانے سے پہلے ہمیں بتایا تھا کہ 8سے ساڑھے 8بجےشام وہ ہم سب کو زمیندارہ ہوٹل کے ساتھ پان کی دوکان پر ملے گا. آپ اس سے وہی ہمارے متعلق پوچھ لیجئیے گا. یہ کہہ کر میں اٹھنے لگا تو مراری بولا کہ آپ تو ناراض ہی ہو گئے. آپ ٹھنڈا وغیرہ لیجئیے سوا آٹھ بجنے میں ٹائم کتنا رہ گیا ہے. میں آپ کے ساتھ ہی بسواس سے ملنے جاؤں گا. آج میں نے کئی بار اس سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس سے بات نہیں ہو سکی. ہم پھر وہی بیٹھ گئے اور ٹھنڈا وغیرہ پی کر جب وہاں سے اٹھے تو مراری لال بھی ہمارے ساتھ ہی باہر آیا. اور اپنی گاڑی میں زمیندارہ ہوٹل کیطرف ہمارے پیچھے چل پڑا. مراری لال سے کچھ اگلوانے کے لیے کم از کم میرے ساتھیوں کا اسکی گاڑی میں موجود ہونا ضروری تھا. تاکہ اسے اغوا کیا جا سکے زمیندارہ ہوٹل اور پان شاپ پر ان دنوں برصغیر کے لوگوں کا رش رہتا تھا زمیندارہ ہوٹل کے ہم قریب ہی پہنچ گئے لیکن کوئی تدبیر ذہن میں نہیں آ رہی تھی جس سے مراری کی گاڑی میں بیٹھا جا سکے. زمیندارہ ہوٹل جس گلی میں واقع تھا اس سے تقریباً 50 میٹر پہلے میں نے گاڑی روکی. مراری کو بھی گاڑی روکنا پڑی. میں اتر کر مراری کی گاڑی کے پاس گیا اور اس کی گاڑی کا شیشیے پر ناک دی مراری نے شیشہ نیچے کیا تو میں نے کہا کہ اس پکڑ دھکڑ کے چکر میں انٹیلی جنس والے ہر طرف چھاپے مار رہے ہیں یقیناً کوئی نہ کوئی ہوٹل میں بھی موجود ہو گا اس لیے بسواس کو لینے کے لیے میں نے اپنا ساتھی بھیج دیا ہے میں نے سوچا تب تک میں تمہارے پاس بیٹھ کر گپ شپ لگا لوں مراری نے دروازہ کھولا اور مییں اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا. قریب دس منٹ بعد عمران اور قیصر مراری کی گاڑی کیطرف آئے. عمران نے ہانپتے ہوئے ایکٹنگ کرتے ہوئے میری طرف کا شیشہ ناک کیا میں نے شیشہ نیچے کیا تو عمران نے کہا کہ وہاں تو اقاموں کی چیکنگ ہو گئی ہے اور بسواس بھی وہاں کہیں نظر نہیں آیا اب بسواس کی دوسری پلاننگ کے مطابق وہ ہمیں ہماری رہائش گاہ پر ہی ملے گا. اتنی دیر میں مزمل نے گاڑی گیسٹ ہاؤس کیطرف موڑ دی. میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے مراری کی گاڑی کا بیک دروازہ کھول دیا اس سے پہلے کہ مراری کچھ سمجھتا   قیصر اور عمران پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے.
میں نے کہا مراری صاحب جلدی کیجئیے اس سے پہلے کہ اقاموں کی چیکنگ والے ہم تک پہنچ جائیں. مراری نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں رہتے ہو. امارت کے قریب ہی ایک بلڈنگ کی فلیٹ پر ہماری رہائش ہے. اور ہمارا انتہائی حساس ٹرانسمیٹر اور دوسرے آلات میں ہونے والی گفتگو کا ایک ایک لفظ ریکارڈ کر سکتا ہے. میرا جواب سن کر مراری خاموشی سے گاڑی امارت والی سڑک کیطرف لے گیا. لیکن شہری آبادی اور لوگوں کی آمدورفت ختم ہوتے ہی مراری نے گاڑی روک لی اور بولا کہ آپ جیسے جاسوسی کرنے والے میں نے پہلی بار دیکھے ہیں. حالانکہ میں ینبع میں جاسوسی کرنے والے تینوں نیٹ ورکس کے کارکنوں کوجانتا ہوں. عمران نے پیچھے بیٹھے ہوئے جواب دیا. آپکو ابھی یقین بھی دلاتے ہیں. یہ کہتے ہوئے عمران نے اپنے ریوالور کی نال مراری کی گردن کے ساتھ لگا دی. قیصر اور میں نے بھی ریوالور نکال لیے. قیصر نے گاڑی سے اتر کر مراری سے کہا کہ تم ذرا اب پیچھے آ جاؤ. مراری نے پیچھے جانے پر تذبذب کیا تو عمران نے اس کی گردن پر ریوالور کی نال کا دباؤ بڑھا دیا اور قیصر نے اسکی گاڑی کی چابی نکال لی. مراری نے جب یہ دیکھا کہ اب کوئی چارہ نہیں تو وہ دروازہ کھولنے لگا لیکن میں نے اسے روکتے ہوئے کہا کہ مراری باہر سے نہیں یہی سے پچھلی سیٹ پر چلے جاؤ. مراری خاموشی سے پچھلی سیٹ پر چلا گیا. قیصر بھی مراری کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنھبال لی. اور گاڑی گیسٹ ہاؤس کیطرف موڑ دی. میں نے دیکھا کہ مزمل بھی ہمارے پیچھے ہی آ رہا تھا میں نے مراری سے کہا کہ اب تک تم سمجھ گئیے ہو گے کہ ہم لوگ کون ہیں اس لیے جو سوال تم سے پوچھیں جائیں ان کے صحیح جواب دے کر تم اپنی زندگی بھی بچا سکو گے اور تم کو باعزت تمہارے گھر بھی ڈراپ کر دیا جائے ورنہ قیصر نے ریوالور لہراتے ہوئے کہا کہ ان سب ریوالورز کی گولیاں تمہارے ہاتھوں اور پاؤں میں مار کر تم کو تاحیات اپاہج کر دیا جاے گا. ہم لوگ گیسٹ پہنچے مراری خاموشی سے ہمارے ساتھ گاڑی سے باہر نکلا. گیسٹ ہاؤس کے پیشتر کمرے ہمارے یوز میں تھے. لہٰذا ہم مراری کو لے کر ڈرائنگ روم میں آ گئے. قیصر نے رضی اور تینوں فوجیوں کو بھی بلا لیا. فوجیوں نے مراری کو کرسی پر باندھ کر اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا اتنی دیر میں ماہا اور سیما کو پتہ چلا کہ نیو مرغا آیا ہے تو وہ بھی ڈرائینگ روم میں آ گیئیں بسواس کے مطابق یہاں کا ہیڈ مراری تھا مگر مراری تین نیٹ ورکس کا نام لے کر ہمیں گہرائی تک پہنچنے پر مجبور کر دیا چنانچہ میں نے ماہا اور عمران کو ساتھ لے کر دوسرے کمرے میں گیا اور ان کی مدد سے ایک سوال نامہ تیار کر کے ڈرائنگ روم میں آگیا. اور سوالوں کا سلسلہ شروع کرنے لگے. فوجیوں نے اس کے منہ سے کپڑا ہٹایا. اور اسے ٹھنڈا پانی پلایا ماہا نے کہا کہ تم لوگوں کے سوال پوچھنے سے پہلے میں مراری سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں.
 ماہا نے جس طرح سوال نامہ تیار کروایا اور پھر اس سے خود پہلے سوال کرنے کی اجازت مانگی اس سے مجھے اچنبھا تو ضرور ہوا مگر میں نے اجازت دے دی. ڈرائنگ روم میں میرے سارے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے ماہا نے مراری سے کہا کہ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو تمہارا نام مراری نہیں بلکہ بھگوان داس ہے اور میرا کوڈ نمبر ایم 540 ہے. اگر تم اپنا اصلی کوڈ اور نام بتا دو تو بڑی خوشگوار حیرت ہو گی. مراری جو لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے حالات کیوجہ پریشان اور کنفیوڈ ہو رہا تھا بولا کہ اگر میری پینٹ سے ڈائری نکال کر مجھے دی جائے اور اس میں آپ کا کوڈ چیک کروں تو پھر ہی کچھ بتا سکوں گا. ماہا نے جے سی او کو اشارہ کیا تو اس نے مراری کی پینٹ کی جیب سے ڈائری نکال لی. مراری کے ہاتھ بھی ماہا نے کھلوا دئیے. مراری ڈائری کے چند الٹنے کے بعد ایک صفحہ پر رک کر کچھ بڑبڑایا. ایم 540 تو آپ جینی ہو. آپ تو مجھ سے بہت سئنیر ہیں میرا کوڈ1062 ہے اور میرا نام بھگوان داس ہے. ماہا نے ہم میں سے کسی کو بھی مخاطب نہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان کے پاؤں فورا کھول دئیے جائیں. انکی یہ تمام گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی. ہاتھ کھلتے ساتھ ہی ماہا نے مراری سے ہاتھ ملایا. میں نے محسوس کیا کہ ہاتھ ملاتے وقت دونوں نے ایک دوسرے کی ہتھیلیوں پر مخصوص لکیریں کھینچیں. مراری کا سارا خوف ختم ہو چکا تھا. ہماری طرف دیکھتے ہوئے اس نے ماہا کیطرف سوالیہ نظروں سے دیکھا. یہ سب ہماری ایجنسی کے آدمی ہیں. اور میں انکی لیڈر ہوں. بسواس پر فوجی افسر کو گالی نکالنے پر شک پڑ گیا تھا. میں اپنے نیٹ ورک کے ساتھ چند روز پہلے ہی یہاں پہنچی ہو‌ں.اور میں نے کرنل نبیل کو اس طرح گھیرا ہے کہ وہ میری مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا. بسواس کے متعلق مجھے علم ہوا کہ وہ سب کچھ اگلنے والا ہے تو میں نے اسے وہی ختم کروا دیا. کرنل نبیل کیوجہ سے ہم اس گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے ہیں. اور میرے پلان کے مطابق میرے ساتھی تمہیں یہاں لاے ہیں. اس طرح تمہیں جو پریشانی ہوئی اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں. تم سے فوری رابطہ کرنے کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا. یہاں میں حجاب اوڑھتی ہوں اس لیے تمہاری ٹریول ایجنسی نہیں آ سکتی تھی. اس خدشہ کے پیش نظر کہ بسواس نے ہمارے تینوں نیٹ کے متعلق کچھ بتا نہ دیا ہو. میں نے تم سے رابطہ لازمی سمجھا. بحیثیت سئنیر میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ مجھے تینوں نیٹ ورکس کے متعلق پوری معلومات اور ان کے لیڈروں کے رابطہ نمبر وغیرہ ہر چیز بتاؤ ہم یہاں ایک انتہائی اور اہم مشن پر یہاں پہنچے ہیں. اور اس مشن کو پورا کرنے کے لیے مجھے تینوں گروپوں کی معاونت درکار ہو گی. جس کے لیے چیف نے مجھے خصوصی لیٹر بھی دیا ہے.
ہم سب ساتھی ماہا اور مراری کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ایک ایک لفظ غور سے سن رہے تھے. ہم سب نے ایک دوسرے کے ہاتھ دبا کر ماہا کے پلان کی تائید کی جب ماہا نے کہا کہ کاغذ اور قلم لایا جائے تو مزمل نے کہا یس میڈم. اور اپنے کمرے سے کاغذ اور قلم لے آیا. اس دوران ہم نے ماہا کے لیے ایک کرسی مراری کے قریب ہی رکھ دی. ماہا نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم لوگوں نے بھگوان داس کو یہاں تک لانے کے لیے کوئی سختی کی ہو تو اس کی بھگوان داس سے معافی مانگو. اور تمہارے سوا باقی سب اپنے اپنے رومز میں چلے جائیں. میں نے بھی فل ایکٹنگ کرتے ہوئے مراری سے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے رویے کی معافی مانگی جسے مراری نے بڑی رعونت سے سر ہلاتے ہوئے کہ I pardon you but be careful next time. ( میں تمہاری معذرت قبول کرتا ہوں مگر آئندہ احتیاط رکھنا) میرے سب ساتھی اپنے رومز میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد جے سی او تین کولڈ ڈرنک لے کر آ گیا. اور کہا کہ کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بھجوا دی جائے. ماہا نے مجھے کہا. کہ اسے کہو کہ جب تک کسی کو بلایا نہ جاے کوئی بھی ادھر قدم نہ رکھے. اور سب ساتھی روانگی کے لیے تیار رہیں. ہمیں اپنے گروپس کو بچانے کے لیے آج ہی کاروائی کرنی ہے. میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی جے سی او نے یس میم کہا اور کمرے سے چلا گیا. ماہا نے مجھے افسرانہ اور دبدبے والے لہجے میں کہا کہ تم ہم سے کچھ دور بیٹھ جاؤ اور ہماری گفتگو کے درمیان مداخلت مت کرنا. میں نے بھی یس میڈم کہا اور کچھ دور ہو کر بیٹھ گیا. دراصل اس طرح کر کے ماہا مراری پر یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ وہ موساد کہ نہ صرف سئنیر ایجنٹ ہے بلکہ بھارت نیپال بنگلہ دیش کے جونئیر ایجنٹوں ( مجھے بھی ماہا نے بھارتی ہی کہا تھا) کے ساتھ مل کر یہاں بہت بڑا مشن سرانجام دینے آئی ہے. میرے متعلق ماہا نے مراری کو بتایا کہ یہ بمبئی کا پٹھان ہے. اور اسکی بیوی یہودی ہے اور یہ کافی عرصہ سے موساد کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے. اور اسی وجہ سے اس مشن میں اسے میرا نمبر2 مقرر کیا گیا ہے. ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور مجھے تینوں گروپوں کو بروقت اطلاع دے کر بچانا ہے. کیونکہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ مرنے سے پہلے بسواس نے ان کی نشاندہی بھی کی تھی یا نہیں. ماہا نے مراری کو اس طرح شیشے میں اتارا کہ اس نے تینوں گروپوں کے کارکنوں اور لیڈروں کے نام پتے اور دیگر کوائف سب کچھ کاغذ پر لکھ دئیے. اس دوران میں بلکل خاموش بیٹھا رہا. ماہا وہ کاغذ مراری سے لیتے اور مجھے فیتے ہوئے بولی you fool try to learn from me. ( بے وقوف مجھ سے سیکھنے کی کوشش کرو) کاغذ لے کر میں سر جھکا کر  خاموشی سے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا.
ماہا نے مراری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہم ینبع سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں. اس لیے اب تینوں گروپوں کے لیڈروں سے رابطہ اور ان کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لیے تم ہماری رہبری کرو گے. اور یہ بحیثیت سئنیر میرا حکم ہے. جیسا آپ کہیں مراری نے کہا. اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خان 5 منٹ کے اندر اندر سب ساتھیوں تیار ہو کر گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے ہونے چاہیں. مسٹر بھگوان کی گاڑی میں تم اور میں اس کے ساتھ بیٹھیں گے. میرے ساتھی تو پہلے ہی پوری طرح مسلح اور تیار تھے. میں نے ساتھ والے کمرے میں جا کر عمران اور مزمل کو ماہا کا حکم سنایا اور جب میں ماہا اور مراری نیچے گاڑی تک پہنچے تو سب ساتھی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ چکے تھے. مراری نے گاڑی ٹیلی گرام آفس کیطرف موڑی تو میں نے کہا کہ مسٹر مراری یہ سڑک کس طرف جاتی ہے ماہا نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کیا کہ بے وقوف آدمی یہ تم سے سئنیر ہیں لہذا تم انہیں سر کہہ کر مخاطب کرو. مراری کے دل میں اگر کوئی شک تھا تو یہ سن کر نکل گیا. ماہا مراری کے ساتھ فرنٹ سیٹ اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا. مراری نے کہا کہ ہم سب سے پہلے یہاں کے سب سے مضبوط نیٹ ورک کیطرف جا رہے ہیں. اس نیٹ ورک میں دو اسرائیلی تین بھارتی اور ایک مصری ہے. دونوں اسرائیلی یہاں فلسطینی بن کر ایک خشک فروٹ اور ایک کراکری کی دوکان کا مالک ہے. دونوں دوکانیں ملحقہ ہیں اور تینوں بھارتی اور مصری ان دوکانوں پر سیل مین ہیں. دوسرے نیٹ ورک کے لیے ہمیں انڈسٹریل ایریا میں جانا ہو گا. وہاں پر پٹرو مین کمپنی کے لیبر کیمپ میں تھائی فلپائنی اور پاکستانی اور بھارتی مزدور اور ان کی کیمپ کمانڈنک کی خوراک لباس وغیرہ دھونے کا ٹھیکا بھارتی لیڈر کے پاس ہے اور باقی اس کے اسسٹنٹ کے طور پر ساتھ کام کرتے ہیں. تیسرا نیٹ ورک صرف چار افراد پر مشتمل ہے. لیکن اسے سب سے زیادہ حساس کام سونپا گیا ہے. یہ چاروں بھارتی انجنئیر ہیں ینبع میں سمندر کے کھاری پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کا کام کرتے ہیں. اس پلانٹ میں ایسی گیسیں یوز کی جاتی ہیں. جن سے یہ انجنئیر پیچھے سے حکم ملنے پر ایسا دھماکہ کر سکتے ہیں. کہ نہ صرف یہ پلانٹ بھک سے اڑ جاے گا بلکہ ینبع کو میٹھے پانی کی سپلائی بھی بند ہو جائے گی. بلکہ سارا انڈسٹریل ایریا بمع رائل نوو ہسپتال اور رہائشی علاقے کو تباہ کر دے اور چوتھا نیٹ میرا ہے اور میرے ساتھ بسواس سمیت پانچ ارکان پر مشتمل ہے. بسواس کے مرنے کے بعد اب چار رہ گئیے ہیں. یہاں کی انڈسٹریل سٹیٹ چونکہ سعودی عرب کا سب سے بڑا مرکز ہے. لہٰذا یہاں پر غیر ملکیوں کی غیر معمولی آمدورفت رہتی ہے. ہمیں جونہی اطلاع ملتی ہے کہ نئی صنعت لگ رہی ہے یا کسی جگہ پر کوئی وکنسی خالی ہے تو ہم فوری طور پر اس سیٹ پر کوئی بھارتی ہندو کو اس سیٹ کے مطابق بھیج کر اسے جاب دلوا دیتے ہیں. اور ہمارا آدمی جب کسی معقول جگہ پر ایک بار ملازم ہو جاتا ہے. اور پھر پر بس بھارتی ہندو کو ہی ملازمت ملتی ہے. اور اگر وہاں پر کوئی پاکستانی پہلے سے ملازم ہو تو اسے نکال کر ہی دم لیتے ہیں.مراری نے ہمیں دونوں دوکانیں دکھائیں جو بند ہو چکی تھیں. دوکانوں کے ساتھ ہی ملحقہ دو اپارٹمنٹ میں وہ رہتے تھے. ماہا ان دونوں اسرائیلی جو فلسطینی کے بھیس میں تھے سے ملنے سے بھی کترا رہی تھی کہ یقیناً ان کو ماہا کے متعلق انفارم کر دیا گیا ہو گا. اور حسن اتفاق کہ وہ دونوں گھر پر موجود نہ تھے. دوسرے نیٹ ورک کے سربراہ کو ملنے ہم پیٹرومین کیمپ گئے. معلوم ہوا کہ سربراہ ابھی ابھی شہر گیا ہے. تیسرا نیٹ ورک پلانٹ پر کام کرتا تھا. ماہا نے مراری سے کہا کہ ان کے سربراہان کے نمبر دو فون پر رابطہ کروں گی. دراصل ہم فوری طور پر ان کے خلاف کاروائی کرنے کی حالت میں نہ تھے. اس وقت تو ہمیں ان کے نام تعداد اور رابطہ نمبر چاہیے تھے. اب صرف مراری کے کارکنوں کا پتہ کرنا تھا. مراری بہت ہی چالاک صفت شخص تھا. ہمیں سب کچھ بتانے کے باوجود اسے ہم پر پورا یقین نہیں تھا. جب ماہا نے اس کے ساتھیوں کے نام پوچھے تو بولا کہ میڈم اپنے گروپ کا لیڈر میں ہوں آپ میرے گروپ سے جو بھی کام لینا چاہتی ہیں وہ مجھے بتا دیں میرے ساتھیوں سے آپکا کیا واسطہ؟
مراری کے یہ کہنے پر کہ میرے کارکنوں سے آپ کا کیا واسطہ ہمارے تعلق کوئی کام ہے تو مجھے بتائیں سن کر ماہا نے سخت لہجے میں جواب دیا. مسٹر مراری میں نے سئنیر ہونے کے باوجود تم کو اپنی شناخت کروائی. بلکہ اپنے سارے گروپ کو تمہارے سامنے کردیا. اور آپ یہ جانتے ہوئے بھی آپ موساد کے لیے کام کر رہے ہیں. اور اس کا نہایت معقول معاوضہ بھی لے رہے ہیں. اور آپ کے بیان کے مطابق کہ آپ بھارتی انٹیلیجنس کے لیے بھی کام کر رہے ہیں. مجھے تو ایسا محسوس ہو رہا ہے. کہ آپ موساد کی دی ہوئی سہولتوں اور پیسوں سے موساد کی بجائے اپنے ملک کے لیے زیادہ کام کر رہے ہیں. آپ کو علم ہونا چاہیے کہ میں کتنے اہم عہدے پر فائز ہوں. اور تم جیسے جوئنیر کا انداز مخاطب مجھے بلکل پسند نہیں ہے. میں چاہوں تو صرف ایک وائرلیس پیغام کے ذریعے تمہاری نہ صرف موساد سے ملازم ختم کروا سکتی ہوں. بلکہ سعودی عرب سے بھی تم نکلوا سکتی ہوں. ماہا نے یہ بات اتنے ٹھوس لہجے میں کہی کہ مراری کا دم خم جواب دے گیا. میڈم میں اپنی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں دراصل آپ کے بسواس کو ختم کروانے سے میں گھبرا گیا تھا. مراری نے معذرت خواہ لہجے میں کہا جسم کے اگر ایک بازوکو خطرناک زہریلا زخم لگ جائے تو اسے کٹوا دیاجاتا ہے بجائے اس کے وہ زہرسارے جسم میں پھیل جائے. بسواس کو ختم کروا کر میں نے تینوں نیٹ ورکس اور تمہارے نیٹ ورک کو بھی گرفتار ہونے سے بچایا ہے. میں نے تمہارے نیٹ ورک کے کارکنوں کے نام اس لیے پوچھے تھے کہ کہیں بسواس نے مرنے سے پہلے ان کے نام نہ بتا دئیے ہوں.
آپ صحیح کہتی ہیں میڈم اب مجھے اپنے ساتھیوں کے نام اور پتے بتانے میں کوئی حرج نہیں. ہے.مراری نے موساد میں اپنی ملازمت بچانے کے لیے ہتھیار ڈال دئیے تھے. سب سے پہلے گیسٹ ہاؤس چل کر پلانٹ پر کام کرنے والے انجنئیر کو فون پر پیغام دو کہ میں آج کل یہاں ہوں. یہ کہہ کر ماہا چپ ہو گئی. گیسٹ ہاؤس پہنچ کر میں نے مراری سے کہا کہ اپنی گاڑی پارکنگ میں لگا دو. ہم سب دوسری منزل پر ڈرائنگ روم میں آ گئے. مراری گہری نظروں سے ہم سب کا جائزہ لے رہا تھا. ماہا نے مجھے حکم دیا کہ تم مسٹر مراری سے انجنئیروں کو فون کراوؤ اور اس کے ساتھیوں اور اس کا ایڈریس اور فون نمبر بھی لے لو میں ہیڈ کوارٹر رابطہ کرنے جا رہی ہوں. اب یہ تمہارا مہمان ہے (He is now your gest) یہ کہہ کر ماہا ڈرائنگ روم سے چلی گئی. میں نے قیصر کو کہا کہ پیڈ اور قلم لے آؤ تاکہ شری مراری اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ایڈریس لکھ دے. مراری نے جب سب کچھ لکھ دیا تو بولا اب مجھے فون دو تاکہ میں پلانٹ پر فون کر کے میڈم جینی کے بارے میں انجنئیروں کو بتا سکوں. میں نے کہا کہ ڈرائنگ روم میں فون نہیں ہے اور ریسیپشن والا فون اس کام کے لیے یوز نہیں ہو سکتا میڈم کے کمرے میں فون ہے جب تک وہ اجازت نہ دیں ہم یوز نہیں کر سکتے. لہٰذا اس وقت تک انتظار کرو جب تک کہ میڈم وائرلیس پر پیغام دے کر واپس نہیں آ جاتیں. یہ کہہ کر میں مراری کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا اور میرے ساتھیوں کو جہاں جگہ ملی وہی بیٹھ گئے. میں نے مراری سے کہا کہ میڈم کو تو تم نے سب کچھ بتا دیا ہے. تو دو تین میرے سوال ہیں اگر ان کے بھی جواب دے دو تو بڑی کرپا ہو گی. مراری نے پوچھا کون سے سوال..میں نے کہا پہلا سوال کہ تمہارا اور دوسرے تینوں گروپ پاکستان کے خلاف کن مشنوں میں ابھی تک کامیابی حاصل کر چکے ہیں. دوسرا سوال کہ آپ کے جدہ کے ایک گروپ لیڈر جگدیش ترپاٹھی کی ہلاکت کے بعد کیا اس گروپ کو دوبارہ منظم کر دیا گیا ہے. اور اگر ایسا ہے تو اس کا اب گروپ لیڈر کون ہے. مراری میرے سوال بڑی غور سے سن رہا تھا تھوڑی دیر سوچنے کے بعد مراری بولا. تمہارے یہ سوال کرنے کا مطلب جبکہ میڈم جینی نے مجھ سے یہ سوال نہیں پوچھے تھے. تو تم کیوں پوچھ رہے ہو. میں گروپ لیڈر ہوں اور تمہارے سوالات کا جواب دینے کا پابند نہیں ہوں. میرے ضبط کی اب انتہا ہو چکی تھی. اور میرے ساتھی بھی کرسیوں پر بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے. بڑی مشکل سے میں نے اپنے آپ پر ضبط کرتے ہوئے مراری سے کہا کہ دیکھو مراری شاید آج رات میڈم سے تمہاری ملاقات نہ ہو سکے.
لہذا آپ واپس جا سکتے ہیں. مراری یہ سنتے ہی اٹھا اور واپس جانے کے لیے اپنی گاڑی کی طرف چلا گاڑی کی چابی میرے پاس تھی. قیصر عمران اور عبداللہ میرے اشارے پر اس کے پیچھے لپکے مراری اتنا گھبرا گیا تھا کہ اسے گاڑی کی چابی کا خیال تک نہ آیا. جب وہ اپنی گاڑی تک پہنچا اتنی دیر میں ہم بھی وہاں پہنچ چکے تھے. ہم نے مراری کی گاڑی لاک نہیں کی تھی مراری نے مجھ سے چابی مانگی. میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ساتھیوں نے مراری کو دھکیل کر پیچھلی سیٹ پر بٹھا دیا. اور اس کے دونوں طرف قیصر اور عبداللہ بیٹھ گئے جبکہ میں نے سٹئرنگ سنبھال لیا اور میرے ساتھ عمران بیٹھ گیا. مجھے یکایک کچھ خیال آیا میں نے پیچھے منہ کر کے قیصر کے کان میں کچھ کہا قیصر تیزی سے گاڑی سے نیچے اترا اور گیسٹ ہاؤس کے اندر جا کر 5 منٹ تک واپس آ گیا. مراری کے لیے میڈم جینی کے تحت کام کرنے والوں کا غیر شریفانہ اور جاسوسی کے اصولوں کے خلاف رویہ ناقابل فہم تھا. اس سے پہلے کہ وہ شور کرتا یا احتجاج کرتا عبداللہ اور قیصر کے چاقوؤں کی نوکوں میں زد دیکھ کر خاموش رہا. میں نے گاڑی فلسطینیوں کے بھیس میں چھپے دونوں ایجنٹوں کی رہائش گاہ کیطرف جانے والی سڑک کیطرف موڑی اور ایک سنسان جگہ پر گاڑی روک دی. بیک ویو مرر سے ایک گاڑی کی ہیڈ لائٹس دکھائی دے رہی تھی. یہ گاڑی گیسٹ ہاؤس سے ہمارے پیچھے آ رہی تھی. اور ہمارے رکتے ہی وہ تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر ہم سے دور کھڑی ہو گئی. اور اس کی بتیاں مدھم ہو گئیں. عمران کے کہنے پر گاڑی جے سی او منصف لایا تھا. میں نے مراری کی جانب رخ کرتے ہوئے کہا مراری تم نے میرے سوالوں کے جواب نہیں دئیے لیکن تمہاری آتما کی شانتی کے لیے میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ گروپ لیڈر جینی نہیں میں ہوں. اور ہم سب کا بس ایک مشن ہے کہ موساد اور بھارتی انٹیلیجنس اداروں کو اس حد تک مفلوج کر دیں. کہ انہیں ریگروپنگ میں برسوں لگ جائیں. جدہ میں تمہارے جنرل جگدیش راجیش گروپ کو ہم نے ختم کر کے وہاں تمہارے نیٹ ورک کو توڑ دیا. اور اب ینبع میں تمہاری اور موساد کی مشترکہ نیٹ کو توڑ دیں گے جس کی ابتداء تم سے ہو گی. تمہارے دھرم میں آقا گون یعنی ایک بار مرنے کے بعد دوبارہ جنم لینے کو مانا جاتا ہے. اس لیے تم سے کہہ رہا ہوں کہ جب تمہاری آتما دوسری آتماؤں سے جا کر ملے تو انکو ایک بات بتلا دیناکہ وہ بھی دوبارہ جنم لیں تو ہمیشہ ایک بات یاد رکھیں کہ اندرونی طور پر ہم پاکستانی چاہے آپسمیں کتنے ہی ایک دوسرے کے مخالف ہوں. لیکن جب بھی بیرونی دشمن بھارت اسرائیل یا نصرانیوں سے مقابلہ کرنے کا وقت آیا. تو ان شاء اللہ ہر پاکستانی جبرالٹر کی طرح مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا ثابت ہو گا. اور جب ایک بھی پاکستانی زندہ رہے گا وہ اپنے جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دے گا.
گاڑی کی اندرونی ہلکی لائٹس میں مجھے مراری کی پھٹی پھٹی آنکھیں صاف دکھائی دے رہی تھیں. میں نے قیصر اور عبداللہ کو کہا کہ اب یہ تمہارا شکار ہے. دونوں نے بیک وقت چاقو مراری کی سائیڈوں میں گھونپنے اور اس وقت نکالے جب مراری کی جان نکل گئی. عمران نے اپنے ہاتھوں سے مراری کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کے جس کو سیٹ کے ساتھ لگا رکھا تھا. گاڑی کے شیشے چڑھے ہوئے تھے اور سے سی فل رفتار سے چل رہا تھا. میں نے مراری کی گاڑی دونوں یہودی ایجنٹوں کی رہائش کے بلکل نیچے کھڑی کی. اور پھر اس میں سے اتر کر اپنی گاڑی میں جے سی او کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے. گیسٹ ہاؤس پہنچ کر قیصر اور عبداللہ نے وہ لباس جس پر مراری کے خون کے نشان لگے تھے آتش دان میں جلا دئیے. اگلی صبح ماہا میرے کمرے میں آئی اس کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ رات بھر سو نہ سکی ہو. میں نے مراری کے متعلق بتانا چاہا تو اس نے کہا کہ عمران پہلے ہی اسے سب کچھ بتا چکا ہے. ماہا نے کہا کہ کل رات جب ہم فلسطینیوں کے بھیس میں چھپے موساد کے ایجنٹوں کی دوکانوں پر گئے تھے. دوکانیں تو اگرچہ بند تھیں. مگر میرے ساتھ کھڑی گاڑی میں موساد کا ایک ایجنٹ بیفل مجھے دیکھ رہا تھا. غالباً اس نے مجھے پہچان بھی لیا تھا. کیونکہ اس نے موساد کے ایجنٹوں کی خصوصی نشانی وہ انگوٹھی میرے سامنے کر دی. جس FMفری میسن لکھا ہوتا ہے. یہ چوکور انگوٹھی ہمیشہ الٹی پہنی جاتی ہے. صرف پہچان دلانے کے لیے اسے سیدھے رخ پر کیا جاتا ہے. بیفل نے میرے ساتھ ٹریننگ لی تھی. اور موساد سے میرے قطع تعلق کو بھی وہ بخوبی جانتا ہے. بنکاک میں اسی نے مجھے وارننگ دی تھی. کہ میں نے اپنا فیصلہ نہ بدلا تو وہ مجھے زبردستی اسرائیل لے جائیں گے یا پھر جہاں بھی موقع ملا موساد کے ایجنٹ مجھے ختم کر دیں گے. ماہا کی بات سن کر میں بھی پریشان ہو گیا لیکن میں نے کہا کہ اول ایسی نوبت ہی نہیں آے گی. اگر کہیں ایسا ہوا تو تم اکیلی نہیں ہو گی ہم سب تمہارے ساتھ ہوں گے آج سے دونوں سپاہی ہمہ وقت تمہاری نگرانی کریں گے. اور سعودی عرب میں رہتے ہوئے تم اپنی رہائش گاہ سے باہر نہیں نکلنا. اور میں نے ماہا کو بھرپور یقین دلایا کہ بحیثیت گروپ لیڈر تمہاری زندگی کی حفاظت میری ذمہ داری ہے. او ر ہم سب ساتھی تمہاری سلامتی کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگا دیں گے. ماہا نے کہا کہ مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں ہے اگر اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر موساد سے الگ ہوئی ہوں تو اب حق اور سچ کا ساتھ دینے میں میرے قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے. لیکن میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی کہ موساد کے وسائل اس قدر وسیع ہیں کہ وہ مجھے پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے.
 
جاری ہے
جانباز محمّد عنصر  عبّاس
تحریر ابو شجاع ابو وقار
قسط نمبر 62
 
ماہا کو ساتھ لے کر میں ڈرائنگ روم میں آ گیا اور سب ساتھیوں کو بلا کر انکی جنرل میٹنگ کی. اور انہیں ماہا کے بقول یہودی ایجنٹ ہیفل کا ماہا کو پہچاننے کا بتایا. میرے تمام ساتھیوں کا ایک ہی جواب تھا کہ ہم ماہا کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں گے. عمران اور قیصر کہنے لگے کہ ہم آج ہی ان یہودی ایجنٹوں کی دوکانوں پر دھاوا بولیں اور انہیں ختم کر دیں. لیکن میں نے انہیں سمجھایا کہ ہمیں جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا ہو گا. یہاں کی حکومت جب خود امریکہ کے آگے بے بس ہے تو ہمارے دن دھاڑے ان ایجنٹوں کو ہلاک کرنے پر ہمارا دفاع نہیں کرے گی. خصوصی طور پر جب ہم نہ تو اس ملک کے شہری ہیں اور نہ ہی لیگل ویزے پر یہاں آئے ہیں. علاوہ ازیں ابھی تک ہمیں بس باغیوں سے اسلحہ کی برآمدگی کا کہا گیا تھا جو ہم نے کر دیا. اس کے علاوہ ہم جو کچھ بھی کریں اس میں ہمیں حکومت اور فوج کی پشت پناہی حاصل نہیں ہو گی. میں نے ساتھیوں کو کہا کہ یہودی ایجنٹ نے ماہا کو پہچان کر شناخت کے لیے اپنی انگوٹھی سامنے کر دی تھی. جس پر FM فری میسن لکھا ہوا تھا.قارئین کرام کو شاید فری میسن کا علم نہ ہو اس لیے یہاں میں مختصراً عرض کرتا ہوں. رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات میں ہی یہودیوں کو اپنا وطن نا ہونے اور دربدر ہونے کا علم ہو گیا تھا. اس وقت سے لے کر اسرائیل کے قیام تک یہودیوں کا کوئی وطن نہ تھا. اور کوئی ملک اور جھنڈا بھی نہ تھا. یہودی دنیا بھر کے ممالک میں پھیلے ہوئے تھے. یہودیوں نے دنیا بھر کے ممالک میں پھیلے یہودیوں سے رابطے اور دوسری اقوام کو اپنے جال میں پھانسنے اور بلیک میل کرنے کے لیے ایک دینی تنظیم بنائی. جس کا نام فری میسن رکھا. اس تنظیم کے ممبروں جس میں یہودی عیسائی مسلمان ہندو اور سب ہی مزہبوں کے لوگ شامل تھے. اپنی شناخت کے لئے ایک خصوصی انگوٹھی جس پر کونوں والے ستارے کے اندر FMلکھا ہوتا تھا. دی جاتی تھی. اور مزید شناخت کے لئے ایک مخصوص انداز میں ہاتھ ملایا جاتا تھا. اس تنظیم نے اپنے ممبروں کے دنیا بھر میں پر شکوہ عمارات تعمیر کی تھیں. برصغیر کی تقسیم کے بعد غالباً 8فری میسن ہال دہلی بمبئ کلکتہ شملہ اور مدراس وغیرہ میں تھے. لاہور میں اسمبلی ہال کے بلکل سامنے مال روڈ اور کوئیزروڈ کے چوراہے پرفری میسن ہال کی عالیشان عمارت اب بھی موجود ہے. اس تنظیم کی ممبر شپ حاصل کرنا آسان نہ تھا. جو ایک بار ممبر بن جاتا اسے قطعاً یہ اجازت نہ تھی کہ وہ غیر ممبروں کو یہ  بتاے. کہ ہال کے اندر کیا ہوتا ہے. اعلی سرکاری افسران اونچے طبقے کے کاروباری لوگ اور یہودیوں کے ہمدردوں کو بڑی چھان بین کے بعد فری میسن کا ممبر بنایا جاتا تھا. قیام پاکستان کے بعد یہ تنظیم پوری آن بان شان سے لاہور کے فری میسن ہال میں اپنی خفیہ میٹنگز کرتی رہی. بھٹو صاحب کا عوامی دور شروع ہوا تو مصطفیٰ کھر نے جو گورنر اور پنجاب کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے. اس تنظیم کی ممبر شپ نہ ملنے پر پولیس فورس کے ذریعے فری میسن کے دروازے کھلواے اندر کیا ہو رہایا کیا کچھ ملا  تھا آج تک پتہ نہیں چل سکا.
 
 امریکہ  نے ایک آزاد تنظیم کے ہال پر قبضہ کرنے پر پاکستان سے باقاعدہ احتجاج کیا. اور بھٹو صاحب کو امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ( وزیر خارجہ) ہنری کسنجر نے خاص ڈانٹ پلائی.اور تبھی سے وہ بھٹو کا ذاتی مخالف بھی بن گیا. ہنری کسنجر یہودی تھا. اور کھلے بندوں اپنے یہودی ہونے کا اقرار کرتا تھا جب موساد نے زور پکڑا تو اسی تنظیم کے ممبروں (میں پاکستان کی بات کر رہا ہوں) کو اپنے اندر سمو لیا اور یہ سابقہ فری میسن پاکستانی  چھپ کر اور اعلانیہ پاکستان کے مفاد کے خلاف اب تک کام کر رہے ہیں. پاکستان میں فری میسن کے ممبروں کی تعداد میں قادیانیوں کی تعداد زیادہ ہے. ہماری میٹنگ ابھی جاری تھی کہ کرنل نبیل آ گیا. اس نے بتایا کہ باغیوں کی سرکوبی کی ذمہ داری یہاں کے کمانڈنگ آفیسر کو سونپ دی گئی ہے. اور ایک فلسطینی کے گھرکے بلکل سامنے ایک بھارتی کی لاش اسکی گاڑی سے ملی ہے. میں نبیل کے دل کی بات سمجھ چکا تھا. میں نے کہا کہ اب ینبع میں ہمارا قیام بے سود ہے. لہٰذا ہمیں واپس جدہ جانے کی اجازت دی جائے. نبیل نے کہا کہ صبح کی فلائٹ سے آپ لوگوں کی جدہ کے لیے سیٹیں بک کروا دی جائیگی. اور جدہ میں کمانڈر انچیف آپ سے عنقریب ملاقات بھی کریں گے. نبیل نے یہ بھی کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے تمام شہروں میں ہمارے دشمن مختلف قسم کے لبادے اوڑھے اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں. ہم انہیں ختم بھی کر سکتے ہیں. لیکن مغربی ممالک ہماری راہ میں ہائل ہیں. ہم ہر قسم کے اسلحہ کے لیے ان کے محتاج ہیں. ہماری تیل کی دولت کی حفاظت کے لیے یہ ممالک ہمارے دلوں میں مصنوعی خود پیدا کر کے ہمیں مسلسل بلیک میل کر رہے ہیں. اسرائیلی عراقی اور ایرانی فوجیوں کی کارروائیوں کا خوف دلا کر ہمیں یہ اپنا فرسودہ اسلحہ ہمیں فروخت کر رہے ہیں. اور وہ بھی مارکیٹ سے دوگنی قیمت پر. مارکیٹ سے کم داموں پر ہمارا تیل خرید کر ہمارے اندرونی معاملات میں بھی دخل اندازی کر رہے ہیں. اور دوسری طرف اسرائیل کو بلکل مفت اور ایران و عراق کو ہم سے بہت بہتر اور کم قیمت پر اسلحہ فروخت کر کے ہمارے سروں پر موت کا سایہ کھڑا کر رہے ہیں. آپ نے جس خلوص سے باغیوں کا اسلحہ برآمد کروا دیا ہے. اس کے لیے میں ذاتی طور پر پر سعودی حکومت و فوج آپ کی تہہ دل سے مشکور ہیں. میں نے کرنل سے پوچھا کہ مبشر اور بسواس کی کیا پوزیشن ہے. مبشر کا ہمارے ساتھ بھرپور تعاون اور حالات میں مجبوراً گر کر ایسا کرنے کیوجہ سے ہم پرزور سفارش پر اس کے رحم کی اپیل کا کیس عدالت میں بھیجیں گے اور بسواس اب وہی پہنچ چکا ہے جہاں آپ نے اس کے گروپ لیڈر کو پہنچایا دیا ہے. اب مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہ تھی. نبیل کے جانے کے بعد میں نے ساتھیوں سے کہا کہ کل صبح جدہ جانے کے لیے تیاری کر لیں. وہاں جا کر ہم مکہ جا کر الوداعی عمرہ ادا کریں گے.میرے ساتھی سمجھ گئے. کہ جدہ جا کر ہمیں بہت جلد سعودی عرب سے بھی جانا ہو گا. سب بہت خوش تھے کیونکہ یہاں کے گھٹن زدہ ماحول نے سب کو ڈسٹرب کر دیا تھا.
 اگلی صبح ساڑھے آٹھ بجے ہم ینبع ائیر پورٹ پر پہنچے. نبیل نے کہا تھا کہ چاروں گاڑیاں ہم ینبع ائیر پورٹ کی پارکنگ میں بمعہ چابیاں چھوڑ دیں. جنہیں بعد میں رینٹ اے کار والے لے جائیں گے. اپنا سارا اسلح کرنل نبیل کی ہدایت کے مطابق ہم نے گیسٹ ہاؤس میں انہیں سوٹ کیسوں میں رکھ دیا تھا جن میں بند کر کے ہمیں لا کر دیا گیا تھا. پارکنگ ایریا میں ہم اتر رہے تھے کہ ماہا نے مجھے ایک سرخ بی ایم ڈبلیو کیطرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا. کہ موساد کا یہودی ایجنٹ ہیفل اسٹئرنگ پر بیٹھا ہوا ہے. اور اس کے علاوہ ایک فرنٹ سیٹ اور دو پچھلی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے ہیں. کرنل نبیل ہمارے لیے ٹکٹ لینے ائیر پورٹ کی اندرونی جانب گیا ہوا تھا. مزمل نے یہ بات چند سیکنڈ تک باقی ساتھیوں تک پہنچا دی. ہمارے پاس اسلحہ تو نہیں تھا مگر عمران کے پاس آہنی مکا اور قیصر کے پاس چاقو تھا دونوں اس گاڑی کی طرف بھاگے عمران نے مکے سے ڈرائیونگ سیٹ کا شیشہ توڑا قیصر نے چاقو سے وار کیا جو اچھا پڑا ہیفل کے بازو کے آر پار ہی ہو سکا. وہ اچانک حملے کا مقصد سمجھ گئیے انہوں نے تیزی سے گاڑی ریورس کی ہیفل جو ڈرائیو ر تھا اس کے بازو سے خون کا فوراہ نکل رہا تھا اس نے یکدم گاڑی کا فارورڈ گئییر لگا کر قیصر کو گاڑی کے نیچے کچلنا چاہا مگر قیصر نے جمپ لگا دیا اوروہ بال بال بچا. ان کی گاڑی لائن میں کھڑی آگے والی گاڑی سے جا ٹکرائی. اب ہیفل نے بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی اس نے گاڑی باہر نکالی اور ائیر پورٹ سے نکل گیا قیصر اور عمران بھی واپس آ گئے اس اچانک واردات کا کسی کو بھی علم نہ ہو سکا. ہم نے اپنا سامان اٹھایا اورائیر پورٹ کی بلڈنگ کے اندر داخل ہو گئے نبیل ہمارے لیے ٹکٹس لیے کھڑا تھامیں نے بھی اسے اس واقعہ کے بارے میں کچھ نہ بتایا کیونکہ اب وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا. نبیل ہمیں الوداع کرتے ہوئے بولا کہ جدہ ائیر پورٹ وہی دو میجر آپ کے استقبال کے لئے کھڑے ہوں گے جو آپ کو جدہ سے ینبع الوداع کرنے آے تھے. آپ کے جدہ پہنچتے ہی کمانڈر انچیف کو انفارم کر دیا جائے گا اور جلد ہی ان سے آپکی ملاقات بھی ہو جائے گی ملاقات میں میری کارکردگی کا انکو ضرور بتانا. 35 منٹ کی فلائٹ کے بعد ہمارے جہاز نے جدہ ائییر پورٹ پر لینڈ کیا دونوں میجر ہمیں لینے کے لئے وہاں موجود تھے ٹیکسیوں میں وہ ہمیں ہمارے اپارٹمنٹ میں پہنچا کر ہم سے رخصت ہو گئے.شام تک دونوں خواتین نے گھر کی اور دونوں سپاہیوں نے گاڑیوں کی صفائی کی. اسی شام کو ہم بنی مالک گئے. اور لاہور ہوٹل کے مینجر کی وساطت سے پاسپورٹ اور ویزے بنانے والوں سے ملے. اور ان سے اپنے پاسپورٹوں پر ایران کےویزے لگوانے کی بات کی. ان کے کرتا دھرتا نے کہا کہ وہ دو ہزار ریال فی ویزہ لیں گے. لیکن پہلے ہمیں پاکستان کراچی ائیر پورٹ پر جانا ہو گا اور وہاں سے ایران کے جہاز پر مہر آباد تہران جا سکیں گے. کیونکہ سعودی عرب سے ماسوائے دبئی کے کوئی فلائٹ ایران نہیں جاتی. ویزوں کے متعلق اس نے یقین دلایا کہ اصلی اور نقلی میں پہچان نہیں ہو سکےگی. ان سے معاملات طے کر اگلے روز میں نے سب ساتھیوں کے پاسپورٹ اور 22ہزار ریال ایجنٹ کے حوالے کر دئیے اور اس سے اگلے روز ہمیں ایران تہران کے لگے ویزوں کے ساتھ پاسپورٹ مل گئے. جدہ پہنچنے کے اگلے روز میں پاکستانی سفارتخانے فرسٹ ملٹری اٹاچی سے ملنے گیا. جنرل صاحب بڑی آؤ بھگت سے مجھے اپنے دفتر میں لے گئے اور بتایا کہ سعودی حکومت نے ایک خط سفیر اور ایک مجھے بھارتی جاسوسوں کی نشاندہی کرنے پر ہمارا شکریہ ادا کرنے اور ہماری معاونت کو سراہنے کے اظہار کے لیے بھیجے ہیں. مجھے اور میرے ساتھیوں کو ظاہری نمودو نمائش کی ضرورت نہ تھی. اور خطوط میں ہمارا ذکر نہ کر کے ایک بہت بڑا کام یہ کیا تھا کہ ہمارے آئندہ والے مشنوں کے لیے بہتری پیدا ہو گئی تھی. جنرل صاحب نے مجھے بتایا کہ اس خط کی کاپی کے ساتھ ایک تمہارے متعلق مفصل روپوٹ تمہارے سابقہ محکمے کو بھیج دی ہے. جس میں ہماری کارکردگی کی بنا پر بھارتی نیٹ ورکس کا قلع قمع تمہارے ہاتھوں ہوا ہے. جنرل صاحب نے سعودیہ حکومت کے خط کی کاپی اور اپنی بھیجی گئی روپوٹ کی کاپی مجھے دی تاکہ اگر ضرورت پڑے تو محکمے کے افسران کو دکھا سکوں. میں نے جنرل کو ینبع میں باغیوں کے چھپائے ہوئے اسلحہ کی برآمدگی اور جاسوسی نیٹ ورک کی تفصیل بتائی تو جنرل نے کہا کہ یہاں کی حکومت مغربی ممالک کے ہاتھوں اس حد تک بے دست وپا ہو چکی ہے کہ اپنے ملکی مفاد کے لیے کام کرنے کی بھی اجازت ان سے لینی پڑتی ہے. دو روز بعد کرنل نبیل جدہ آ کر مجھے ملا اور کہنے لگا کہ کمانڈر انچیف بہت جلد آپ سے ملاقات کریں گے. سعودی عرب میں ظاہری طور دوکام تھے ایک کمانڈر انچیف سے ملاقات اور دوسرا عمرہ کی ادائیگی عمرہ کی ادائیگی کا پروگرام میں نے لاسٹ میں رکھ لیا کیوں کہ عمرہ ادا کرنے کے بعد میں یہاں مزید قتل و غارت نہیں کرنا چاہتا تھا. اب چند سطور ملکی حالات پر تبصرہ ہو جائے کیونکہ یہ بھی میری کہانی کا ایک حصہ ہے ملک میں امن نہ ہو تو پورے ملک کے ہر گھر میں بے سکونی رہتی سواے غداروں کے کیونکہ بے سکونی کے دنوں میں وہ سکون سے رہتے ہیں اور ملک میں سکون والے حالات ہوں تو غدار بے سکونی میں رہتے ہیں.
 میں کئی روز سے اسی سوچ میں غلطاں ہوں اور دنیا کے نقشے پر کسی ایسے ملک کی تلاش میں ہوں. کہ جس ملک کے تاجر اور کاروباری حضرات اس لیے کئی روز سے ہڑتال پر ہوں کہ وہ حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کریں گے. حالانکہ یہ سیلز ٹیکس بالآخر خریدار کو ہی ادا کرنا پڑے گا. اور تاجروں کو اسسے کوئی نقصان نہیں ہو گا. جس ملک کے تاجر یہ کہیں کہ ان کے گودام غیر ملکی اسمگلنگ شدہ مال سے بھرے پڑے ہیں لہذا ہم اپنا سامان بھی چیک نہیں کرنے دیں گے. کیونکہ ہم نے سامان باقاعدہ درآمد کر کے ڈیوٹی بھی ادا نہیں کی. بلکہ کھیپوں اور دوسرے ناجائز ذرائع سے منگوایا ہے. اور منگواتے رہیں گے. جس ملک میں اسمگل شدہ مال پہلے ایک سرحدی قصبے سے ملتا تھا. لیکن اب ہر شہر میں باڑہ مارکیٹیں بن گئی ہوں. بلکہ بلڈرز نے ملک کے سب سے بڑے شہر میں باڑہ مارکیٹ تعمیر کی ہو. جہاں کی جیولری کی مارکیٹیں اس لیے بند رکھی جائیں. کہ چیکنگ پر ان کا 90فیصد سونا غیر قانونی ذرائع سے دبئی کی رزاق اینڈ کمپنی کے ذریعے آیا ہو. جہاں ویڈیو کیسٹ والے کہیں کہ اب ہم بغیر رائٹ کے کیسٹس فروخت کررہے ہیں. اور جب تک یہ سٹاک ختم نہ ہو جائے. ہم سے کاپی رائٹ کی بات نہ کریں. جہاں دھواں چھوڑتی لوکل بسیں سڑکوں پر آگے پیچھے نہیں بلکہ ایک ساتھ ریس لگاتی اور پیدل چلنے والی عوام کو ہر روز کچلتی رہیں. جو بغیر سٹاپ کے جہاں ڈرائیور اور کنڈیکٹر چاہے سواری اتارنے چڑھانے کے لیے روک لیں. جہاں کے رکشہ ڈرائیور سائلنسر کی جالی اتار کرٹینک چلنے کی آواز پیدا کرتے ہوئے سڑکوں پر دوڑیں. اور ٹریفک پولیس بسوں اور رکشہ ڈرائیورز کی دھاندلی دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہیں. انہیں پبلک سیفٹی کی نہیں بلکہ منتھلی کی ضرورت ہے. جہاں کی پولیس کی نگاہ میں ہر فرد مجرم ہو. جب تک وہ اپنی بے گناہی ثابت نہ کر دے. جہاں ٹیکسیوں کے میٹر اتنا زیادہ کرایہ بڑھا کر دکھائیں. جس میں چھوٹا ہوائی جہاز چارٹر ہو سکے. جہاں کی نوکر شاہی اپنی فرعونیت کیوجہ سے سراہنے کی بجاے الٹااثر لیں. جہاں لاکھ دو لاکھ کا فراڈ کرنے کے الزام میں پولیس ملزم کو الٹا لٹکا دے. لیکن گورنمنٹ سے پونے تین ارب کا فراڈ کرنے والے صدرالدین گھانچی کا ایف آئی اے کا افسر کھڑے ہو کر استقبال کرے اور چاے بسکٹس سے اسی کی تواضع کرے. جہاں کے کثیر الاشاعت اخبار معزول گرفتار اور سزا یافتہ سابقہ  وزیراعظم سے کڑوڑوں روپے لے کر اسے بے گناہ اور فرشتہ ثابت کرنے کے لیے اپنے اخبار کے صفحات وقف کر دیں. جہاں جمہوریت کا جنازہ نکالنے والے سیاستدان جو ماضی میں کبھی بھی مل کر نہ بیٹھے ہوں اور نہ ہی ملک کی اصلاح کے لیے کوئی کام کیا ہو. وہ ملکی محبت سے سرشار اور ملک میں پھیلی گندگی اور غلاظت کو دور کرنے کےلیے ایک شخص اور ملک کی سالمیت کے لیے جان دینے والے اداروں کی مخالفت میں صرف اس لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں کہ اس شخص اور ملک کے انتہائی منظم ادارے نے وردی پہن رکھی ہے. ساری دنیا کا نقشہ دیکھنے کے بعد بار بار میری انگلی صرف پاکستان کے نقشے پر ہی ٹھہرتی ہے. جس طرح امریکہ کے دریافت ہونے پر ساری دنیا اس ملک پر چڑھ دوڑی تھی. تاکہ اسکی دولت اور وسائل پر قبضہ کر سکیں. اسی طرح پاکستان میں سیاست ایک اتنا منافع دینے والا کاروبار بن چکا ہے. کہ صوبائی اسمبلی کے الیکشن پر لاکھوں اور قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے کروڑوں روپے لٹا دئیے جاتے ہیں.؛ اور ان اخراجات کی جب تک 8 گنا زیادہ وصولی نہ ہو جائے تب تک ان ممبران کے منہ سے رال ٹپکتی رہتی ہے. ہمارے ہاں جمہوریت کا آغاز ہی لوٹ مار سے ہوا ہے. احمد شاہ بطرس بخاری نے برسوں پہلے ایک محفل میں یہ بات کہی تھی. جو آج بھی میرے دل پر نقش ہے. مرحوم نے کہا تھا. کہ باباے جمہوریت ابراہیم لنکن نے جمہوریت کی تشریح یوں کی تھی Government by the people for the people and of the people. ( عوام کی حکومت عوام کے لیے حکومت اور عوام سے حکومت) مرحوم بخاری نے کہا کہ پاکستان میں جس قسم کی جمہوریت ہے. اسکا تلفظ انگریزی میں تو وہی ہے. لیکن سپیلنگ مختلف ہیں. پاکستان کی جمہوریت Buy the people far the people end  of the people. ( عوام کو خریدتی ہے عوام کو دور کرتی ہے اور عوام کو ہلاک کرتی ہے) پطرس مرحوم کی اس طنز کا صحیح لطف صرف انگریزی جاننے والے ہی اٹھا سکتے ہیں. میں نے کوشش کی ہے کہ اردو جاننے والے قارئین بھی اس طنز کو سمجھ سکیں. پطرس بخاری کوئی معمولی فہم کے آدمی نہیں تھے. وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے تھے. اور جنرل کونسل اور سلامتی کونسل میں انکی تقاریر تاریخی حیثیت رکھتی ہیں. قارئین خدارا اپنے ضمیر اور دل کو جج بنائیں. اور خود فیصلہ کریں. کہ پاکستان میں جمہوریت کے دور نے پاکستانیوں کو کیا دیا. اب ایک اولوالعزم جنرل نے ملک کی بہتری کا بیڑا اٹھایا ہے تو ہم کھلے دل سے کم از کم اسے وہ مدت تو پوری کرنے دیں. جو سپریم کورٹ نے اسے دی ہے. اگر ہم اس بار بھی خارش زدہ سیاستدانوں کے فریب میں آ گئے تو ہماری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں.
اگلے دن سپاہی اکرم نے مجھے بتایا کہ دو سفید کرونا گاڑیاں صبح سے ہمارے اپارٹمنٹ کے سامنے اور ارد گرد منڈلا رہی ہیں. میں نے کہا کہ ہو سکتا ہے یہ تمہارا وہم یہاں گاڑیوں کی آمد ورفت تو جاری رہتی ہے. بہرحال پھر اپنی آنکھیں کھلی رکھنا اور میں خود بھی ان کو نوٹ کروں گا ان کے چہرے یاد رکھنے کی کوشش کرنا. نمبر تو وہ پہلے ہی نوٹ کر کے مجھے دے چکے تھا. اور میں خود اپارٹمنٹ کی گیلری میں آ کر بیٹھ گیا.مجھے وہاں بیٹھے زیادہ سے زیادہ 30 منٹ گزرے ہوں گے. کہ سپاہی دین محمد نے مجھے سیٹی بجا کر متوجہ کیا اور دو سفید کرونا کی اشارہ کر کے بتایا کہ یہ ہیں یہ دونوں گاڑیاں پچاس میٹر کا فاصلہ رکھ کر آگے پیچھے آہستہ روی سے چل رہی تھیں. ہمارا اپارٹمنٹ شاہراہ فلسطین سے دائیں جانب نکلنے والی لین میں تھا جو آگے جا کر مین شاہراہ فلسطین سے جا کر مل جاتی تھی. اس لین میں چار پانچ بنگلے اور چار ایسی بلڈنگز تھیں. جن میں اپارٹمنٹ بنے ہوئے تھے. یہ گاڑیاں لین سے آگے جا کر نظروں سے اوجھل ہو گئیں. ان دونوں گاڑیوں میں چار چار افراد بیٹھے ہوئے تھے. سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ کون لوگ ہیں. اور یوں بار بار اس لین میں آنے کا انکا مقصد کیا ہے. جو اسرائیلی ایجنٹ ینبع میں ماہا کے پیچھے لگے ہوئے تھے. وہ ینبع ائیر پورٹ پر بھی پہنچ گئے تھے. حالانکہ ہماری وہاں سے روانگی کا علم میرے ساتھیوں اور نبیل کے سوا کسی کو نہ تھا. اب جدہ میں بھی ہماری نگرانی شروع ہو گئی تھی. ان دونوں گاڑیوں کا بار بار اس لین میں آنے کا کچھ نہ کچھ مقصد ضرور تھا. اگر ہماری نگرانی کرنے والوں کو ہماری رہائش گاہ کا علم ہوتا تو بلاوجہ اس لین میں اپنی گاڑیاں نہ بھگاتے. میں نے ینبع سے جدہ آنے تک حالات کی کڑیاں ملائیں. تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی ہماری نقل وحرکت کے متعلق جاننا چاہتا ہے.
لیکن اسے ہماری صحیح لوکیشن نہیں مل رہی ایسا کون ہو سکتا ہے. میں اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک مجھے پاکستانی سفارتخانے اور سعودی عرب کے مختلف شہروں میں لگے ٹرانسمیٹر کا خیال آیا. اگر کسی نے مائیکروٹرانسمیٹر ہمارے سامان میں نصب کر دیا ہو تو محدود حدود کے اندر اس ٹرانسمیٹر سے ہماری لوکیشن معلوم کی جا سکتی ہے. اس معمے کا حل ڈھونڈتے ہوئے میرے دماغ نے جواب دیا. میں نے ایک مفروضے کی کڑیاں ملاتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا تھا چنانچہ میں نے اپنا اور اپنے ساتھیوں کے بیگز اور سامان کی تلاشی لی تو مجھے رضی کے بیگ کے ساتھ ایک چپٹی شکل کی پن لگی دکھائی دی. اگر وہ پن سوٹ کیس کا حصہ ہوتی تو یقیناً دوسری سائیڈ پر بھی ویسی ہی پن ہونی چاہیے تھی. پھر سوٹ کیس کے پہلوؤں پر پن کا کیاکام. سو میں نے اس پن کو کھینچ کر سوٹ کیس سے الگ کیا تووہ چھوٹا مائیکروٹرانسمیٹر تھا. اور ینبع سے ہماری روانگی کے وقت گیسٹ ہاؤس کے سٹاف میں سے کسی نے یہ رضی کے سوٹ کیس کے ساتھ چھبو کر فٹ کر دیا تھا. میں نے اس ٹرانسمیٹر کو باتھ روم میں لے جا کر اپنے جوتے کے نیچے رکھ کر کچل دیا. اور فوری طور پر باقی ساتھیوں کی میٹنگ بلا کر انہیں صورت حال سے آگاہ کیا. میں نے ساتھیوں کو بتایا کہ یہاں جدہ میں جو لوگ ہماری لوکیشن ڈھونڈ رہے تھے ابھی تک وہ ہماری صحیح لوکیشن تک نہیں پہنچ سکے. اس لیے وہ بار بار اس لین کے چکر کاٹ رہے ہیں. کیونکہ ان کی گاڑیوں میں لگے ٹرانسمیٹر کو کم زور ہی سگنل مل سکے ہوں گے. ہمارے چہروں سے وہ شناساں نہیں ہیں لہذا جب وہ اپنی ناکامی کا ہیفل کو بتائیں گے تو ہیفل خود یہاں پر آے گا. بشرطیکہ اس کے بازو کا زخم ٹھیک ہو گیا ہو. یہاں آنے پر ہم حالات کے مطابق اس سے نمٹنے کی تدبیر سوچیں گے. عمران اور قیصر میٹنگ ختم ہوتے ہی اپنے کمروں میں چلے گئے. دونوں سفید گاڑیاں ابھی بھی ہماری لین کا چکر کاٹ رہی تھیں. ہماری میٹنگ ختم ہوے تقریباً 30 منٹ ہی گزرے ہوں گے. کہ ارپے درپے کئی دھماکوں سے ہمارے اپارٹمنٹس کے درودیوار لرز اٹھے. نچلے فلور پر آیا تو سب ساتھی وہاں جمع تھے. اور کچھ دیر بعد عمران اور قیصر بھی ہم میں آ کر شامل ہو گئے. ہم ابھی قیاس آرائیاں ہی کر رہے تھے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ہوٹر بجاتی ہماری لین میں داخل ہوئیں. اور آگے جا کر لین کے دوسرے سرے پر پہنچ گئیں. میں نے رضی کو کہا کہ دیکھو جا کر کیا معاملہ ہے. عمران اور قیصر نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی بات اور پھر قیصر بولا کہ رضی کو بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں. جبکہ میں آپکو ساری بات بتا دیتا ہوں. ہم سب قیصر کیطرف متوجہ ہوئے تو قیصر نظریں نیچی کر کے گویا ہوا. سب سے پہلے تو ااس بات کے لیے عمران بھائی اور اپنے لیے آپ سے معافی چاہتا ہوں. کہ ہم نے ڈسپلن کو توڑا. اور آپ سے اجازت لیے بغیر ہی یہ کام کر ڈالا.
 میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی. میں نے قیصر کو کہا کہ تمہید نہ باندھو جو کچھ تم دونوں نے کیا ہے اسکی تفصیل جلدی بتاؤ. قیصر نے نظریں نیچی کیے ہوئے کہا کہ آپ نے جب مائیکروٹرانسمیٹر ملنے کے باوجود ان گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو میں اور عمران نے آپ کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا. ہمارے خیال کے مطابق ان گاڑیوں والوں کو یہ تو معلوم ہو چکا تھا کہ ان کے مطلوبہ یعنی ہم سب اسی لین کے کسی اپارٹمنٹ میں ٹھہرے ہوئے ہیں. تو وہ ینبع میں ہیفل کو فون کر کے ہمارے حلیوں کے متعلق پوچھ لیتے اور پھر آج ہی وہ ہم سب کو پن پوائنٹ پر رکھ لیتے. اگر انہیں صرف ہماری تلاش ہی مقصود ہوتی تو ایک گاڑی اور ایک دو بندے کافی تھے. دو گاڑیوں میں آٹھ افراد کا یہاں بار بار چکر لگانے کا مقصد صرف ہمیں تلاش ہی کرنا نہ تھا. بلکہ ہمارے خلاف کاروائی بھی کرنا تھا. آپ سے بحث کر کے آپ کو قائل کرنا تو ہمارے لیے ممکن نہ تھا. اور اس میں خاصا وقت بھی صرف ہو جاتا. لہٰذا میں نے اور عمران بھائی نے اپنے اسلحہ کے علاوہ دو دو ہینڈ گرنیڈ بھی ساتھ لیے. عمران بھائی گاڑی لے کر لین کے دوسرے پر جا کر کھڑے ہو گئے. جبکہ میں اپنی طوف والے داخلے کے رخ پر ہمیں اس پوزیشن میں کھڑے ہوے تھوڑی دیر گزری تھی. کہ دونوں سفید گاڑیاں لین میں داخل ہوئیں. عمران بھائی نے دور سے ان گاڑیوں کو آتا دیکھ کر اپنی گاڑی لین میں اس طرح کھڑی کر لی کہ کوئی اور گاڑی نہ گزر سکے. لین میں دونوں گاڑیوں کے داخل ہونے کے بعد میں نے اپنی گاڑی ان دونوں کے پیچھے لگا لی. آگے والی گاڑی جب عمران والی گاڑی کے قریب پہنچ کر رکی تو میں نے ہارن بجا کر پیچھے والی گاڑی کو بھی آگے والی گاڑی کے ساتھ لگنے پر مجبور کر دیا.جب دونوں سفید گاڑیاں ایک دوسرے کے قریب ہو گئیں. تو میں اور عمران تقریباً اکھٹے اپنی اپنی گاڑی سے اترے عمران نے آگے والی اور میں نے پیچھے والی گاڑی کے شیشے کھٹکھٹاے. جب انہوں نے اپنے شیشیے نیچے کیے تو ہم نے ایک ایک دستی بم پلان کے مطابق جن کی پن پہلے ہی ہم نے نکال دی تھی انکی گاڑیوں کے اندر پھینک کر اپنی اپنی گاڑی کیطرف بھاگے ابھی ہم اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھنے بھی نہ پاے تھے کہ یک دم دھماکہ ہوا اور پھر اس کے ساتھ ہی کئی دھماکے ہوئے ان کے انجنوں نے آگ پکڑ لی. ان کی گاڑیوں میں پہلے ہی بم رکھے ہوئے تھے جو انہوں نے ہماری رہائش گاہ پر  پھینکنے تھے ہمارے پھینکے بم پھٹنے کے ساتھ ان کے رکھے ہوئے بم بھی پھٹنے لگے جس کے نتیجے میں ان کی گاڑیاں زمین سے کئی فٹ ہوا میں بلند ہو کر نیچے کئی بار گریں ان میں موجود سواروں کا بچنا تو درکنار ان کی ہڈیوں اور ڈھانچے بھی پورے نہیں ملیں گے. دھماکے ہوتے ہی ہم اپنی اپنی گاڑیاں لے کر نکل گئے تھے. میں نے ریورس میں گاڑی چلائی جبکہ عمران بھائی شاہراہ فلسطین سے ہوتے ہوئے واپس پہنچے ہیں. فائر بریگیڈ والوں کو وہاں جلی ہوئی گاڑیاں اور آٹھ جلی ہوئی لاشوں کی ہڈیوں کے سوا کچھ نہ ملا ہو گا. میرے پوچھنے پر قیصر نے بتایا کہ دھماکہ ہوتے ہی عمران بھائی اپنی گاڑی شاہراہ فلسطین پر لے گیا تھا. لہذا اس کا تو کسی نے نوٹس نہیں لیا ہو گا میں نے ساری لین میں گاڑی ریورس چلائی ہے ہو سکتا لین میں مجھے کسی نے دیکھ لیا ہو.
میرے پاس اس بات کا معقول عذر ہے کہ میں لین سے گزر رہا تھا کہ آگے یکدم گاڑیوں میں شعلے بلند ہونے اور دھماکے ہونے لگے جس کیوجہ سے میں اتنا خوفزدہ ہوا کہ تنگ لین میں گاڑی موڑنے کی بجاے ریورس لیتا ہوا گھر پہنچ گیا. قیصر کے بولنے کے دوران سب ساتھی خاموش کھڑے رہے. اور اس کے بات ختم کرنے کے بعد بھی کسی کی خاموشی نہ ٹوٹی. سب میرے فیصلے کے منتظر تھے گو قیصر اور عمران ڈسپلن ضرور توڑا تھا. لیکن ان کا یہ فیصلہ قطعی درست تھا. اگر سانپ دکھائی دینے پر وہ ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے پہلے مجھ سے اسے مارنے کی اجازت لیتے تو اتنی دیر میں سابپ یقیناً غائب ہو جاتا. ہم سب ایک ہی مقصد کے تحت یہاں آے تھے کہ پاکستان کے دشمنوں کو ختم کرنا ہے. یا انکی کمر توڑ کر انہیں اتنا معذور کر دینا ہے. کہ وہ ہمارے وطن کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرنے کے قابل نہ رہے. عمران اور قیصر نے بھی ان سانپوں کو مارا تھا. جو ہم سے بدلہ لینے کے لیے ہم تک پہنچ گئے تھے. اگر عمران اور قیصر مجھ سے اجازت لیتے تو میں ہرگز انکار نہ کرتا. میں نے دونوں کو کہا کہ ایک ساتھ کھڑے ہو جاؤ. دونوں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو گئے میں نے اپنا ریوالور نکال لیا مزمل نے بولنا چاہا لیکن میں نے اسے پسٹل کے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا میں نے پسٹل ہوا میں لہرایا اور انہیں کہا کہ تم دونوں گدھے ہو مگر عقلمند گدھے. اور ریوالور اپنی جیب میں ڈال لیا. سب ساتھی کھلکھلا کر ہنسنے لگے. پہلے میں نے پھر تمام ساتھیوں نے انہیں مشن میں کامیابی کی مبارکباد دی. ماہا کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے. وہ ہچکیاں لیتے ہوئے کہنے لگی. میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری زندگی میں ایسا وقت بھی آے گا. جب میری زندگی کی کسی کو اتنی پرواہ ہو گی. سب سے پہلے کھٹمنڈو میں آپ نے میری جان بچائی. آپ کے اس عمل سے میں اتنی متاثر ہوئی. کہ میں نے پہلے موساد سے قطع تعلق کیا. اور پھر آپ کے گروپ میں شامل ہو گئی.آپ سب کے مخلصانہ رویے کا میں نے اس قدر اثر لیا. کہ اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر مسلمان ہو گئی. میرے کبھی وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ مسلمان اس قدر غیرت مند ہوتے ہیں. کہ کسی ان جانی عورت کی حرمت کے لیے کٹ مرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں. ینبع ائیر پورٹ پر قیصر نے جس طر ہیفل کو اپنے چاقو سے زخمی کیا. اور آج جس طر عمران اور قیصر نے میرے دشمنوں کو ہلاک کیا. اس سے مجھے فخر کہ میں نے وہ مذہب اختیار کیا ہے جس کے مرد اتنے غیرت مند ہوتے ہیں. اور یہ میرا فیصلہ کسی طور بھی غلط نہ تھا اور مجھے آج اپنے مسلمان ہونے پر اور مسلمانوں پر فخر ہو رہا ہے. جدہ جیسے بڑے شہر میں دن دھارے دو کاروں کا دھماکوں سے تباہ ہونا اور اس میں بیٹھے ہوئے آٹھ افراد کے جھلسے ہوئے جسموں کے ٹکڑے ملنا کوئی معمولی بات نہ تھی. جسے خاموشی سے نگل لیا جاتا. شام تک سارے شہر میں اس واردات کا چرچا اور لوگوں کی زبانوں پر طرح طرح کی باتیں تھیں.
سعودی قانون کے مطابق کوئی اخبار بھی صرف اپنے رپورٹروں کی دی ہوئی کرائمز کے متعلق خبریں شائع نہیں کرتے. جب تک کہ پولیس کی جاری کردہ پریس ریلیز اور اس جرم کے متعلق ایف آئی آر کی کاپی نہ مل جائے. اخبار نے دو روز بعد اس خبر کو شائع کرتے ہوئے لکھا کہ دو گاڑیوں کے آپسمیں ٹکرانے سے ان میں آگ لگ گئی. اور دونوں گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے لوگ جھلس کر ہلاک ہو گئے. خبر میں بم دھماکوں اور لاشوں کے ٹکڑے ہونے کا کوئی ذکر نہ تھا. ( ویسے بھی مرنے والے کا جسم سالم ہو یا ٹکڑوں میں بکھرا ہوا اس کو کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ وہ تو مر چکا ہوتا ہے) پولیس کئی روز تک اس لین میں رہنے والوں سے تحقیق کرتی رہی مگر کوئی چشم دید گواہ نہ مل سکا. ہمارے اپارٹمنٹ پر بھی دو افسر آے اور واقعہ کے متعلق پوچھ گیچھ کر کے چلے گئے. جب حادثہ والی جگہ کے قریب رہنے والے کچھ نہ بتا سکے تو پھر ہمجو حادثہ والی جگہ سے ایک کلومیٹر دور تھے کیا بتا سکتے تھے. اور ہم سے پولیس کو بھی کیاتوقع ہو سکتی تھی. انہوں نے تو انکوائری کر کے کاغذوں کا پیٹ بھرنا تھا اس لیے ہمارے پاس آے تھے. اس واقعہ کے دوسرے روز کرنل نبیل ہمارے پاس آیا. وہ بتانے کے لیے آیا تھا کہ کمانڈر انچیف سے آج سے پانچویں  روز جمعہ کے دن آپ سے ملاقات کریں گے. اور یہ ملاقات پہلے کی طرح ان کے ذاتی محل میں ہو گی. ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے نبیل نے زبان سے تو کچھ نہ کہا لیکن اس کی آنکھیں بتا رہی تھی کہ اسے پورا یقین ہے کہ اس حادثے کے پیچھے ہمارا ہاتھ ہے. نبیل نے رخصت ہونے سے پہلے بین السطور اس حادثے کا ذکر کیا. کہ سعودی عرب میں قانون سے بالا کوئی نہیں اور کوئی کسی بھی شخص کا کتنا ہی جانی یا ملکی دشمن کیوں نہ ہو اسے قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے میں نے کہا کرنل صاحب ہم سب سعودی قانون کا بے حد احترام کرتے ہیں. لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی اور ملکی اور ملکی دشمنوں سے جو سعودی قانون کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہمیں زک پہنچانے کے لیے کاروائی کرتے ہیں. تو ہم آپ کے ملکی قانون کے حرکت میں آنے سے پہلے(جو ہمیشہ واردات کے بعد ہی حرکت میں آتا ہے) اس دشمن سے خود نمٹ لیتے ہیں. نبیل کے جانے کے بعد میں مزمل قیصر اور عمران اور ماہا کو بلایا. اور نبیل سے ہونے والی گفتگو کا بتایا. میں نے اپنے ان ساتھیوں کو اپنی سوچ بتاتے ہوئے کہا کہ ہیفل نے خود ینبع ائیر پورٹ تک ہمارا پیچھا کیا. اور اپنے ذرائع سے ہمارے سامان میں مائیکروٹرانسمیٹر لگوا کر ہماری نقل وحرکت جاننا چاہی. ینبع میں قیصر نے اسے زخمی کر دیا تھا.
 
(Abdullah Chaudhary)
(03318602361)
 
 اگر وہ کسی کم زور حیثیت کا مالک ہوتاتو ہمارے جدہ پہنچنے پر ہمارا پیچھا نہ کرتا. اسے یہ بخوبی علم ہو گا. کہ ہم سعودی آرمی کی پشت پناہی میں ینبع میں کام کر رہے تھے. لیکن اس نے جدہ میں ہمیں ختم کرنے کے لیے اپنی ایجنسی کے آٹھ آدمیوں کو ہماری رہائش گاہ کا پتہ چلانے اور ہمیں ہلاک کرنے کے لیے بھیجا. ان آٹھوں کو بھی ہم نے ختم کر دیا. اس سے ہیفل کی انتقام کی آگ مزید بھڑک اٹھی ہو گی. وسائل کی اس کے پاس کمی نہیں ہمیں ہلاک کرنے کی پہلی کوشش میں ناکامی کے بعد وہ خاموش نہیں بیٹھے گا. بلکہ کسی نئی فعل پروف پلاننگ کے ساتھ ہم پر حملہ کرواے گا. زخمی ہونے کے باعث وہ خود تو اس مشن میں شریک نہیں ہو سکتا. لیکن اس کی ایجنسی کے لوگ جلد یا بدیر تک ہم تک ضرور پہنچ جائیں گے.
جاری ہے
                                               محمّد عنصر  عبّاس
تحریر ابو شجاع ابو وقار
قسط نمبر 63
ہیفل کے ماہا کو پہچاننے کے بعد ہمارا یکدم ینبع کو چھوڑنا اس کا ہیفل نے یہی مطلب لیا ہو گا. کہ ہم اس سے ڈر کر جدہ بھاگ آئے ہیں. اب ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں. پہلا یہ کہ ہمیں جتنے دن بھی سعودی عرب جدہ میں قیام کرنا ہے. وہ تمام وقت اپنے اپارٹمنٹ میں چھپ کر خوف ہراس کی صورت میں گزاریں. اور اسی صورت میں یہ بھی یقینی بات ہے کہ اس بلڈنگ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا بھی جا سکتا ہے. ہمارے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم ینبع جا کر ہیفل اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کر دیں. ہیفل کے وہم وگمان میں بھی یہ نہیں ہو گا. کہ ہم جو اس کی سوچ کے مطابق اس سے ڈر کر جدہ بھاگ آے تھے. واپس ینبع جا کو اس پر حملہ بھی کر سکتے ہیں. ماہا نے ہمیں ینبع جانے سے منع کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ اس کی وجہ سے ہم سب اب خطرے میں گر چکے ہیں. اور ینبع میں ہمیں مزید خطرات جا سامنا کرنا پڑے گا. مزمل عمران اور قیصر نے میری تجویز کی بھر پور حمایت کی. اور بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ صبح چار بجے ہم دو گاڑیاں لے کر ینبع کیطرف روانہ ہوں تو ساڑھے سات بجے سے پہلے ہم ینبع پہنچ جائیں گے. اور سیدھے ہیفل کی رہائش گاہ پر جا کر پہلے اسے اور بعد میں اس کے دوسرے ساتھی جو ساتھ والی رہائش گاہ میں رہتا تھا کو ہلاک کر کے واپس جدہ روانہ ہو جائیں گے. اگر سارا کام ہماری پلاننگ کے مطابق انجام پا گیا تو 12 بجے دن تک ہم جدہ واپس اپنی رہائش گاہ پر پہنچ جائیں گے. اور ہم نے یہ بھی طے کیا چونکہ یہ مشن ہمارے ساتھیوں کی زندگیوں کے ساتھ اب اٹیچ ہو چکا ہے لہذا اسے ضرور پائہ تکمیل تک پہنچائیں گے. ہیفل کے زندہ بچ جانے کے بعد ہم سب ساتھیوں کی موت یقینی تھی. ایسی صورت میں ہم پر اپنے بھرپور وسائل کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہوتا اس لیے ہم نے اپنے اپنے ریوالورَز کے علاوہ رائفلز اور 12 دستی بم بھی ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا. ہمارے لیے ہمارا یہ ہیفل پر حملہ زندگی اور موت پر منحصر تھا. اس لیے ہم نے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کر لیا. اس فیصلے کے بعد رضی اور جے سی او کی گاڑیوں کے انجن کی چیکنگ اور پٹرول ٹینک فل کروانے کا کہا. اس رات ہم سب جلد ہی سو گئے. صبح ساڑھے تین بجے ماہا اور سیما نے ہمارے لیے ناشتہ تیار کیا. اور ٹھیک چار بجے ہم سب کو الوداع کہتے ہوئے ینبع کیطرف روانہ ہو گئے. میرے ساتھ قیصر اور مزمل کے ساتھ عمران تھا. ہم نے آپسمیں یہ طے کیا تھا. کہ سفر کے دوران یا ینبع پہنچ کر کسی بھی وجہ سے اگر ہم چاروں میں سے صرف ایک ساتھی ہی ہیفل کو ختم کرنے کے قابل رہ جائے. تو وہ باقی ساتھیوں کو ان کے حال پر چھوڑ کو ہیفل کو ختم کرنے کی کوشش ضرور کرے.
قارئین میری اس بات کا مقصد ضرور سمجھ گئے ہوں گے. کہ ہم میں سے تین زخمی یا ہلاک بھی ہو جائیں تو چوتھا مشن سے بیک آؤٹ نہ کرے. تازہ دم رہنے کے لیے ہم سو کلومیٹر کے بعد ڈرائیونگ دوسرے ساتھی کے حوالے کر دیتے. ٹھیک پونے آٹھ بجے ہماری گاڑیاں ینبع شہر کی اس سڑک پر پہنچ گئیں جس کی ایک لین میں ہیفل اور اس کا ساتھی رہتا تھا. سعودی عرب میں معمول کی زندگی گیارہ بجے شروع ہوتی تھی. صبح کے آٹھ بجے اس سڑک پر ہو کا عالم تھا. اور ہیفل کے فلیٹ والی لین میں بھی صرف رہائشیوں کی گاڑیاں کھڑی تھیں. لیکن کوئی انسان دکھائی نہیں دے رہا تھا. ہم نے اپنی گاڑیاں مین روڈ پر ہی لین میں پارک کیں. اور اپنی قیمض پتلون سے باہر نکال کر بیلٹس میں ریوالور پھنسانے. اور تین تین دستی بم پتلون اور قمیض کی جیب میں رکھے. اور ہیفل کے فلیٹ کیطرف چل پڑے. یہ دونوں فلیٹ فرسٹ فلور پر تھے. انکی سیڑھیاں چڑھنے کے لیے دروازہ اندر سے بند تھااور دروازے کے ساتھ انٹر کام لگا ہوا تھا. یہ بند دروازہ اور ناجانے کتنے بند دروازوں سے گزر کر ہم ہیفل اور اس کے ساتھی تک پہنچ سکتے تھے. مزمل نے کہا کہ فائر کر کے ہم یہ بند دروازہ کھول سکتے ہیں مگر میں نے اس تجویز کو رد کر دیا. کیونکہ فائر کی آواز سن کر نہ صرف ارد گرد والے چونک جاتے بلکہ ہیفل اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر تحفظ کے لئے تیار ہو جاتا. سامنے سے فرسٹ فلور تک پہنچنے کا کوئی راستہ نا پاکر ہم چند گھر چھوڑ کر تنگ گلی سے گزر کراس بلڈنگ کی پشت پر آ گئے. وہاں پر ہر بلڈنگ کے حصول اور اخراج کے لیے پائپ لگے ہوئے تھے. ہیفل کے فلیٹ کی ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی. قیصر پھرتیلا اور تیز تھا جبکہ عمران نے فوج میں ایس ایس جی کی ٹریننگ لی ہوئی تھی. یہ دونوں کھڑی کے قریب والے پائپ پر تیزی سے چڑھے پہلے قیصر کھڑکی سے اندر کودا اور پھر عمران میں اور مزمل نیچے کھڑے بے چینی سے انکا انتظار کرنے لگے. میں نے مزمل کو بلڈنگ کی سامنے والی سائیڈ پر بھیجا کہ ہو سکتا ہے وہ سیڑھیوں والا دروازہ کھول کر ہمارے لیےاندر جانے کو ممکن بنا سکیں. دس بارہ منٹ انتظار کے بعد جب میں مزمل کی طرف جانے اور ریوالور سے دروازہ کھولنے کے لیے خود کو تیار کیا تو اچانک اوپر سے قیصر نے کھڑکی سے سر باہر نکال کر مجھے بلڈنگ کی فرنٹ سائیڈ پر آنے کا اشارہ کیا جب میں وہاں پہنچا تو قیصر نے سیڑھیوں والاڈور اوپن کر دیا قیصر کی رہنمائی میں ہم ایک کمرے میں پہنچے جو غالباً بیڈ روم تھا. اور ہیفل اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر بے خبر سو رہا تھا. اور اس کے دوسرے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی.میں ہیفل کے کمرے میں کھڑا ہو کر ہیففل کو آواز دی تو وہ ہڑ بھڑا کر اٹھا ہمیں اپنے کمرے میں کھڑے دیکھ کر ہیفل کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھٹی جا رہی تھیں . اسے اپنا انجام دکھائی دے رہا تھا وہ بخوبی سمجھ چکا تھا. کہ اس سے مزاکرات کرنے نہیں آئے ہیں.
عمران ہیفل کے سر کیطرف کھڑا تھا اور اس کے ریوالور کی نال ہیفل کے سر کو چھو رہی تھی. میں نے ہیفل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم سمجھ گئے ہو گے کہ ہم یہاں کیوں آے ہیں. تمہارا ہمارے ہاتھوں مرنا ایک مسلمہ امر ہے اب یہ تم پر منحصر ہے کہ اپنی موت کو آسان بنا لو. آسان موت کے لیے تمہیں صرف اتنا کرنا ہو گا کہ اپنے ساتھی کو بھی یہاں بلوا لو یا پھر ہمیں اس کے کمرے کا بتا دو. ہم وہ دروازہ بھی آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں مگر میں نہیں چاہتا کہ تم اپنے جسم کی کھال اترتے دیکھو. میں نے قیصر کو اشارہ کیا قیصر اپنا چاقو لے کر ہیفل کی طرف بڑھا ہیفل کہنے لگا نہیں نہیں مجھے گولی مار کر ختم کر دو. میں موساد کا جاسوس ہوں اور جب میں نے موساد میں شمولیت اختیار کی تھی تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میری موت طبعی نہیں ہو گی. میں ضرور قتل کیا جاؤں گا. پھر میرا اصل نام لیتے ہوئے ہیفل نے کہا کہ میں تمہارے متعلق سب کچھ جانتا ہوں. جینی بھی ہمیں چھوڑ کر تمہارے ساتھ شامل ہو گئ ہے. لیکن اب تم سب کی زندگیاں ختم ہونے والی ہیں. میں نے کل ہی ہیڈ کوارٹر کو جدہ میں ہمارے آٹھ ایجنٹوں کی موت کا بتا دیا تھا. میں تم سے زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا لیکن بحثییت انسان اور تمہارے ہم پیشہ ہونے کے بس یہی التجا کروں گا. کہ مجھے آسان موت دے دو میں مرتے وقت اپنے قوم اپنے ساتھیوں اور اپنے ملک سے غداری نہیں کر سکتا. اس لیے مجھے یقین ہے کہ تم میرے ساتھی تک پہنچ جاؤ گے پھر بھی میں تمہیں درمیانی دروازے کا نہیں بتاؤں گا. یہ کہہ کر ہیفل نے آنکھیں بند کیں اور اپنے مذہبی کلمات پڑھنے لگا. ہیفل کو ہم نے زندہ تو ہرگز نہیں چھوڑنا تھا. لیکن میں اس کی وطن پرستی اور قوم پرستی سے بڑا متاثر ہوا. کاش میرے وطن کے سبھی لوگ بھی ایسے ہی وفادار ہوتے تو آج ہم دنیا کے سامنے یوں شرمسار نہ ہوتے. ہیفل سے اب مزید کچھ اگلوانے کی توقع رکھنا بیکار تھا. یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم اسے ہلاک کر دیں گے اس نے جس جذبے کا اظہار کیا تھا ہم سب اس سے بہت متاثر تھے. ہمارے پاس اسے ختم کرنے کے لیے ریوالور اور رام پوری چاقو تھا وہ اب تک دعائیہ کلمات میں مشغول تھا. ریوالور چلانے سے اڑوس پڑوس جاگ جاتے لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ قیصر ہی چاقو سے اس کا کام تمام کر دے. ہیفل نے یک دم آنکھیں کھولی اور بولا کہ میں مرنے سے پہلے بھلائی کی تسبیح پڑھنا چاہتا ہوں. میں نے اجازت دے دی.
اس نے تسبیح اٹھانے کے لیے اپنا دائیاں بازو سر سے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر پڑی تسبیح اٹھانے کی بجائے اپنے تکیے کی طرف لے گیا میں ہیفل کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا. جونہی اس کا بازو تکیے کیطرف بڑھا میں نے عقاب کیطرح جھپٹ کر اسے پڑے دھکیلتے ہوئے اس کے تکیے کے نیچے سے پسٹل اٹھا لیا. یہ ویبلے اینڈ سکاٹ کا 32بور کا پسٹل تھا. اور اس پر سائلنسر بھی لگا ہوا تھا. یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ میرے ساتھی ابھی کچھ سمجھ ہی نہ پائے تھے. کہ میں نے ہیفل کے پسٹل سے اسی کے سینے پر دو گولیاں داغ دیں. گولیاں یقیناً ہیفل کے دل پر لگی تھیں. اسکا جسم بس ایک بار بیڈ پر اچھلا پھر ختم ہو گیا. ہیفل نے ہماری مشکل خود ہی آسان کر دی تھی. اس نے تو آخری وقت بھی اپنی عبادت کا جھانسہ دے کر ہمیں پھنسانے اور بے وقوف بنانے کی کوشش کی تھی. لیکن اللہ پاک نے ہماری مدد کی. اور ہم اس کے وار سے بچ گئے. سائلنسر لگے پسٹل سے ٹھس ٹھس کی بہت ہلکی آواز نکلی. یہ یقین کرنے کے بعد کہ ہیفل ختم ہو چکا ہے مزمل نے اس کے بے جان جسم پر چادر ڈال دی. لیکن اس سے پہلے اس کی مخصوص انگوٹھی اتار لی. بیڈ روم اور دوسرے کمرے کی تلاشی لینے پر ہمیں کئی ڈائریاں موساد کا کارڈ تین عدد ہینڈ گرنیڈ 6 آٹو میٹک رائفلیں 8 پسٹل اور انکی سینکڑوں کی تعداد میں گولیاں ملیں. ٹرانسمیٹر ہمیں کہیں دکھائی نہ دیا. میں نے ساتھیوں کو کہا کہ ٹرانسمیٹر یقینا اسی کمرے میں کہیں چھپا رکھا ہے. اسے ہم بعد میں تلاش کریں گے پہلے ہیفل کے ساتھی سے نمٹ لیں. اس کے فلیٹ سے چاروں کونوں میں کوئی ایسا دروازہ نہ تھا. جو دوسرے فلیٹ کے لیے ہو. سارے کمرے کو اچھی طرح دیکھ کر ہم  دوبارہ ہیفل کے بیڈ روم میں آ گئیے. اس بیڈ روم کے اٹیچ باتھ کی ایک دیوار دوسری دیوار سے تھوڑی الگ محسوس ہوئی. وہ دیوار جہاں دوسری دیوار سے ملتی تھی. وہاں صابن وغیرہ رکھنے کے لیے دیوار کے اندر ایک طاقچہ تھا. جس میں شیمپو وغیرہ پڑے تھے میں نے اس طاقچے کو خالی کیا تو دیوار کے ساتھ جڑا ہوا ایک کنڈا دکھائی دیا. میں نے کنڈے کو اندر کیطرف دبایا توٹائیل لگی دیوار سلائیڈنگ دروازے کیطرح اس دیوار کے بقیہ حصے کے اندر چلی گئی. اور چھوٹے دروازے جتنا خلا بن گیا. ہم ایک ایک کر کے اس دروازے سے دوسرے فلیٹ میں داخل ہوئے اور دبے پاؤں چلتے ہوئے دوسرے کمرہ چھوڑ کر جب تیسرے کمرے میں داخل ہونے لگے. تو عمران جو سب سے آگے تھا بھاگ کر کچن میں داخل ہوا وہاں تقریباً ایک جوان تھائی یا فلپائنی لڑکی برہنہ حالت میں ناشتہ بنا رہیتھی اس سے پہلے کہ لڑکی کی چیخ نکلتی. عمران نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا. اور اسے اٹھا ہوئے کچن سے باہر ہمارے پاس لے آیا. عمران نے ایک ہاتھ سے لڑکی کو اٹھا رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ بند کیا ہوا تھا. لڑکی خود کو چھڑوانے کے لیے ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی. قیصر نے اپنا چاقو نکال کر اس کی گردن پر رکھا. اور اسے اشارے سے چپ رہنے کا کہا. لڑکی نے چاقو کی تیز دھار گردن پر محسوس کی تو چپ رہنے کے لیے گردن ہلا دی عمران نے اسے نیچے اتارا. اب قیصر اس کے منہ پر ہاتھ رکھے اور گردن پر چاقو رکھے بیڈ روم کیطرف دھکیلنے لگا.
عمران اور مزمل نے اپنے پسٹل اور میں نے ہیفل والا پسٹل ہاتھ میں پکڑے بیڈ روم کا دروازہ آہستہ سے تھوڑا سا کھولا. وہاں بیڈ پر ایک آدمی کروٹ کے بل سویا ہوا تھا. میں نے اسکی کمر پر ٹہوکا دیا. تو اس نے آنکھیں بند کیے ہوئے کہا کہ ڈارلنگ میں تھوڑا سا سو لوں اتنی دیر میں تم ناشتہ بنا لو. یہ سن کر میں نے پسٹل کی نال اسکی گال پر لگاتے ہوئے کہا کہ ناشتہ بعد میں کر لینا پہلے اٹھ کر ہماری بات سن لو. مردانہ آواز سنتے ہی وہ ہڑبھڑا کر اٹھ بیٹھا. اس نے بھی کچھ نہیں پہن رکھا تھا.اور چادر سے جسم کو ڈھانپ رکھا تھا. ہم اسے اسلحہ سے کور کیے ہوئے تھے. قیصر نے لڑکی کی گردن پر چاقو لگا رکھا تھا. میں نے اسے کہا کہ بلکل خاموش رہے اور اپنے سر پر ہاتھ رکھ لے. اس نے فورا ہاتھ سر پر رکھ لیے ہمارے پاس تفتیش کا اب وقت نہیں تھا لہذا میں نے دو گولیاں اس کےسر پر داغ دیں. اس نے ایک چیخ ماری اور وہ بستر پر گر گیا لڑکی کو بھی زندہ نہیں چھوڑ سکتے تھے. میں نے قیصر کو کہا کہ اسے بستر پر گرا دو. اسے اپنا بھی انجام صاف دکھائی دے رہا تھا بستر پر گرتے ہوئے وہ بولی مجھے مت مارنا میں تو ہسپتال میں کام کرتی ہوں یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے اور ادھر میں نے ٹریگر دبا دیا. دو گولیاں اس کو بھی لگی وہ بھی ٹھنڈی ہو گئی یہاں بھی تکیے کے نیچے سے سائلنسر والا پسٹل نکلا. جب ہم نے اس کے فلیٹ کی تلاشی لی تو ایک کپڑوں والی الماری کھولنے پر اس کے اندر فٹ کیا ہوا بڑا ٹرانسمیٹر ملا. اس ٹرانسمیٹر کو بھی ہم نے کچن میں پڑے رولرز سے توڑ کر ناکارہ بنا دیا. اس کمرے سے بھی ہمیں ڈھیر سارے کاغذات خفیہ تحریر لکھنے والے کیمکلز تین رائفلیں 5 ریوالور اور انکی بہت سی گولیاں ساتھیوں کی مدد سے میں نے تین سوٹ کیسوں میں ان کا مکمل اسلحہ اور ایک سوٹ کیس میں تمام کاغذات ڈائریاں اقامے امریکن پاسپورٹ اور ان کے ڈرائیونگ لائسنس رکھ لیے. ہمارا کام پورا ہو چکا تھا ہم نے ایک ایک سوٹ کیس اٹھایا اور سیڑھیاں اتر کر لین میں آے اس وقت اکا دکا لوگ دکھائی دئیے جو اپنی گاڑیاں صاف کر رہےتھے. اپنے چہروں کو ممکنہ حد تک چھپاے ہم اپنی گاڑیوں تک پہنچے دو دو سوٹ کیس دونوں گاڑیوں کی ڈکیوں میں رکھ کر جدہ کے لیے روانہ ہو گئے. زیر تعمیر ایریا گزرنے کے بعد ایک چیک پولیس چیک پوسٹ آئی. وہاں گاڑیوں کی رفتار کم کر کے ایمرجنسی لائٹس آن کر کے گزرنا پڑتا تھا. وہیں پر ایک چھوٹی کنٹین بھی تھی. ہم نے دور سے دیکھا کہ اس چیک پوسٹ پر پولیس والے معمول سے ہٹ کر ہر گاڑی کے کاغذات وغیرہ چیک کر رہے ہیں. میں اگلی گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا. بجائے چیک پوسٹ پر جانے کے میں نے اپنی گاڑی چیک پوسٹ پر ملحقہ کنٹین پر روکی. اور قیصر اور میں گاڑی سے نکل کر کنٹین کیطرف بڑھے
عمران اور مزمل نے بھی گاڑی روکی اور وہ بھی کنٹین میں آ گئے. وہاں پر ہم نے کولڈ ڈرنکس ڈبل روٹی اور مکھن سے ناشتہ کیا. میں نے چیک پوسٹ پر کھڑے پولیس والوں پر نفسیاتی رعب ڈالنے کے لیے ایسا کیا تھا. پولیس والے ہمیں بھی دیکھ رہے تھے 30 منٹ بعد ہم کنٹین سے نکلے. اور گاڑیوں میں بیٹھ کر سٹارٹ کر کے بیرئیر چیک پوسٹ پر پہنچے وہاں پہنچ کر بجائے گاڑی سلو کرنے کے  روک دیں. کنٹین میں سگریٹ نہیں تھے. میں نے گاڑی سے نیچے اتر کر ان کے سئنیر پولیس والے سے کہا دخان سگریٹ کنیٹن سے بھی نہیں ملے بہت طلب ہو رہی ہے. کیا وہ ایک سگریٹ مجھے دے سکتا ہے میں نے یہ ساری بات انگریزی میں بیچ میں دو تین لفظ عربی کے شامل کر کے کی تھی. اس پولیس والے نے اپنی سگریٹ کی ڈبیا سے دو سگریٹ نکال کر مجھے دیتے ہوئے کہا کہ کہاں جا رہے ہو تو میں نے کہا کہ جدہ جا رہے ہیں اس نے کہا کہ یہاں سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر دو تین دوکانیں ہیں جو تمہارے وہاں پہنچنے تک کھل جائیں گی وہاں سے تم مزید سگریٹ خرید لینا. میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کے ساتھ ہاتھ ملا کر واپس اپنی گاڑی میں آ بیٹھا اس افسر نے بیرئیر پر کھڑے پولیس والوں کو اشارہ کیا کہ انہیں جانے دیا جائے اس طرح ہم وہاں سے بغیر چیکنگ اور کاغذات دکھائے  نکل گئے. تقریباً ساڑھے بارہ بجے ہم جدہ پہنچ گئے. ہمارے ساتھی بڑی بے چینی سے ہمارے منتظر تھے. میں نے انہیں آج کی مختصر ساری کاروائی بتائی. ماہا سب سے زیادہ پریشان تھی. یہ سن کر ہیفل اور اس کے ساتھی کو ہم نے ختم کر دیا اس کے چہرے پر چھائی ہوئی مایوسی خوشی میں بدل گئی. میں نے سائلنسر والا ایک پسٹل اسے دیا میں نے جان بوجھ کر اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ ہیفل نے ہیڈ کوارٹر اپنے 8 ایجنٹوں کے مرنے کی اطلاع کر دی تھی. کیونکہ ماہا موساد کے لمبے ہاتھوں سے بخوبی واقف تھی. اور یہ جان کر اس کا خوف اور بے چینی اور بڑھ جاتی. اپنے طور پر میں نے ساتھیوں سے کہا کہ اب ہم کو بےحد محتاط رہنا ہو گا. ہر ساتھی اپنے پاس لوڈڈ اسلحہ رکھے اور کوئی بھی ساتھی اکیلا باہر بھی نہ جائے. اب میں جدہ میں کمانڈر انچیف سے ملاقات کے انتظار میں تھا. پروگرام کے مطابق ہمیں جدہ سے کراچی اور پھر کراچی سے تہران جانا تھا. ہیفل سے مختصر گفتگو میں موساد کی حب الوطنی اور اپنے مشن سے لگاؤ اور چالاکی کا پتہ چلا تھا. ایک کہاوت مشہور ہے کہ ایک یہودی نے اپنے چار سالہ بیٹے کو ایک اونچی دیوار پر بٹھا کر اسے کہا کہ وہ نیچے کودے. اور وہ اسے اپنے بازؤوں میں تھام لے گا. بیٹا دیوار سے کودنے میں جھجکتا رہا. لیکن باپ کے بے حد یقین دلانے پر کہ وہ اسے تھام لے گا اسے کوئی چوٹ نہیں آنے دے گا. بیٹا بالآخر دل کڑوا کر کے نیچے کودا باپ نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے لڑکے کو کودنے کی وجہ سے کافی چوٹیں آئیں تو بیٹے نے کہا کہ آپ نے مجھے تھامنے کا وعدہ کر کے وعدہ خلافی کی ہے تو باپ بولا یہ سب میں نے تمہیں سمجھانے کے لیے کیا ہے کہ یہودی باپ بھی اگر وعدہ کرے تو اس کے وعدے کا کبھی یقین مت کرو. ہیفل نے بھی آخری دعا کے لیے ہم سے مہلت مانگی. تو اس نے ہماری نرمی اور اجازت دینے کا ہیفل نے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہا.
اگر ہم سے چند سیکنڈ کی بھی چوک ہو جاتی تو ہیفل کی بجائے ہماری لاشیں وہاں پڑی ہوتیں. آج ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے  یہودی اور یہودی نواز کارندے جس طرح ہمیں قرض دے کر بہلا رہے ہیں. مجھے اس کا انتہائی بھیانک انجام دکھائی دے رہا ہے شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے Mechant of venice( وینس کے سوداگر) میں یہودی ساہو کار شائی لاک انٹونیو کو روپیہ قرض دیتے وقت یہ شرط لکھواتا ہے. کہ بروقت قرض کی ادائیگی نہ کرنے پر وہ انٹونیو کے جسم سے جہاں سے چاہے گا. ایک پاؤنڈ گوشت کاٹ لے گا. اب پاکستان کے پاس قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ بے نظیر اور نواز شریف کا ایک ایک پاؤنڈ گوشت ان دونوں یہودی اداروں کی نظر کر سکیں.
ینبع سے جدہ واپس پہنچ کر ہم نے دن کا بقیہ حصہ اور رات آرام کرنے میں گزاری. اور دوسری صبح ہیفل اور اس کے ساتھی کے فلیٹ سے ملنے والے کاغذات اور ڈائریاں دیکھنی شروع کر دیں. مزمل عمران اور ماہا میرے ساتھ شریک تھے. ماہا ایک ڈائری کو جس میں الٹے سیدھے الفاظ اور ہندسے درج تھے. دیکھتے ساتھ ہی بولی یہ ڈائری تو ایک خزانہ ہے. اس میں موساد کا رائج کوڈ ڈی کوڈ اور سٹینڈ بائی کوڈ اورڈی کوڈ درج ہے. لیکن یہ صرف مڈل ایسٹ کے لیے ہے. پاکستان اور اس کے مشرقی ممالک کے لیے دوسرا کوڈ یوز ہوتا ہے. میں نے جو کوڈ اور ڈی کوڈ کی کتاب آپکو دی تھی. وہ پاکستان اور دوسرے مشرقی ممالک کے لیے ہے. جب تک موساد کو یہ علم نہ ہو جائے کہ ہیفل کے ساتھ یہ ڈائری بھی غائب ہو چکی ہے. وہ اسی کوڈ کو یوز کرتے رہیں گے. اس ڈائری میں اسٹینڈ بائی کوڈ بھی ہے. اس لیے موساد کے جو ایجنٹ مڈل ایسٹ میں ہیں. انہیں نیو کوڈ پہنچانے تک ایک مہینہ تو ضرور لگ جائے گا. اور اس وقت تک تمام ایجنٹوں کو مواصلاتی رابطہ بند ہونے کیوجہ سے کوئی اطلاع مل سکے گی. اور نہ ہی ہیڈ کوارٹر ان کو ہدایات دے سکے گا. سیدھی سادی انگلش میں لکھے کاغذات مزمل. میں اور عمران پڑھ رہے تھے. اور عربی زبان اور کوڈ میں لکھے ماہا دیکھ رہی تھی. ایسے ہی ایک کوڈ کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے جب ماہا نے پڑھا تو اس کے منہ سے اوہو نکل گیا. میرے پوچھنے پر ماہا نے کاغذ چھپاتے ہوئے کہا کوئی بات نہیں میں سمجھ گیا کہ ضرور کوئی ایسی بات ہے. جسے ماہا ہم سے پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے.
میں نے ماہا کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ماہا تم ہماری ٹیم کی ایک سئنیر ممبر ہو اور ہم تم پر اتنا اعتماد اور بھروسہ کرتے ہیں جتنا خود پر. مجھے یقین ہے کہ تم کچھ چھپا رہی ہو. اپنے خیال کے مطابق تم چاہے ہماری بہتری کے لیے ہی کر رہی ہو. لیکن یہ بھی تو ممکن ہے تو اس بات کو ہم سے پوشیدہ رکھ کر کسی انجانے اور آنے والے خطرے سے دور رکھنے کی بجائے خود کو اور ہمیں کسی بڑی مصیبت میں پھنسا رہی ہو. اس لیے جو تم چھپا رہی ہو ہمیں بتا کر خود کو اور ہمیں اس الجھن سے نکالو. ماہا نے میری بات سمجھتے ہوئے ایک کاغذ مجھے دیا. جسے اس نے ڈی کوڈ کیا تھا. یہ موساد کے ہیڈ کوارٹر سے ہیفل کے لیے آیا ہوا پیغام تھا. مختصر اور صرف دو فقروں میں. میں نے دو تین بار یہ انگریزی کے فقرے پڑھے اور کاغذ مزمل کو دے دیا. مزمل نے پڑھ کر عمران کو اور عمران نے پڑھ کر واپس مجھے دے دیا. مجھے ایسا. محسوس ہو رہا تھا کہ میرے ساتھی حوصلہ چھوڑ رہے ہیں. میں کھلکھلا کر ہنس پڑا اور عمران کو کہا کہ تمام ساتھیوں کو یہاں بلا لاؤ. چند منٹوں میں سب ساتھی ڈرائنگ روم میں جمع ہو گئے تو میں نے سب سے کہا. کل ہم ینبع میں ہیفل اور اس کے ساتھی کو ہلاک کر کے اور اس کے ٹرانسمیٹر کو تباہ کر کے ان کی ساری ڈائریاں کاغذات اور ڈھیر سارا اسلحہ لے کر بخیریت سے واپس پہنچ گئے تھے. ان میں سے ایک اس کاغذ پر موساد کے ہیڈ کوارٹر کے لیے پیغام ہے کہ ہم سب کو یہاں ہلاک کر دیا جائے. اور جینی کسی صورت زندہ واپس نہ جا سکے. میں آپ سب سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا یہ پہلی بار ہوا ہے. کہ ہمیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. کیا آج سے پہلے درجنوں بار ایسے مواقعے نہیں آئے جب ہمارے دشمنوں نے ہمیں ختم کرنے کی کوشش نہ کی ہو. کیا ہم نے آج تک ایک بار بھی دشمن سے منہ موڑ کر اور پیٹھ دکھا کر بھاگ کر جان بچائی ہو. یا ہمیشہ ہم نے خطروں میں کود کر دشمن کا صفایا کیا ہے. کیا یہ کاغذ کا چیتھڑا زیادہ اہم ہے یا اللہ پاک کا کلام جس میں صاف کہا گیا ہے. کہ زندگی اور موت اللہ پاک کی رضا اور مقررہ وقت پر ہی ہونی ہے. کیا حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ قول ہم نے نہیں سنا کہ موت تمہاری زندگی کی محافظ ہے. یعنی موت کا جو وقت مقررہ سے پہلے کوئی شخص ایسی جگہ پھنس جاے کہ اس کے بچنے کے کوئی چانس نہ ہوں اور اس شخص کی زندگی ابھی باقی ہو تو موت خود اسکی زندگی کی حفاظت کرے گی. کیونکہ ابھی اس شخص کا حقیقی موت کا وقت نہیں ٓآیا. موساد اور اس کر کرتا دھرتا کیا جن ہیں. یا صرف ہمارے جیسے انسان. آپ خود جانتے ہیں کہ صرف سعودی عرب میں ہم نے موساد کے کتنے ایجنٹوں کو ہلاک کیا ہے. اور وہ ہمارا ایک بال بھی بانکا نہیں کر سکے. ان تمام حقائق کے باوجود آپ میں سے کوئی بھی یا سبھی واپس جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں. میں نے آپکی مدد اور منثا پر جن مشنوں کا آغاز کیا ہے. میری نظر میں وہ جہاد ہے. اور جہاد کے لیے کسی سے زبردستی نہیں کی جا سکتی. آپ شوق سے واپس چلے جائیں. میں اکیلا ہی ان دشمنوں سے نمٹوں گا. اور آپ دیکھیں گے کہ میں ان شاء اللہ کامیاب وکامران واپس لوٹوں گا. میری یہ جذباتی مختصر سی تقریر ساتھیوں نے سنی. سب سے پہلے ماہا پھر قیصر مزمل عمران عبداللہ سیما جے سی اور دونوں سپاہیوں نے مجھے مکمل یقین دلایا. کہ وہ ہرگز ہرگز اس مشن سے دستبردار نہیں ہونگے. قیصر نے بڑی اچھی بات کہی کہ زندہ رہےتو غازی کہلائیں گے اور مر گے تو شہید کہلائیں گے. جن کی اعلی درجے اور ابدی زندگی کی اللہ پاک نے ضمانت دی ہے. بات تو ایک ہی ہے جسے مختلف زاویوں سے دیکھتا ہوں اور جو کچھ سمجھ میں آتا ہے. اسے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں. کہ شاید تیرے دل میں اتر جائے میری بات. مجھے ذاتی طور پر نہ تو کبھی الطاف حسین بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سے کوئی نقصان پہنچا ہے. اور نہ ہی میری آنکھیں ان معتبر فرشتہ سیرت شیریف ہستیوں کو کبھی دیکھنے کی گنہگار ہوئی ہیں. میں اپنے ایک گناہ کا اقرار کرتا ہوں. اور اس گناہ پر مجھے شرمندگی نہیں بلکہ فخر ہے. میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں. پاکستان سے محبت کرنے والوں سے مجھے پیار ہے. اور اس کے دشمنوں کے لیے میں قہر عذاب اور موت کا پیام ہوں. میں کوئی فلمی ڈائیلاگ نہیں لکھ رہا. بلکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ میرے خون کی ایک ایک بوند میں پاکستان کی محبت اور اسکی سوندھی مٹی کی خوشبو رچی بسی ہے. اور اس خوشبو میں کسی قسم کی  بدبو او اور غلاظت کو میں برداشت نہیں کر سکتا. اور ایک بات جس سے مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے. وہ اپنے ہم قوموں کی سادگی اور اس سادگی سے فائدہ اٹھانے والے یہ لومڑی کی خصلت والے لیڈر ہیں. شاید میرے ہم وطنوں کی یادداشت بھی کمزور ہے. اور وہ سقوط ڈھاکہ کی ذلت ذوالفقار علی بھٹو کا بھارت سے ہزار سال جنگ کرنے کا عہد روٹی کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ بھی بھول چکے ہیں. بے نظیر بھٹو کی لنترانیاں اور راجیو گاندھی کے اسلام آباد آنے پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں کشمیر نام کے ہر بورڈ نشان حتی کہ شاہراہ کشمیر کے سائن بورڈ کو کپڑوں اور بوریوں سے ڈھانپ دینے اور سکھ حریت پسندوں کی لسٹ راجیو گاندھی کو تحفتاً دینے کے واقعے کو بھول چکے ہیں. آصف زرداری کے مسٹر ٹین پرسنٹ سے ہنڈرڈ پرسنٹ بننے اور سرے محل اور عربوں کی جائیدادیں اور غیر ملکی کرنسی سے سوئٹزر لینڈکے بنکوں کو بھرنے کا واقعہ بھی فراموش کر چکے ہیں. نواز شریف کی قرض اتارو ملک سنوارو( مجھے سنوارو) اور غیر ملکی کشکول توڑنے کی بات بھی فراموش کر چکے ہیں. راے ونڈ کے محلات اورمغربی ممالک میں جائیدادیں خریدنے اور چارٹرڈ جہازوں سے ڈالر اور پاؤنڈ بیرون ممالک بنکوں میں اپنے اکاؤنٹس میں جمع کروانے کی باتیں بھی انہیں یاد نہیں ہیں. یقیناً یہی وجہ ہے کہ نواز شریف قید کی سزا بھگتنے ولا مجرم ہونے کے باوجود دوسرے مقدمات میں عدالت میں پیش ہونے کے دوران اخباری نمائندوں کے ذریعے پاکستانیوں کو پیغام دیتا ہے کہ تاجر حضرات حکومت کو ٹیکس ادا نہ کریں کیونکہ یہ حکومت ٹیکس لینے کی مجاز نہیں ہے.
کیونکہ نواز شریف بخوبی جانتا تھا کہ اس بھولی بھالی قوم کو بےوقوف بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے. میں اخباری نمائندوں سے بھی ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں. کہ کیا، وہ ہر سزا یافتہ مجرم اور قید بھگتنے والے قیدی کے بیان اور انٹرویو لیتے اور اپنے اخبارات میں شائع کرواتے ہیں. جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے. اس وقت بدقسمتی سے نواز شریف وزیراعظم تھا. جس نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دوسرے سائنسدانوں کی دن رات کی محنت لگن برسوں کی جدوجہد کا سہرا اپنے سر باندھ کر ان سائنسدانوں کو پس پشت ڈال دیا. اس وقت تو بیگم کلثوم نوازنے جو ملک کی خاتون اول تھیں. چاغی کیطرف ایک قدم بھی نہ رکھا. اور اب جب ان کے شوہرجیل میں اپنے کرتوتوں کی سزا بھگت رہے ہیں. تو پاکستان کا جھنڈا چاغی کے پہاڑوں ( یا ان پہاڑوں کے ماڈلوں) کے سامنے لہرا لہرا کر اور اخبارات میں اپنی فوٹو شائع کروا کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں. کہ پاکستان کی بقا صرف ان کے شوہر کی رہائی میں ہے. ادھر بے نظیر بھٹو کا بیان بار بار شائع ہو رہا ہے. کہ میں مشرف کے ٹیلی فون کے انتظار میں ہوں. مطلب یہ ہوا کہ اگر وہ پاکستان واپس نہ آئی. تو خدانخواستہ پاکستان ختم ہو جائے گا. اور شاید 14 کڑوڑ پاکستانیوں میں اس جیسا قابل کوئی اور نہیں ہے. جو ملک کو سنھبال سکے. الطاف ٹٹو لندن میں اپنی بانسری بجا رہا ہے. اور بزعم خود یہ سمجھتا اور پاکستانیوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے. کہ پاکستان سے علیحدگی اور جناح پور نام کی آزاد ریاست بننے میں ہی اس ریجن کے لوگوں کی بقا ہے. انہی لیڈروں کی شہہ اور لیڈروں کے ہاتھوں بکے ہوئے اخبارات کی بدولت تاجر حضرات بلا وجہ ہڑتال کو طول دے رہے ہیں. یقین جانیے پاکستان کی فوجی حکومت ہو یا سیاسی جنرل سیلز ٹیکس لازمی دینا پڑے گا. یہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے لیے ہوئے قرضے کی وجہ سےہے. کہ پاکستان کو ان دونوں یہودی اداروں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑ رہے ہیں. میں آپ سب سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں. کیا ان اداروں سے قرضے جنرل پرویز مشرف نے لیے تھے. یا بے نظیر اور نواز شریف کی دو دو بار حکومتوں میں لیے گئے تھے. ان دونوں کی ملکی خزانے کی لوٹ کھسوٹ اور قرضے کی رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں جمع کروانے کی وجہ سے ہی آج ہماری یہ حالت ہے. کہ ہمارے ملک کا 50 فیصد سے زائد ان قرضوں کی سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے. ان قرضوں سے ترقی اگر ہوئی ہے تو بے نظیر اور نواز شریف کی فیملیز کی ہوئی ہے. باقی قوم تو پہلے بھی مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی اور اب بھی پس رہی ہے اور ہمیشہ پستی رہے گی کیونکہ اس عوام نے کبھی بھی اپنی عقل سے کام نہیں لینا. پاکستانی عوام تو مہنگائی کے طوفان کو فیس کر لے گی. نیندیں تو ان لیڈروں اور ان کے حواریوں اور بیوروکریسی کی اڑی ہوئی ہیں. جن کے حلوے مانڈی کھانے کے دن گزر چکے ہیں. اور انکو مال بنانے کے ذرائع نظر نہیں آ رہے. اور یہی لوگ ہڑتالوں پر تاجروں کو اکساتے ہیں. یقین جانیے ان ہڑتالوں سے عوام کی مشکلات ضرور بڑھ جائیں گی. لیکن وہ مر نہیں جائیں گے بلکہ جلد ہی عادی ہو جائیں گے. موت تو ان تاجروں کی ہو گی. جن پر عوام اعتبار کرتی ہے. ویسے ہم عوام بھی عجیب مخلوق ہیں ہم ہر کسی پر بآسانی اعتبار کر لیتے ہیں. اور اس ہڑتال سے سب کو پتہ چل گیا ہے. کہ پاکستان کے وسائل اور دولت لوٹنے میں تاجر بھی سیاسی لیڈروں کے ساتھ برابر کے شریک تھے اور ہیں. مگر جب سب ختم ہو جائے گا پھر یہ پیار کے دو بول بولدیں گے تو یہی عوام پھر ان کے نعرے لگائے گی. ہم عوام کا حال بھیڑ چال جیسا ہے جو اپنی لاٹھی سے جدھر ہانکتا ہے ہم اسی طرف چل پڑتے ہیں یہ لیڈر آگے لگ کر جدھر لے جاتے ہیں ہم ادھر چلے جاتے ہیں عوام کو پتہ بھی ہے کہ ان سیاسی لیڈروں نے ہمیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے مگر ہم پھر ان لیڈروں کی چاپلوسی میں لگے ہوئے ہیں. ملک کے پیشتر سرکاری ادارے موٹر وے سرکاری بلڈنگز ائیر پورٹ ٹول پلازے بندرگاہیں سوئی گیس ایک ایٹمی پلانٹ چھوڑ کر سب کچھ ان دو حکومتوں کے لیڈروں مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے پاس گروی رکھ کر قرضے لے کر اپنی بنک اکاؤنٹس بھرے ملک پر جو لگایا وہ سب کو نظر آ رہا ہے. ان لیڈروں کے بس میں ہوتا تو ایٹمی پلانٹ بھی گروی رکھ کر اپنی تجوریاں مزید بھر لیتے. مگر شکر ہے کہ اس کا مکمل کنٹرول آرمی اور سیکرٹ اداروں کے ہاتھوں میں ہے. یہ سیاسی لیڈر ملک کے لیے ناسور ہیں. جو جمہوریت کے نام پر سیاہ دھبہ ہیں. خدارا اپنی آنکھیں کھولیں اور ان کالی بھیڑوں کو پہچانیں یہ سب کافروں کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں. اور ان کی منثا کے لیے یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں.
*جاری ہے*
x